ہماری دیمک زدہ خارجہ پالیسی (1)

ہماری دیمک زدہ خارجہ پالیسی (1)
ہماری دیمک زدہ خارجہ پالیسی (1)

  

جس طرح اَفراد میں آپس کا تعلق ہوتا ہے اسی طرح کسی حد تک دو یا دو سے زیادہ ممالک میں روابط ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی عزت کرنا، لین دین یعنی تجارت کرنا، وقت پڑنے پر ایک دوسرے کی مدد کرنا کبھی ایک دوسرے کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے تو اُسے آپس میں بیٹھ کر صلح صفائی سے دُور کرنا یا تیسرے فرد کی ثالثی سے تعلقات دوبارہ استوار کر لینا ،افراد کی اور ملکوں کی دوستی کی مماثلت یہاں تک تو ٹھیک ہے۔

افراد کے آپس کے تعلق میں اور خارجہ تعلقات میں بڑا فرق یہ ہے کہ اوّل الذکرتعلقات عام فہم اور آسانی سے سمجھ میں آنے والے ہوتے ہیں جب کہ خارجہ تعلقات خاصے پیچیدہ ہوتے ہیں۔

یہ صرف 2 یا اس سے زیادہ ممالک میں نہیں ہوتے بلکہ بین الاقوامی ہوتے ہیں مفادات کا ٹکراؤ اور باہمی دلچسپی کا تسلسل ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ اپنے مفادات اور دوسرے ملکوں کے مفادات پر ہر وقت نظر رکھنی پڑتی ہے۔ فرد کی نسبت ممالک کے مفادات کی نوعیت بھی بہت متنوع اورComplex ہوتی ہے۔ معاشی اور تجارتی مفادات کے علاوہ ممالک کے درمیان متعدد دوستیاں اور دشمنیاں بھی ہر وقت زیرِ نظر رہنی چاہئیں۔

میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہونا چاہیے۔ چانکِیہ کا ہزاروں سال پُرانا یہ قول آج بھی لاگو ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں ملک کے داخلی حالات ، ملک کا جغرا فیہ، ملک کی معاشیات ملک کی دفاعی ضروریات اور سب سے بڑھ کر ملک کے عوام کا ذہنی جھکاؤ، اِن سب عوامل کا بہت دخل ہے۔ اس کے علاوہ جو چیز اہم ہے وہ ہے فارن پالیسی کو چلانے والے اَفراد کی استعداد، فہم اور ذہانت کا اونچا معیار۔

ترقی پذیر ممالک کی خارجہ پالیسی کو چلانے والے افراد ایک قسم کے Salesmen ہونے چاہیں، کیونکہ وہ نہ صرف اپنے ملک کے مفادات کی ترجمانی ماہر سیلز مین کی طرح کرتے ہیں بلکہ دوسرے ملک کے مفادات کو بھی چالاک سودا گر کی طرح چھان پھٹک کر پرکھتے ہیں اور اگر اُس ملک کے مفادات اپنے ملک کے فائدے میں ہیں تو محکمہ خارجہ اُن باہمی مفادات کا بھرپور استعمال کرتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ میں ملکوں کے درمیان خارجہ تعلقات زیادہ پیچید ہ نہیں ہوتے تھے۔ وہ زمانہ بادشاہتوں کا تھا۔ ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے تعلقات استوار کرنے کے لئے اپنا قاصد بھجواتا تھا، عموماً تجارتی مراعات یا رہ داری کے حصول کے لئے اپنا مُدعا بیان کرتا تھا۔

بعض مرتبہ مشترکہ دفاع کی بھی درخواست کی جاتی۔ یورپ میں اُس زمانے میں بادشاہت تھی۔ شاہی قاصد کبھی کبھار کسی شہزادے یا شہزادی کی شادی کا پیغام بھی لے کر جاتے تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ یورپ کے اکثر شہزادوں کی شادیاں ڈنمارک کی شہزادیوں سے ہوئیں۔ ابھی پچھلے سال ڈنمارک کے شاہی خاندان کے 90 سالہ بزرگ کی وفات ہوئی تو یورپ کے اخباروں نے سُرخی لگائی کہ Europe's Father - in- Law Dies ۔ دراصل یہ پڑپوتے تھے ڈنمارک کے اُس بادشاہ کے جس کی 13 شہزادیوں کی شادیاں یورپ میں پھیلے ہوئے شاہی خاندانوں میں ہوئی تھیں۔ اُس زمانے میں سفارت کاری زیادہ تر تجارت کے لئے ہوتی تھی۔ پُرتگال کے واسکو ۔ڈی۔

