بے چینی سی بے چینی ہے؟

بے چینی سی بے چینی ہے؟
بے چینی سی بے چینی ہے؟

  

ہم نے اپنے پچپن سالہ صحافتی دور میں متعدد تحریکوں کی بطور رپورٹر کوریج کی، جمہوری اور آمرانہ دورِ اقتدار میں گزارا کیا۔اللہ شاہد ہے کہ جو کچھ آج (انتخابات کے بعد) ہو رہا ہے، ایسا تو ماضی میں کبھی نہیں ہوا، یہ کچھ عجیب سی بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اقتدار کے لئے نگ پورے کرنے میں لگی ہوئی ہے، اور اس کے سوا باقی تمام جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں، حتیٰ کہ کراچی کی ایم کیو ایم جو اب تحریک انصاف کی حلیف ہے وہ بھی احتجاج پر ہے اور کراچی کی نشستوں کے حوالے سے اس کا یہ احتجاج خود تحریک انصاف کے خلاف ہے۔ اِسی طرح کا دلچسپ نظارہ سندھ کے ’’بڑے اتحاد‘‘ جی ڈی اے نے بھی دکھایا،جی ڈی اے اور تحریک انصاف کے درمیان باقاعدہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی، آج وہ بھی احتجاج کر رہے ہیں،لیکن یہ احتجاج اور مطالبہ بھی عجیب ہے،وہ کہتے ہیں،الیکشن کمیشن اور غیبی قوت نے پیپلزپارٹی کو جتوا دیا اور ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی،سندھ سے پیپلزپارٹی بھی نشستیں ہاری ہے تاہم صوبے کی حد تک اندرون سندھ کی طاقت پر واحد اکثریتی جماعت کے طور پر اُبھری ہے،اسے حکومت سازی کے لئے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔

اگرچہ خواہش تھی کہ ایم کیو ایم سے بات ہو جائے اور ایک مرتبہ پھر سندھ میں دونوں مل کر مخلوط حکومت بنا لیں،لیکن ایم کیو ایم نے وفاق میں تحریک انصاف کے ساتھ جانا پسند کیا کہ تحریک کو نیا پاکستان بنانے کے لئے اس کے چھ ووٹوں کی اشد ضرورت تھی۔

یہی وجہ ہے کہ فریقین کے درمیان جو نو نکاتی معاہدہ ہوا وہ صریحاً صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت ہے اور ایم کیو ایم کو چھ ووٹوں کی بنا پر یہ طاقت حاصل ہو گئی کہ وہ مستقبل میں سندھ کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان محاذ آرائی کرا کے تماشہ دیکھے، حالانکہ کراچی اور سندھ کے مسائل کا حل صوبے اور وفاق میں ہم آہنگی اور تعاون ہی سے ممکن ہے۔ ایک طرف سے اسے مایوسی ہوئی تو دوسری طرف سے اطمینان بھی ہوا کہ چلو سندھ حکومت بناتے ہیں تو بنا لیں چین ہم بھی نہیں لینے دیں گے۔

یہ تو جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کی بات ہے خود پیپلزپارٹی بھی سراپا احتجاج ہے۔ وہ بھی دھاندلی کا الزام لگا رہی ہے، خصوصاً لیاری کی نشست پر بلاول بھٹو کی شکست ہضم نہیں ہو پا رہی،پیپلزپارٹی نے اندرون سندھ بھی دھاندلیوں کا الزام لگایا اس کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ سے بے نظیر بھٹو کی آبائی نشست پر بھی بلاول کو ہرانے کی بھرپور کوشش کی گئی، فارم45 اور نتیجہ کارکنوں کے گھیراؤ اور احتجاج کے بعد تاخیر سے دیا گیا۔

مسلم لیگ(ن) تو پہلے ہی سے احتجاج پر ہے، قائد مسلم لیگ(ن) محمد نواز شریف،ان کی صاحبزادی اور داماد کے خلاف نیب ریفرنس اور سزا،اس کے علاوہ متعدد رہنماؤں کی نااہلی اور توہین عدالت پر سزا بھی اس کا حصہ ہے، مسلم لیگ (ن) کا آہنگ زیادہ بلند ہے، تاہم اس سے بھی زیادہ پریشانی اور تکلیف ہمارے مولانا فضل الرحمن کو ہے کہ وہ تو خود بھی دونوں نشستوں سے ہار کر پارلیمینٹ ہی سے باہر ہیں۔

