سینیٹ کی کمیٹی سے تحقیقات کی تجویز

سینیٹ کی کمیٹی سے تحقیقات کی تجویز

سینیٹ کے رُکن(اور سابق چیئرمین) رضا ربانی نے الیکشن کمیشن کے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کی ناکامی کی چھان بین سینیٹ کے پورے ایوان کی کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اُن کا کہنا ہے کہ آر ٹی ایس کی ناکامی نے پورے الیکشن پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں، سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے آر ٹی ایس کی ناکامی سے متعلق انکوائری کمیٹی بنانے کے لئے کابینہ ڈویژن کو لکھے گئے خط پر رضا ربانی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کے قیام کے حوالے سے ٹی او آر مبہم ہیں وہ آر ٹی ایس کی مکمل ناکامی اور اصل مسائل کا احاطہ نہیں کرتے، ٹی او آر میں آر ٹی ایس کی ناکامی کے بنیادی مسئلے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹی و آر میں نادرا کے اس موقف کا ذکر نہیں کہ سیکرٹری الیکشن کمشن کے ٹی وی پر اس اعلان کے وقت کہ آر ٹی ایس سسٹم نے کام چھوڑ دیا ہے، یہ سسٹم پوری طرح کام کر رہا تھا۔

پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ مکمل ہونے کے بعد گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے کی شکایت تو تمام سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں،بلکہ ایسے امیدوار بھی اِس ضمن میں شکایت کرتے پائے گئے ہیں،جو الیکشن جیت بھی چکے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ الزام محض ہارنے والے نہیں لگا رہے ہیں،چونکہ الیکشن کمیشن بار بار اِس الزام کو رد کر رہا ہے،حالانکہ کہیں کہیں سے ایسی شکایات بھی ملی ہیں کہ گنتی پر پریذائیڈنگ افسروں تک کا کوئی کنٹرول نہیں تھا،گویا اُن کا کردار صرف پولنگ تک تھا اس کے بعد اُن کی موجودگی یا غیر موجودگی بے معنی ہو گئی تھی،گنتی اُن کی موجودگی میں نہیں ہوئی،پھر 16لاکھ70 ہزار ووٹ مسترد ہونے کا معاملہ بھی سنگین ہے، اِس سے پہلے دس انتخابات ہو چکے ہیں اور غالباً کبھی اتنی بڑی تعداد میں ووٹ مسترد نہیں ہوئے،یہ سوال تھوڑے مارجن سے ہارنے والے امیدوار ہر فورم پر تسلسل کے ساتھ اُٹھا رہے ہیں، دوبارہ گنتی کی جو درخواستیں دی جا رہی ہیں وہ بھی اِسی لئے ہیں، ’’ری کاؤنٹنگ‘‘ کا تصور یہ نہیں ہے کہ صرف مسترد شدہ ووٹ دوبارہ گن دیئے جائیں۔ مسترد شدہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی تو لازمی قانونی تقاضہ ہے۔ یہ مناسب نہیں کہ اس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ پہلے سے جیتنے والا امیدوار اب کم یا زیادہ مارجن سے جیت گیا ہے، بلکہ اس کی روح یہ ہے کہ تمام ووٹوں کی گنتی کی جائے اور اس انشراحِ صدر کے ساتھ کی جائے کہ کوئی بھی امیدوار جیت یا ہار سکتا ہے۔ تقریباً یہی نکات خواجہ سعد رفیق نے لاہور ہائیکورٹ میں اٹھائے تو عدالت عالیہ نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے حلقہ این اے 131 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا ہے۔

اگر دوبارہ گنتی یہ سوچ کر کی جائے گی کہ پہلے سے جیتے ہوئے امیدوار کو ہی دوبارہ جیت کا سرٹیفکیٹ دینا ہے تواس سے دوبارہ گنتی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، بہت سے امیدواریہ شکایت کرتے پائے گئے ہیں کہ دوبارہ گنتی میں جب اُن کے ووٹ بڑھنے لگے تو اچانک یہ سلسلہ روک دیا گیا گیا،دوبارہ گنتی کا بنیادی مقصد تو ہارنے والے امیدوار کو مطمئن کرنا ہوتا ہے،لیکن اگر اس کی شکایت باقی رہے تو اس سارے عمل اور مشقت کا کیا فائدہ؟اِس لئے بہتر یہ ہے کہ اِس عمل کو بھی شفاف بنایا جائے۔

متحدہ اپوزیشن نے8اگست کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے، دوسرے مقامات پر بھی احتجاجی مظاہرے ہوں گے اِس کے بعد جب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تو احتجاج اسمبلی کے اندر منتقل ہو جائے گا،احتجاج کی اِن لہروں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ رضا ربانی کی تجویز مان لی جائے اور آر ٹی ایس کی خرابی سمیت الیکشن کی گنتی سے متعلق تمام شکایات سینیٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی کے سپرد کر دی جائے تاکہ وہ کسی نتیجے پر پہنچ سکے،الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان یہ ناخوشگوار بحث چھڑ گئی ہے کہ سسٹم ٹھیک کام کر رہا تھا اس کی خرابی کا اعلان غلط کیا گیا، دونوں ادارے خرابی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دے رہے ہیں اب اگر ذمے داری کا تعین درست طور پر کرنا مقصود ہے تو اس کے لئے رضا ربانی کی تجویز بہترین ہے، سینیٹ ایک مستقل ادارہ ہے جو قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد بھی قائم رہتا ہے اور اپنا کردار ادا کرتا ہے، اگر یہ معاملہ سینیٹ کی فل ہاؤس کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے اور وہ اپنے ٹی او آر بنا کر معاملے کی تحقیقات شروع کرے تو امید ہے وہ کسی درست نتیجے پر پہنچ جائے گی،لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن واقعتا یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ آر ٹی ایس کیوں ناکام ہوا تھا اگر ایسی کسی تحقیقات کا مقصد محض وقت گزاری، لیپا پوتی یا اپوزیشن کے متوقع احتجاج کو کول ڈاؤن کرنا ہے تو پھر ایسی تحقیقات سے بھی کیا حاصل؟لوگ تو اپنی اپنی رائے پر قائم ہیں۔

ووٹوں کے غیر معمولی تعداد میں استرداد کا معاملہ بھی ایسا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ مسترد کیوں ہوئے، گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو نکالنے کی شکایت پیدا نہ ہوتی تو شاید اس معاملے میں کوئی سوال نہ اٹھتا،کیونکہ اُنہیں معلوم ہوتا کہ کون سا ووٹ کِس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا ہے، لیکن یہ شکایت بھی مسلسل کی جا رہی ہے اور الیکشن کمیشن بھی بار بار سختی کے ساتھ یہ شکایت رد کر رہا ہے، اِس کا حل بھی یہی ہے کہ اس معاملے کو بھی سنجیدہ تحقیقات کا مستحق سمجھا جائے۔

الیکشن کمیشن اپنے موقف کی حمایت میں جن غیر ملکی مبصرین کی رپورٹوں اور رائے کو پیش کر رہا ہے وہی مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ16 لاکھ70ہزار ووٹ مسترد ہوئے اور جن حلقوں میں یہ مسترد ہوئے وہاں جیتنے والے چند سو ووٹوں سے جیت گئے،اگر اِس کی حقیقت بھی سامنے آ جائے تو عوام مطمئن ہو سکیں گے، محض وقت ضائع کرنے کے لئے ادھوری تحقیقات سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ تحقیقات جامع اور ہمہ گیر ہونی چاہئیں۔

مزید : رائے /اداریہ