مقبوضہ کشمیر : جھڑپوں میں مزید 100 زخمی‘ 500 گرفتار‘ نوجوانوں کی پاکستانی پرچم کیساتھ ریلی

مقبوضہ کشمیر : جھڑپوں میں مزید 100 زخمی‘ 500 گرفتار‘ نوجوانوں کی پاکستانی پرچم ...
مقبوضہ کشمیر : جھڑپوں میں مزید 100 زخمی‘ 500 گرفتار‘ نوجوانوں کی پاکستانی پرچم کیساتھ ریلی

  



سری نگر (اے این این + آن لائن+ این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم جاری ہیں۔ جمعرات کو بھی وادی میں کرفیو نافذ رہا۔ کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرے‘ ریلیاں ،کشمیر کے حق میں نعرے بازی ،نوجوانوں نے سبز ہلالی پرچم لہرا دیئے۔ این این آئی کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں لوگ وادی کے تمام دس اضلاع اور جموں کے علاقے کشتواڑمیںکرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست بھارت مخالف مظاہرے کئے۔انہوںنے نماز ظہر سڑکوں پر ادا کی اور کشمیرمیں جاری قتل عام کے خلاف احتجاج کیلئے احتجاجی دھرنے دیے۔ پولیس نے مظاہرین جو ”اقوام متحدہ جاگو جاگو ، ہم کیا چاہتے ہیں، رائے شماری اور ریاستی دہشت گردی مردہ باد“ جیسے نعرے لگاتے ہوئے سرینگر کے علاقے سونہ وار میں اقوام متحدہ کے مبصردفتر کی طرف مارچ کر رہے تھے پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ فوجیوں نے پہلگام میں ایک ریلی کے دوران نوجوانوں کے تین درجن سے زائد موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی۔ بھارتی فورسز نے کشتواڑ، شوپیاں، بانڈی پورہ اور راجوری سمیت متعدد علاقوںمیں مظاہرین پر آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

دریں اثنا 8جولائی کوحزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے سرینگر ، شوپیاں، کولگام، اسلام آباد ، پلوامہ اور دیگرعلاقوں میں 28 ویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیوں کا نفاذ برقرار رہا۔ بھارتی پولیس نے مظاہرے روکنے کیلئے مقبوضہ وادی کے مختلف مقامات سے 500 سے زائد نوجوان گرفتار کر لیے۔ بھارتی پولیس نوجوانوں کو گرفتار کرنے کیلئے رات کے وقت انکے گھروں پر چھاپے مارتی ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا ہے موجودہ تحریک آزادی اس کی شدت اور اس کے پھیلاﺅ کو شہید برہان وانی کے اس پر خلوص جذبے اور جرات کا ہی نتیجہ ہے آج رام بن سے ٹیٹوال تک کشتواڑ سے اوڑی تک اور لداخ سے گریز تک تمام مرد و زن یکسو ہو کر بھارت کے خلاف جدوجہد میں ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔ شمالی کشمیریوں ہزاروں شہریوں نے سرینگر، مظفر آباد شاہراہ پر دھرنا دینے کی کوشش کی جسے بھارتی فوج نے طاقت کے استعمال سے روک دیا۔ شمالی کشمیر ٹنگمرگ میں خواتین نے اگمنا گاﺅں سے احتجاجی ریلی نکالی اور قصبہ ٹنگمرگ تک مارچ کیا۔ پلہالن میں نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر شہری ہلاکتوں پر احتجاج کیا اور سرینگر، مظفر آباد شاہراہ پر دھرنا دینے کی کوشش کی جسے پولیس وفورسز نے ناکام بنا دیا۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین پر لاٹھی چارج، شیلنگ کی، جس سے بیسیوں زخمی ہو گئے۔ حریت کانفرنس نے آج (جمعہ کو) وادی بھر میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے ساتھ نوجوانوں سے نماز جمعہ کے بعد درگاہ حضرت بل کی جانب احتجاجی مارچ کی اپیل کی ہے۔ شام 6بجے کے بعد ہڑتا ل میں نرمی رہے گی، نوجوان دیواروں اور دکانوں کے شٹروں پرگو انڈیا گو بیک کے نعرے لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کرینگے۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے کہا ہے بھارتی حکمران جان لیں ظلم جب حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے۔ آسیہ اندرابی نے سرکاری اور نجی سیکٹر کے ملازمین سمیت ٹریڈ یونینوں کو عوام کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے وہ رواں مزاحمتی تحریک میں شریک ہوں۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں کشمیری نوجوانوں نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اٹھائے ریلی نکالی جس میں خواتین سمیت اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے نوجوانوں کی ریلی کا استقبال کیا۔

ریلی میں شریک ہزاروں نوجوانوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور بھارتی تسلط سے آزادی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس موقع پر بھارتی فورسز کے اہلکار بیرکوں میں دبک گئے اور کسی نے مشتعل نوجوانوں کا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی پر ان کے اپنے ہی آواز اٹھانے لگے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کے رہنما غلام حسن زرگار نے استعفیٰ دے دیا اور حریت تحریک کا حصہ بن گئے، اس سے قبل عوامی اتحادی پارٹی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما بھی پارٹی چھوڑ کر بھارت مخالف نعرے لگانے والوں میں شامل ہو چکے ہیں۔حریت رہنماﺅں نے ہڑتال 12 اگست تک بڑھا دی۔

مزید : بین الاقوامی