الیکشن کرپشن، ایک ووٹ اور 1500 روپے

الیکشن کرپشن، ایک ووٹ اور 1500 روپے
الیکشن کرپشن، ایک ووٹ اور 1500 روپے

  



اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں والد محترم اپنے جواں سال بیٹے کو جو حال ہی میں یونیورسٹی سے اعلی تعلیم مکمل کرکے  آیا ہے سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بیٹا عملی زندگی بہت مختلف ہے۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ بڑی احتیاط سے چلنا ہوگا۔ لیکن مجھے امید ہے تم جلدی سیکھ جاؤ گے۔ آخر تم میرے بیٹے جو ہوے۔ بیٹا سعادت مند ہے اور سینہ پھلا کہ کہتا ہے کہ کیوں نہیں ابا جی میں آپکی دعاؤں سے اور اپنی محنت سے ترقی جاری رکھوں گا۔ عملی زندگی مشکل ضرور ہوگی لیکن میری تعلیمی زندگی سے تو زیادہ کٹھن نہیں ہوگی۔ نہیں بیٹا مجھے امید ہے تم جلد ازجلد عملی زندگی کوسمجھ جاو گے۔ عملی زندگی مشکل بھی ہے اور پیچیدہ بھی ۔ 

والد صاحب اپنے جواں سال ہونہار بیٹے کو کچھ سمجھانا چاہتے ہیں ۔ جلد از جلد سمجھانا چاہتے ہیں۔ لیکن خودوالد صاحب کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیسے اور کن الفاظ میں سمجھایا جاے۔ ایک دو جملوں میں سمجھانے سے بات سمجھ نہیں آے گی۔ خود انکو بھی سجمھ نہیں آئی تھی۔ کئی برس لگے تھے خود ان کو سمجھنے میں ۔ جی میں آیا کھل کر بات سمجھائی جاے۔ بیٹا ایسا ہے کہ عملی زندگی بہت مختلف ہے ۔ کئی بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی تربیت تعلیمی اداروں میں نہیں دی جاتی۔پپا آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے بہت پڑھائی کی ہے۔ زندگی کے سترہ اٹھارہ سال کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خاک چھانی ہے۔ آخر کیا بات ہے جو میں نہیں جانتا؟ بیٹا عملی زندگی میں دو اور دو چار نہیں ہوتے۔ لیکن مجھے تم پر فخر ہے اور مجھے یقین ہے تم جلدی سمجھ جاو گے۔

اگر اس نوجوان کو جو یونیورسٹی سے تازہ ڈگری لے کہ آیا ہے سے درخواست کی جائے کہ موصوف جائیں اور اور ضلعی دفتر سے فلاں ہلکا پھلکا کام کروا کہ لے آئیں تو موصوف کی آزمائش شروع ہوا چاہتی ہے۔ اگر موصوف کو زیادہ انتظار کرنا پڑھ گیا۔ یا کچھ دفتری نوعیت کی انڈر لائینز پڑھنی اور سمجھنی پڑ گئی تو مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔ نوجوان موصوف کی قوت برداشت کا امتحان طوالت پکڑ سکتا ہے ۔

کرپشن ایک جامع اصطلاح ہے۔ بیوروکریسی کی کرپشن، سیاستدانوں کی کرپشن ، عدلیہ کی کرپشن ۔ الیکشن کرپشن۔ ہاں جی الیکشن کرپشن۔

میرے سامنے ایک صاحب کو فون آیا۔ بولے سرجی پچیس لاکھ لگیں گے۔ لوکل برادری کے لوگ ہیں۔ دو ہزار ووٹ ہیں۔ جی کیا کہا پیسے لے کر ووٹ نہ دےئے تو پھر کیا ہوگا؟ آ ُپ کے سامنے لتر ماریں گے جی! چلیں سر جی سوچ کہ بتائیے گا۔

پارٹی ٹکٹ کافی مہنگا بکتا ہے۔ زیادہ امیر لوگ ہی یہ والی کرپشن کرسکتے ہیں۔ ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک پولنگ سٹیشن کو جیتنے کے لیے دو تین لاکھ ایک ایسے شخص کو تھما دیے جائیں جو گاوں محلے کا گینگسٹر ہے۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو شام کو چلے جانا ہے۔ پھر غربا اور شرفا نے اس بات کو یقینی بھی بنانا ہوتا ہے کہ کوئی لوکل گینگسٹر انکی ہتک عزت نہ کردے۔ جدھر وہ کہے ادھر ہی ووٹ ڈالنے میں بھلا ہے۔

