دیامر میں دہشت گردی، دشمن کا نیا حربہ؟

دیامر میں دہشت گردی، دشمن کا نیا حربہ؟

دہشت گردوں نے اب گلگت، بلتستان کا رخ کر لیا اور دیامر جیسے اہم علاقے میں تعلیمی اداروں پر حملے کئے گئے،طالبات کے20سکولوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، بتایا گیا کہ ایک ہی رات میں بیک وقت چلاس، داریل، تبوڑ اور تانگیر میں یہ کارروائی کی گئی، جن سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں دو آرمی پبلک سکول بھی شامل ہیں، وزیراعلیٰ گلگت، بلتستان نے ملزموں کی گرفتاری کے لئے احکام جاری کئے تو یہاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لے کر جی بی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔دہشت گردی کی اِس کارروائی کو تعلیم دشمن عناصر کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو خصوصی طور پر طالبات کی تعلیم کے مخالف ہیں،لیکن دیامر جیسے مقام پر ایسی دہشت گردی سے کچھ اور ہی اندازہ ہوتا ہے کہ دیامر وہ مقام ہے جہاں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مقصود ہے، پہلے اِس ڈیم کا نام صرف بھاشا ڈیم تھا،لیکن محل وقوع کی بنیاد پر مکینوں کے پُرزور مطالبے کے باعث اس کا نام دیامر بھاشا ڈیم کیا گیا تھا۔یوں اس دہشت گردی کے مقاصد میں اس ڈیم کی تعمیر کے لئے بھی خطرے کی نشان دہی مقصود نظر آتی ہے۔آج کل پاکستان میں پانی کی قلت کا احساس اُجاگر ہوا ہے اور ڈیموں کی تعمیر اہمیت اختیار کر چکی ہے،اِسی کے پیشِ نظر سپریم کورٹ نے بھاشا، مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لئے فنڈ قائم کیا جس میں عطیات تیزی سے جمع ہو رہے ہیں، ان حالات میں دیامر میں اتنی بڑی واردات تشویش اور پریشانی کا باعث ہے، ہمارے عسکری اور دہشت گردی کے خلاف سرگرم اداروں اور حکام کو بھی اس کا فوری نوٹس لینا چاہئے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ یہ تخریب کار قانون سے بچ نہ پائیں تاکہ ان کی طرف سے خوف و ہراس پیدا کرنے کے لئے جو کارروائی کی گئی اس کے اثرات زائل ہوں۔جہاں تک پاکستان کی اپنی سرحد کے اندر کارروائیوں کا تعلق ہے تو یہ سب بیرونی مُلک دشمن قوتوں کے ایما اور معاونت سے ہوتی ہیں،ہماری مسلح افواج اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی موثر کارروائیوں سے وارداتوں میں کمی تو ہوئی،لیکن دہشت گرد نابود نہیں ہوئے اور ان کی طرف سے وقفہ وقفہ سے ایسی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں، عام انتخابات کے دوران بھی حملے کئے گئے تھے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر موثر طور پر عمل کیا جائے،مختلف محکموں اور شعبوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی بھی اشد ضرورت ہے، مستقبل کی حکومت کے لئے یہ بھی ایک مسئلہ اور چیلنج ہے،چونکہ سلسلہ پہلے سے جاری ہے،اِس لئے تحریک انصاف اور چیئرمین عمران خان کے ذہن میں کوئی حل ہو گا،لہٰذا جو امور اول ترجیح کے حامل ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے،اِس لئے ذہن تو پہلے سے بنا ہو گا، ضرورت تیزی سے عمل درآمد کی ہو گی کہ دہشت گردی ختم ہونے سے امن و امان کے حالات بھی بہتر ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