گاما نے جب ہندوستان جانے کا سمندری راستہ دریافت کیا تو 16 ویں صدی کے شروع میں ڈچ ایسٹ اِنڈیا کمپنی ، برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی، فرنچ انڈیا کمپنی اور پرتگیز ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی حکومتوں سے تجارت اور سفارت کاری کا چارٹر لے کر ہندوستان کے بادشاہوں اور نوابوں کے سامنے اسنادِ سفارت کاری پیش کیں اور اُس کے بعد ہندوستان میں جو سازشیں ہوتی رہیں وہ 1858ء میں برطانوی راج پر منتج ہوئیں۔

آئیے ہم اپنے ملک کے محکمہ خارجہ کی 65 سالہ کارکردگی پر نظر ڈالیں۔ پاکستان کے پہلے وزیرِخارجہ سرظفراللہ خان نہائت قابل اور باریک بیں سفارت کار تھے اُن کے سیکریٹری خارجہ جناب اکرام اللہ بھی نہائت ذہین اور فہم و فراست والے عہدے دار تھے۔ پاکستان نیا نیا عالمِ وجود میں آیاتھا۔ جنگِ عظیم کے خاتمے کوا بھی 2 سال بھی نہیں ہوئے تھے۔ تمام دنیا کا نقشہ تَلپٹ ہوچکا تھا۔

سامراج کا کنٹرول اپنی اپنی مقبوضہ کالونیوں پر کمزور پڑنا شروع ہو گیا تھا، روس، جو دوسری جنگ میں امریکہ کا اتحادی تھا ، وہ جنگ کے فوراً بعد اتحادیوں کی خود غرضیوں سے خائف ہو کر اپنا الگ کیمپ بنا چکا تھا۔ قائداعظمؒ جیسی مضبوط شخصیت 1948ء میں ابھی حیات تھی۔

لیاقت علی خان بطور وزیر اعظم ایک پائیدار پوزیشن میں تھے اور ریاست کے تمام امورمیں عمل دخل رکھتے تھے۔ اِن حالات میں جبکہ قائد اعظم بھی حیات تھے اور وزیراعظم لیاقت علی بھی کمزور حیثیت نہیں رکھتے تھے، سر ظفر اللہ کے لئے مشکل تھا کہ وہ پاکستان کی اِبتدائی خارجہ پالیسی کے خد و خال اپنی اور اپنے قابل عہدے داروں کی سوجھ بوجھ سے بناتے۔

روس پر 1949ء تک سرد جنگ مسلط نہیں ہوئی تھی۔ محکمہ خارجہ کی خواہش تھی کہ پاکستان روس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے ،لیکن حالات ایسے پیدا کر دئیے گئے کہ لیاقت علی خان نے اپنے پہلے خیر سگالی دورے پر امریکہ جانا پسند کیا۔

اس دورے کے لئے امریکہ سے دعوت کا اہتمام کرایا گیا۔ اُس وقت چند افراد کا اور ایک ملک کا لیاقت علی خان پر زیادہ اثرتھا۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی خواہش تھی کہ پاکستان امریکہ کے قریب رہے۔ ہمارا محکمہ خارجہ اپنے تحفظا ت کے باوجود وزیرِ اعظم کو دورہِ روس کے لئے قائل نہ کر سکا۔

1951ء میں آئزن ھاور امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔ ریپبلکنزکے آنے سے سرد جنگ کا آغاز ہوگیا۔اُس وقت پاکستان 2 جغرافیائی حیثیت کا حامل تھا۔ مغربی پاکستان کا جغرافیہ امریکہ کی مڈل ایسٹ پالیسی کے لئے بہت اہم تھا۔ جب کہ مشرقی پاکستان کا جغرافیہ جو مشرقِ بعید کا حصہ تھا اُس کے لئے امریکہ کی پالیسی بالکل الگ تھی۔

مڈل ایسٹ کے تمام ممالک بشمول پاکستان ، سعودی عرب، ترکی ، عراق اور شام امریکہ کے دوست تھے ،لیکن مشرقی پاکستان کے قرب و جوار میں تمام ممالک امریکہ کے دوست نہیں تھے۔ وہ یا تو غیر جانبدار ہو کر روسی کیمپ کا حصہِ بن چکے تھے(ہندوستان ، انڈونیشیا، اِنڈوچائنا وغیرہ)یا وہ چین کے قریب تھے۔

