ٹیکس وصولیاں ،ملک بھر میں ضلعی ٹیکس آفسز اور کمپوزٹ یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ

ٹیکس وصولیاں ،ملک بھر میں ضلعی ٹیکس آفسز اور کمپوزٹ یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ

  



لاہور (سپیشل رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے ٹیکس نیٹ و ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے ملک بھر میں ضلعی ٹیکس آفسز (ڈی ٹی اوز) اور کمپوزٹ یونٹس و کمشنریٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر ارشادکو رواں ماہ کے وسط تک آر ٹی اوزکے تحت بتدریج ڈسٹرکٹ ٹیکس آفسز قائم کرنے کے حوالے ورکنگ مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دستاویز کے مطابق حال ہی میں وزیراعظم کے مشیر برائے ریونیو ہارون اختر کی زیرصدارت ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں چیف کمشنرز کانفرنس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس میں چیئرمین ایف بی آر نثار محمد، ممبر ان لینڈ ریونیو، ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو سمیت تمام چیف کمشنرز نے شرکت کی۔ نجی ٹی وی نے ذرائع سے معلوم ہوا کہ اجلاس میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر آر ٹی او ساہیوال میں ڈسٹرکٹ ٹیکس آفس قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔دستاویز میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میںآر ٹی او ساہیوال میں ضلعی ٹیکس آفسز قائم کیا جائے گا جس کے بعد دیگر آر ٹی اوز کی حدود میں بھی بتدریخ ضلعی ٹیکس آفسز بنائے جائیں گے، ان آفسز کے ذریعے ملک میں رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس کے لیے سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ٹیکس دہندگان میں آگہی پیدا کی جائے گی

، ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے ضلعی سطح تک موثر انفورسمنٹ کی جائے گی، ان آر ٹی اوز کے تحت ملک بھر کے 56 اضلاع میں یہ خصوصی دفاتر قائم کیے جارہے ہیں جہاں مقامی سطح پر معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق تمام ماتحت اداروں میں قائم کیے جانے والے دفاتر کو دیے جانے والے اہداف کی ماہانہ بنیادوں پر مانیڑنگ کی جائے گی اور جائزہ لیا جائے گا۔ماتحت داراوں و فیلڈ فارمشنز میں قائم ٹیکس سہولتی مراکز کو کمپوزٹ یونٹس و کمشنریٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائیگا اور ابتدائی طور پر مفصل ایریاز میں ان مراکز کو کمشنریٹس و کمپوزٹ یونٹس اور ڈسٹرکٹ ٹیکس آفسز میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ ان میں تعینات افسران کو انفورسمنٹ کے مکمل اختیارات دیے جائیں گے، یہ افسران ٹیکس نیٹ بڑھانے، ود ہولڈنگ ٹیکس مانیٹرنگ اور ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کی مانیٹرنگ بھی کرسکیں گے تاہم زیادہ فوکس براڈننگ آف ٹیکس بیس پرکریں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...