جیل میں امن و امان کی صورتحال قابو کرنا جیل سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داری ہے :جسٹس قلندر علی خان

جیل میں امن و امان کی صورتحال قابو کرنا جیل سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داری ہے :جسٹس ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قلندرعلی خان نے کہا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیل میں امن وامان کی صورتحال کو قابومیں رکھے اوریہ کوئی اضافی ذمہ داری بھی نہیں کیونکہ بحیثیت جیلروہ قیدیوں کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دارہیں فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روز سینٹرل جیل پشاورمیں قید انڈین شہری حامد نہال انصاری کی جیل میں حفاظت سے متعلق رٹ کی سماعت کے دوران دئیے دورکنی بنچ جسٹس مسرت ہلالی اورجسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل تھا کیس کی سماعت شروع ہوئی تو نہال انصاری کے وکیل قاضی انورنے عدالت کوبتایا کہ درخواست گذار کو جاسوسی کے الزام میں ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزاسنائی ہے اوروہ اس وقت پشاورجیل میں قید ہے جسے ابتدائی طورپر پھانسی گھاٹ میں رکھاگیاتھا اورجیل حکام نے اس حوالے سے بیان حلفی دیاہے کہ اسے سکیورٹی کی بناء اسے ڈیتھ سیل میں رکھاگیاہے جس کی بناء مذکورہ رٹ واپس لے لی گئی تھی تاہم گذشتہ چند ماہ کے دوران درخواست گذار کو تین مرتبہ جیل کے اندر زخمی کیاگیاہے اس پرقیدیوں نے حملہ کیاتھا اورہسپتال میں وہ باقاعدہ طورپرزیرعلاج بھی رہا ہے مگراب اسے جس قیدی کے ہمراہ رکھاگیاہے وہ پہلے ہی ایک شخص کوذبح کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزاکاانتظارکررہا ہے قاضی انورنے مزید بتایا کہ ہیڈوارڈرروزانہ بلاوجہ اسے تشدد کانشانہ بھی بناتاہے جس کی شکایت سپرنٹنڈنٹ جیل کوبھی کی گئی ہے لہذادرخواست گذار کو محفوظ مقام پرمنتقل کیاجائے اس دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قیصرعلی شاہ اورسپرنٹنڈنٹ جیل مسعودالرحمان عدالت میں پیش ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل مسعودالرحمان نے بتایا کہ نہال انصاری کو سکیورٹی فراہم کرنے کے باعث ڈیتھ سیل میں رکھاگیاہے کیونکہ وہاں موجود قیدیوں سے اس کاجھگڑاہواتھا جس سے دونوں فریق زخمی ہوئے تھے اورجھگڑے کے بعد راضی نامہ بھی کردیاگیاتھا علاوہ ازیں مذکورہ ہیڈوارڈرکوبھی معطل کردیاگیاہے سپرنٹنڈنٹ جیل نے مزید بتایاکہ اس وقت جیل میں350قیدیوں کی گنجائش ہے مگرانہیں تین ہزارقیدیوں کورکھاگیاہے یہ معمولی نوعیت کے جھگڑے ہیں جومعمول کاحصہ ہیں اوروہ اس نوعیت کے واقعات کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دے سکتے کیونکہ زیادہ قیدیوں کے باعث یہ مسائل پیداہورہے ہیں جس پرجسٹس قلندرعلی خان نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کے واقعات پر کنٹرول رکھیں اس موقع پر عدالت نے سول سوسائٹی کی نمائندہ رخشندہ ناز اورسپرنٹنڈنٹ جیل کو ہدایت کی کہ وہ باہمی بیٹھ کراس مسئلے کاحل نکالیں اوردرخواست گذار سے بھی رائے لیں عدالت نے یہ بھی ہدایت کی مشترکہ رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے بعدازاں کیس کی

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...