جان شیر خان موجودہ سکواش کھلاڑیوں سے انتہائی مایوس

جان شیر خان موجودہ سکواش کھلاڑیوں سے انتہائی مایوس

لاہور( سپورٹس رپورٹر)انڈیا میں حالیہ منعقد ہونے والے ورلڈ جونیئر سکواش ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مایوس پرفارمنس پر سابقہ عالمی چمپین جان شیر خان نے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سکواش ٹیم کی ورلڈ جونیئر ٹورنامنٹ میں کارکردگی نے عوام کو مایوس کیا ہے اور انکی اس کارکردگی سے عوام کو بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے۔4 مرتبہ سوپر سیریز کے ریکارڈ ہولڈر جان شیر خان نے کہا کہ ورلڈ جونیئر جیسے بڑے ٹورنمنٹ میں پلیئرز کی سلیکشن میں کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں اور ایسے نااہل کھلاڑیوں کو سلیکٹ کیا ہے جو انڈیا میں پاکستان کی بدنامی کا سبب بنے ہیں جو کہ نہایت افسوس کا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ جونیئر ٹیم میں جو پلیئرز سلیکٹ کیے گئے تھے ایک تو وہ نااہل تھے اور دوسرے ان پلیئرز کی صحیح طرح سے ٹریننگ بھی نہیں کی گئی تھی پاکستان سکواش فیڈریشن کے کوچز اور ٹرینرزکھلاڑیوں کو اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے تیار کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔اور یہ وجوہات ہی ہماری شکست کا باعث بنی۔ 10 سال تک سکواش کی دنیا کے بے تاج بادشاہ جان شیر خان نے مذید کہا کہ پاکستان سکواش فیڈریشن کو اس سلسلے میں سخت سے سخت اقدام اُٹھانے چاہیں اور مکمل تحقیقات کرنی چاہیے اور جو افراد بھی اس بدنامی کا سبب بنے ہیں اُنکے خلاف کاروائی کرنی چاہیے اور ورلڈ جونیئر جیسے عظیم ٹورنمنٹ میں غفلت برتنے پر تمام قصوروار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔ کیونکہ کوچز، ٹرینرز اور پلیئرز پر اتنا خرچ کرنے کے باوجود انڈیا میں اتنی شرمناک ہار نامناسب ہے۔سابقہ عالمی چمپین جان شیر خان نے کہا کہ ہار جیت تو گیم کا حصہ ہے مگر جسطرح کی شرمناک شکست سے دوچار ہوئے وہ انتہائی افسوس ناک ہے کیونکہ سکواش کے کھیل میں ان ممالک کا تو کوئی مناسب مقام ہی نہیں ہے۔ فخر پاکستان نے مذید کہا کہ میرے خیال میں PSF نے نااہل پلیئرز کو ورلڈ جونیئر ٹورنمنٹ میں بھیج کر ملک اور قوم کے پیسوں کا ضیائع کیا ہے۔ جو رقم PSF نے ورلڈ جونیئر میں پلیئرز اور سٹاف کی شرکت کرنے میں لگائی ہے اگر اُسی رقم سے پاکستان میں کوئی انٹر نیشنل لیول کا جونیئر ٹورنامنٹ منعقد کرواتے تو اس سے ہمیں ڈبل فائدہ ہوتا۔

ایک تو دنیا بھر کے انٹرنیشنل جونیئر پلیئرز اس ٹورنمنٹ میں حصہ لیتے اور دوسرا ہمارے وہ متعدد جونیئر پلیئرز جو کہ اس ٹورنمنٹ کا حصہ نہیں تھے وہ بھی اس ٹورنمنٹ سے کافی حد تک مستفید ہوتے اور ساتھ ہی سکواش میں ان جونیئر کھلاڑیوں کی لگن میں اضافہ ہوتا اور وہ مستقبل میں ملک کے لیے اعزازات لانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرتے اور ساتھ ہی اس ٹورنمنٹ سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بھی بہت اچھا ہوتا۔ جان شیر خان نے آخر میں انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 1986 میں میرے جیتنے کے بعد تا حال پاکستان اتنا بڑا جونیئر ٹورنمنٹ جتنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی