ڈاکٹر زاکر نائیک کے بعد مودی حکومت نے ایک اور معروف مذہبی سکالر کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ،عالمی دہشت گرد تنظیم سے تعلق جوڑنے کی ابتدائی تیاریاں مکمل کر لیں

ڈاکٹر زاکر نائیک کے بعد مودی حکومت نے ایک اور معروف مذہبی سکالر کو نشانہ ...
ڈاکٹر زاکر نائیک کے بعد مودی حکومت نے ایک اور معروف مذہبی سکالر کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ،عالمی دہشت گرد تنظیم سے تعلق جوڑنے کی ابتدائی تیاریاں مکمل کر لیں

  



کیرالہ(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مودی حکومت اسلام فوبیا کا شکار ہو گئی ،ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بعد  ان کے شاگرد سمجھے جانے والے معروف اسلامی اسکالر ایم ایم اکبر کے تعلیمی اداروں’’پیس انٹر نیشنل سکول‘‘کا تعلق عالمی دہشت گرد تنظیم ’’داعش ‘‘ سے جو ڑ دیا ،تحقیقاتی ایجنسیوں کو ایم ایم اکبر اور پیس انٹرنیشنل سکول پر گہری نظر رکھنے کی ہدائت کر دی ۔

بھارتی راست کیرالہ کے مشہور اسلامی اسکالر اورایم ایم اکبر جو  ڈاکٹر زاکر نائیک ہی کی طرح تقابل ادیان کے حوالے سے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں نے کیرالہ ،تامل ناڈو اور کرناٹک میں وسیع پیمانے پر ’’پیس انٹر نیشنل سکول‘‘ کے نام سے تعلیمی ادارے قائم کئے ہوئے ہیں جہاں بارویں جماعت تک طلباء کو جدید اور اسلامی تعلیم دی جاتی ہے،ایم ایم اکبر کے تعلیمی اداروں میں ہزاروں طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔بھارتی تحقیقاتی اداروں نے الزام لگایا ہے کہ گذشتہ چند ماہ میں کیرالہ سے 21افراد پراسرار طور پر لاپتا ہوئے ہوئے ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ وہ عالمی آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کے لئے بھارت چھوڑ چکے ہیں ۔بھارتی سیکیورٹی اداروں نے الزام لگایا ہے کہانہوں نے یاسمین شیخ نامی ایک خاتون کو داعش میں شامل ہونے کے لئے کابل جاتے ہوئے گرفتار کیا ،یاسمین شیخ پیس انٹر نیشنل سکول میں انگریزی کی ٹیچر بتائی جارہی ہیں،سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کیرالہ سے غائب ہونے والی عشا اور میرین عرف مریم بھی پیس انٹرنیشنل سکول میں ہی پڑھاتے تھے ،جبکہ اس ادارے کے پی آر او راشد اور اس کی اہلیہ عائشہ بھی غائب ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی داعش میں شامل ہونے کے لئے بھارت چھوڑ چکے ہیں ۔

بھارتی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کیرالہ سے اتنے سارے لوگوں کا ایک ساتھ غائب ہونا اورلاپتا ہونے والے تمام افراد کا پیس انٹرنیشنل سکول سے وابستہ ہونے سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ،ہم اس ادارے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ادارے کے انتظامی افسران سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں جبکہ ایم ایم اکبر ان دنوں سعودی عرب میں مقیم ہیں ،ان کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں ۔یاد رہے کہ ایم ایم اکبر بھارت میں انتہائی مقبول ہیں ،کیرالہ میں انہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا عکس کہا جاتا ہے ،ان کا انداز تقریر اور گفتگو ڈاکٹر ذاکر نائیک ہی کی طرح ہے ،اور حاضرین کی جانب سے کسی بھی قسم اور سخت سے سخت سوالات کا برجستہ اور فوری جواب دینے کی صلاحیت سے مالا مال ایم ایم اکبر فرقہ وارانہ تبلیغ کے بھی مخالف سمجھے جاتے ہیں ۔

مزید : بین الاقوامی


loading...