وہ ہتھیار جسے بھارت نے 200 ارب روپے خرچ کرکے خریدا، ’ناکارہ‘ نکلا، بھارتی فوج کیلئے بڑی شرمندگی کا باعث بن گیا

وہ ہتھیار جسے بھارت نے 200 ارب روپے خرچ کرکے خریدا، ’ناکارہ‘ نکلا، بھارتی فوج ...
وہ ہتھیار جسے بھارت نے 200 ارب روپے خرچ کرکے خریدا، ’ناکارہ‘ نکلا، بھارتی فوج کیلئے بڑی شرمندگی کا باعث بن گیا

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے 200ارب روپے خرچ کرکے روس سے مگ 29کے (MiG-20K)لڑاکا طیارے خریدے جنہیں بھارت اپنے فضائی بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دے رہا تھا، مگر اس کی یہ ریڑھ کی ہڈی ناکارہ نکلی ہے جس کے باعث بھارتی فوج کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یو کے ڈیفنس جرنل کی رپورٹ کے مطابق مگ 29کے طیاروں میں بے تحاشا خامیاں ہے۔ اس کے ایئر فریمز، انجن اور فلائی بائی وائر سسٹم لگ بھگ ناکارہ ہیں جس کے باعث ان طیاروں کو کسی بھی جنگی آپریشن میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت کی سرحد پر آسمان میں اچانک ایسی چیز نمودار کہ بھارتی فضائیہ کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے کیونکہ...

رپورٹ کے مطابق بھارت نے 200ارب روپے میں روس سے 45 عدد مگ 29کے طیارے خریدے تھے۔یہ طیارے وہ اپنے بحری بیڑوں آئی این ایس وکرم آدتیہ اور آئی این ایس وکرانت پر تعینات کرنا چاہتا تھا مگر بے بہا خامیوں کے باعث ان کی سروس ایبلٹی اور آپریشنل اویلیبلٹی (Operational availability) بالترتیب 15.93فیصد اور 37.63فیصد ہے جو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بھارت نے نیا بحری بیڑہ آئی این ایس وکرم آدتیہ خاص طور پر STOBARکیریئر کے طور پر تیار کیا ہے جس سے روایتی فکسڈ ونگ جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر دونوں آپریٹ کر سکتے ہیں۔ اسی بیڑے پر تعینات کرنے کے لیے روس سے یہ جنگی طیارے خریدے گئے تھے، مگر ان کی بے شمار خامیوں نے ساری منصوبہ بندی پر پانی پھیر دیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...