فی ووٹ پندرہ سو دو ہزار روپے بھی ریٹ سنا گیا ہے۔ ووٹ دیتے ہوے عمر بیت گئی ہے۔ کچھ بھی تو فائدہ نہ دیکھا۔ پندرہ سو روپے تو کافی رقم ہے۔ یہ ضمیر کے سودے والی بات سن سن کر کان تھک گیے ہیں۔ نہ ہم نے مسٹر ضمیرکو دیکھا نہ اسکی آواز سنی! پندرہ سو روپے میں غریب کا پیٹ دو تین بار تو بھر ہی سکتا ہے۔

رشوت، کرپشن ، بدعنوانی یہ صرف بیوروکریسی کرتی ہے کیا؟ معاشرے میں بدعنوانی ہے۔ کرپشن ہے۔ رشوت ستانی ہے۔ عوام اور سیاستدان بھی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے ان سے بھی کرپشن سرزد ہوتی ہوگی۔ اب الیکشن کمیشن کے پاس اتنی ٹیکنالوجی اور ذرائع تو نہیں ہیں کہ وہ سیاستدانوں کی اس کرپشن کو انصاف کے کٹہرے میں لاسکیں۔ویسے سرکاری فنڈز کے ذریعے حکومت وقت جو راے عامہ پر جھاڑو پھیرتی ہے۔اسے کیا نام دیں؟

قانون ساز اسمبلی سے کیا مرادہے؟ کچھ لوگوں کا مجمع یا اجلاس جس میں قانون بنایا جاتا ہے۔ شاید اس سے بھی کوئی آسان اور عام فہم تعریف اور توصیف ملتی ہو درج بالا اصطلاح کی۔ گھر بنانے کے لیے میسنز ، مزدوروں ، اور کارپنٹر درکار ہونے چاہیے۔جہاز اڑانے کے لیے پائلٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ورکشاپ چلانے کے لیے مکینیک کی ضرورت پڑتی ہے۔ لنگر پکانے کے لیے اچھے ماہر کک ڈھونڈے جاتے ہیں۔ قانون سازی کے لیے کس طرح کے لوگوں کی ضرورت پڑنی چاہیے؟ کیا آپ نے کسی ایسے شخص کو قانون بنانے تو نہیں بھیج دیا جو قانون سازی تو درکنار قانون سازی کو سمجھتا ہی نہ ہو؟ یا قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا ہو۔ یا قانون خرید لینے پر فخر محسوس کرتا ہو؟

سٹیٹ کی مشینری کون لوگ چلا رہے ہیں؟ تعلیمی ادارے کون لوگ چلا رہے ہیں؟ آپکی بیوروکریسی کون چلا رہا ہے؟ آپ کی عدالتیں کون چلا رہا ہے؟ آپ کے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کون کررہا ہے؟ آپ کے ملک کی صحافت اور میڈیا کون چلا رہا ہے؟ یہ لوگ آپ کے ملک کی کریم ہیں۔یہ لوگ آپ کے بیٹے ہیں۔ آپکے بھائی ہیں۔ آپکے رشتے دار ہیں۔ یہ لوگ آپ کے ملک کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اور قانوں ساز اسمبلی باقی عوام اور ان سب اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے قوائد و ضوابط مرتب کرتی ہے۔ قانون سازی کرتی ہے۔ آپ نے جن لوگوں کو چنا ہے وہ آپکی بیوروکریسی، آپکی عدالتوں ، آ پکے ملک کی صحافت اور میڈیا کے لیے حدود و قیود متعین کریں گے۔ان کے لیے قانوں سازی کریں گے۔

اللہ ہمارا حامی اور ناصر ہو۔

(سردارپرویز محمود کشمیر یورپیئن الائنس کے صدر ہیں اور مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ،آپ ان سے اس ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں : President@kashmirea.com)

نوٹ : ادارے کا کسی بھی بلاگر سے رائے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