انہوں نے تو بغاوت کا نعرہ لگا دیا تھا اور حلف نہ اٹھانے کا اعلان کر کے 1977ء جیسی تحریک چلانے کی دھمکی دی تھی، ان کا خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اثر تو ہے،ان کی آواز میں اسفند یار ولی اور آفتاب خان شیر پاؤ نے بھی آواز ملائی کہ وہ بھی ہار گئے تھے، اب صورتِ حال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی(ف) سمیت یہ سب جماعتیں متحدہ اپوزیشن بنا کر احتجاج کر رہی ہیں،سب مل کر دھاندلی کی شکایت کرتے ہیں، تاہم پیپلزپارٹی اور پھر مسلم لیگ(ن) کے تعاون کے ساتھ حلف کے بائیکاٹ کا فیصلہ تو واپس ہو گیا تاہم احتجاج کی بات مان لی گئی،جو مرحلہ وار ہو گا،پہلے الیکشن کمشن آف پاکستان کے دفتر اور بعد میں وفاق سمیت تمام صوبائی دفاتر کے باہر دھرنا ہو گا،پارلیمینٹ میں بھی احتجاج ہو گا،اراکین حزبِ اختلاف سیاہ پٹیاں باندھ کر حلف اٹھائیں گے اور قائد ایوان، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات میں مقابلہ بھی کیا جائے گا۔

اس سارے کھیل میں بی این پی(مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے برملا کہا،بات اقتدار کی نہیں اختیارات کی ہے،وہ بلوچستان کے حوالے سے اپنے مطالبات پر زور دے رہے ہیں،ان میں اہم تر گمشدہ افراد کی تلاش ہے کہ یہ گمشدگی بھی ایک معمہ ہے۔اب ذرا ملاحظہ کریں تومطمئن تحریک انصاف ہے،چیئرمین اور ان کے مددگار حضرات اور رہنماؤں کو نمبر پورے کرنے کی لگن ہے اور آزاد پنچھیوں کو پنجرے میں بند کیا جا رہا ہے، بلوچستان سے دھاندلی کی آواز چادر والی سرکار محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو نے اٹھائی اور وہ متحدہ اپوزیشن کا حصہ بن گئے کہ ماضی میں مسلم لیگ(ن) کے حلیف تھے ان کے سوا بلوچستان سے اور کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا، بلوچستان عوامی پارٹی والے بھی تحریک انصاف سے مل گئے اور صوبے میں ان کا اقتدار ہو گا۔

یہ تمام تر صورتِ حال جو نقشہ مرتب کرتی ہے وہ زیادہ خوش کن نہیں،کپتان نے جو نئے پاکستان کا نعرہ لگایا اس کی تکمیل کے لئے ساتھی ان جیسے نہیں، ان کو صرف حزبِ اختلاف ہی کا سامنا نہیں ہو گا، بلکہ اندر سے بھی بہت دباؤ ہو گا،جو حضرات ان سے تعاون کے لئے آگے بڑھے جب ان کو ’’تعاون‘‘ نہ ملا تو پھر ایک نیا سین ہو گا، کپتان تو انا پرست اور ضدی ہے، اس نے اپنے سامنے کسی کی نہیں چلنے دینی،اِس لئے حالات کوئی زیادہ خوشگوار نہیں،ہمیں تو پریشانی یہ ہے کہ ملکی اور عوامی مسائل بہت زیادہ ہیں، بیرونی محاذ پر خطرات کم نہیں ہوئے، بڑھتے جا رہے ہیں،ایسے میں نئی حکومت اور نئی پارلیمینٹ بن جانے کے بعد بھی محاذ آرائی ہوتی رہی تو کچھ نہ ہو سکے گا، ہمارے خیال میں تو خود ان سیاسی قائدین ہی کو کوئی درمیانی راہ نکالنا ہو گی، قومی مفادات اول ہیں تو نظام بھی چلتا رہے گا۔

مزید : رائے /کالم