امریکہ مشرقِ بعید میں جنگِ عظیم کے بعد پہلی جنگ 1951ء میں کوریا میں لڑ کر اور وہاں سے بڑی مشکل سے جان چھڑا کر نکلا تھا۔ ویٹ نام کی جنگ نے اگرچہ دس سال بعد شروع ہونا تھا، لیکن اُس کے آثارعلاقے میں پیدا ہونے شروع ہو چکے تھے۔

امریکہ کے پالیسی سازوں کے لئے ایسا پاکستان جو امریکہ کی فارن پالیسی کے 2 مختلف Concepts میں بٹا ہوا تھا،ایک کٹھن معاملہ تھا۔ مغربی پاکستان کوCENTO کا حصہ بنا کر اسلحے اور مالی اِمداد کے ذریعے امریکن کیمپ میں داخل کر لیا گیا تھا۔

محمد علی بوگرہ جو امریکہ نواز تھے ہمارے دوسرے پاکستانی وزیرِ خارجہ تعینات ہوئے، انہوں نے تو پاکستان کو مکمل طور پر امریکہ کے زیرِ اثر دے دیا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی جیسے مضبوط لیڈر وفات پا چکے تھے۔

سر ظفراللہ نئے حکومتی Set up میں چل نہیں سکتے تھے اس لئے وہ بھی وزارتِ خارجہ چھوڑ چکے تھے۔ ہمارے اَب تک 26 وزراءِ خارجہ میں صرف 4 - 3 ہی ایسے تھے جو پاکستان کے مفادات کو اولین رکھتے تھے ۔ وہ امریکہ کے کاسہ لیس نہ تھے مثلاً ایس کے دہلوی، حسین شہیدسہروردی جو وزیرِ اعظم بھی تھے ، آغا شاہی اور عزیزاحمد۔

ہم ذوالفقار علی بھُٹوکو کامیاب وزیرِ خارجہ سمجھتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے ۔وہ ایک کامیاب مقرر تھے جو ہجوم کو گرما سکتے تھے۔ اسٹیٹس مین بالکل نہیں تھے۔ 1965 کی جنگ سے پہلے بھٹو صاحب وزیرِخارجہ تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بہت قریب تھے۔

صدر ایوب خان کو اپنے وزیرِ خارجہ کی پالیسوں پر بہت اعتماد تھا ۔ 1965 کی جنگ کا پلان بھٹو صاحب اور اُن کے دوست 2 جرنیلوں کے ذہن کی اختراع تھی۔

اس جنگ کے لئے کسی تدّبر اور دُور اندیشی سے کام نہیں لیا گیا۔ بھٹو صاحب نے اور اُن کے دو ستوں نے مقبوضہ کشمیر میں گوریلا جنگ شروع کرنے سے پہلے نہ ہی کوئی کاڈرز (Caders)تیار کئے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر کے لوکل عوام میں گوریلہ جنگ کے لئے پاکستان کے ہمددر پیدا کئے اور نہ اس جنگ کے بین الاقوامی اثرات اور ردِعمل پر غور کیا گیا۔ ایوب خان کا بطور صدر اس جنگ کی منظوری دینا ایک بڑی غلطی تھی۔

1965ء کی جنگ ہماری ناعاقبت اندیشی، غیر مدّبرانہ خارجہ پالیسی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اپنے مقاصدحاصل نہ کر سکی ۔ ہماری فوج اگر مثالی بہادری اور تیز رفتار حرکت کا مظاہرہ نہ کرتی تو 1965ء کی جنگ ہمارے گلے کا طوق بن چکی ہوتی۔

بھٹو ایک ناکام وزیرِخارجہ تھا۔ اُس نے البتہ UNO میں جذباتی تقریر کر کے پاکستانیوں کو اور خا ص طور پر لاہوریوں کو متاثر کر کے اپنا مستقبل کا سیاسی پلان کامیاب کر لیا۔ (جاری ہے)

پیپلز پارٹی کی بنیاد پنجاب میں ہی پڑی، 1971ء کی جنگ میں پولینڈ کی قراردار کو ڈرامائی انداز میں پھاڑ کر بچے کُھچے مشرقی پاکستان کو مکمل بنگلہ دیش بنوادیا۔ شملہ کانفرنس میں کشمیر کے بین الاقوامی مسئلے کو دو طرفہ مسئلہ بنا کر اس مسئلہ کی بین الا قوامی حیثیت کو ختم کر دیا۔ بھٹو صاحب کو ہم ہر دلعزیز اور کرشمے والا لیڈر تو مان سکتے ہیں، لیکن خارجی معالات کو بھٹو صاحب دور اندیشی سے نہیں چلا سکے ۔

دنیا کے تمام مسلمان ممالک کی 1974ء کی لاہور کانفرنس کو لوگ بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی کا حصہ بتاتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک قبل از وقت اِقدام تھا۔ بھٹو صاحب نے اس اِقدام سے امریکہ اور یہودی لابی کو الرٹ کر دیا اور مسلمان ملکوں میں ہمیشہ کے لئے نفاق کا بیج بو دیا گیا۔

شاہ فیصل کو بطور سزا مروا دیا گیا۔بھٹو کو بھی چین سے حکومت نہ کرنے دی اور بالاخر عوام کے محبوب لیڈر بھٹو صاحب کو غیظ و غضب کا نشانہ بنا دیا گیا۔ آج کی دنیا میں خارجہ تعلقات کا ملک کی داخلی اور دفاعی پالیسی سے بہت زیادہ تعلق ہوتا ہے۔

پاکستان کے معروضی حالات کے حوالے سے میں 3 مثالیں دوں گا کہ جہاں ہم نے اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسوں کو خلط ملط کیا اور نقصان اُٹھایا، ہم نے قیام پاکستان کے روز سے ہی ایران اور افغانستان کو اپنی تزویری Strategical گہرائی کو اپنے دفاعی پلان کا حصہ بنایا، حالانکہ ہماری یہ مفاہمت ایران کے ساتھ تو تھی، لیکن افغانستان کے ساتھ اس موضوع پر بات ہی نہ ہوئی تھی بلکہ افغانستان تو پہلے روز سے ہی ہمارا مخالف تھا اور وہ گاہے بگاہے آزاد پشتونستان اور ڈیورنڈ لائن کا قضیہ اُٹھاتا رہتا تھا۔

ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کو اپنی دفاعی پالیسی سے ہم آھنگ نہیں کیا جو یقیناًافغانستان کو پاکستان کے قریب لانے میں ناکام رہی۔ 1962ء میں ایک موقع پاکستان کو اور ملا جب کہ چائنا اور بھارت کی لڑائی NEFA کے علاقے میں زور و شور سے شروع ہو گئی۔

پاکستان چین کا دوست تھا۔ حسین شہید سہروردی اور ایوب خان چین کا دورہ کر چکے تھے۔ چواین لائی بھی پاکستان آ چکے تھے۔ پاکستان کے لئے نہائت سُنہری موقع تھا کہ وہ ہنرمندی سے ہندوستان کو مسئلہ کشمیر کے فیصلے کی طرف لے آتا۔

پاکستان اُس وقت ہندوستان کو خوفزدہ کر سکتا تھا۔ ہندوستان اُس وقت عسکری لحاظ سے کمزور تھا ،جبکہ ہم فوجی ساز و سامان اور تربیت یافتہ فوج کے ذریعے پوری طرح ہندوستان کے لئے خطرہ بن سکتے تھے، لیکن صد اَفسوس اُس وقت بھی ایوب خان کے وزیرِ خارجہ محمد علی بوگرہ تھے، جنہوں نے امریکہ کے مفاد کو اوّلین رکھتے ہوئے ایوب خان کو اس جنگ سے الگ تھلگ رہنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ ایوب خان سے امریکہ کو اس کی یقین دھانی کروا دی ۔

چین / بھارت جنگ ہندوستان کی شکست پر ختم ہوئی۔ اس شکست کے بعد امریکہ نے ہندوستان کو جنگی سامان کوڑیوں کے دام بیچنا شروع کر دیا۔ ہندوستان کا فوجی پہاڑی ڈویژن امریکہ کی مدد سے بنایا گیا۔ ہماری خارجہ پالیسی ایسے نادر موقع سے فائدہ نہ اُٹھا سکی۔

بے نظیر کی حکومت کے دوسرے دور میں افغانستان پر طالبان کی حکومت بن گئی۔ جس کو فوراً ہی پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب اِمارات نے تسلیم کر لیا۔ بے نظیر کے بعد جناب نواز شریف اور پھر جنرل پرویز مشرف کی حکومتیں آئیں۔

ہمارے تعلقات طالبان کے زمانے میں افغانستان سے بہت دوستانہ رہے، اُس دوستی کے دوران پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ طالبان کی حکومت سے ڈیو رنڈلائن کا جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم کروا لیتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

پھر ایک موقع اُس وقت مِلا جب امریکہ میں 9/11 ہوا اور امریکہ طالبان پر حملہ کرنے کا عندیہ دے چکا تھا۔ جنرل مشرف کی حکومت نے ابھی طالبان کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا، لیکن افسوس جنرل مشرف نے اُس وقت بھی ڈیورنڈلائن کے مسئلے کو سنبھالنے کی کوشش نہ کی بلکہ بعد میں طالبان کے سفیر ملّا ضعیف کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔

ہماری خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی ایک دوسرے میں گڈ مڈ رہی ہیں،لیکن حقیقت میں دفاعی پالیسی کا پلّہ بھاری رہا ہے۔ 16 سال سے (پرویز مشرف + زرداری +نواز شریف حکومتیں ) ہماری دفاعی پالیسی ہی مقدّم ہے اور خارجہ پالیسی کا کنٹرول ہماری عسکری قیادت کے پاس چلا گیا ہے۔ جنرل ضیاء کی حکومت اور اُس کے بعد جتنی حکومتیں آئیں ، اُنکے وزراء خارجہ یا تو کمزور تھے یا امریکہ کے زیرِ اثر تھے۔

خارجہ پالیسی کا تعلق تجارتی پالیسی سے بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ امریکی تجارتی پابندیاں دوسرے ملکوں پر لگائی ہی اس لئے جاتی ہیں کہ وہ ملک امریکہ کی سوچ سے یا تو ہم آھنگ ہوں ورنہ تجارتی طور پر ساری دنیا سے منقطع ہو جائیں۔پاکستان کی ہر حکومت امریکی تجارتی پابندیوں کے خوف سے اَب تک آزاد یا متوازن خارجہ پالیسی نہیں بنا سکی ہے۔

امریکہ کے ہی تعاون اور سر پرستی میں ورلڈ بینک، IMF اور WTO بنائے گئے ،تاکہ تیسری دنیا کے ملک امریکی مفادات سے باہر نہ جانے پائیں۔ ہمارا ملک بھی اِن ہی ملکوں کے زمرے میں آتا ہے۔

قائدِاعظم کی زندگی ہی میںُ ملاّئیت نے ہماری سیاست میں داخل ہونے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ پاکستان کی تشکیل سے پہلے جو اسلامی نعرے بازی ہوئی اُس کو بنیاد بنا کر پاکستان بننے کے بعد مولویوں نے یہ مطلب نکالا کہ پاکستان اسلام کے لئے بنا ہے نہ کہ مسلمانوں کی بہبود کے لئے۔ جنرل ضیاء کی حکومت کے دوران ،ہماری خارجہ پالیسی میں عرب ممالک کا زیادہ عمل دخل ہوگیا۔

ان عرب ممالک کی اہمیت صرف تیل کی وجہ سے تھی ۔ روس کے خاتمے کے بعد امریکہ کو بھی یہ عرب ممالک تیل کی وجہ سے عزیز تھے۔ ایک خاص مسلک کے عرب ممالک کو پاکستان کے ہم مسلک مُلاّؤں نے خوش آمدید کہا۔

اِن عرب ملکوں نے، انقلابِ ایران کے خوف سے ،پاکستان کی داخلی سیاست میں ہماری دینی سیاسی جماعتوں کی مدد سے ہمارے خارجہ تعلقات پر بھی اثر اَنداز ہونا شروع کر دیا۔

ایران، ایک ایسا ملک جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا، ایک ایسا ملک کہ جس کی ثقافت، زبان اور لٹریچر سے 1000 سال سے ہم مانوس تھے وہ ہمارے لئے اجنبی بننا شروع ہوگیا۔ امریکہ اور عرب برادر ممالک کے دباؤ میں آکر ہم ایران کی ہمسائیگی سے معاشی فوائد حاصل نہیں کر سکے۔

ہماری کمزور اور بزد لانہ خارجہ پالیسی ہی ہے کہ ہم نہ ایران سے تیل اور گیس کی پائپ لائن لے سکتے ہیں اور نہ ہی سستی بجلی۔ خارجہ تعلقات میں باہمی مفاد شامل نہ ہو تو ایسے تعلقات یک طرفہ ہو جاتے ہیں۔ ہم امریکہ سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔ ہماری افواج، امریکہ کے اسلحہ اور ہوائی جہازوں کی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے مجبور ہیں کہ امریکہ سے تعلقات استوار رکھے جائیں خواہ امریکہ ہمارے مفادات کو خاطر میں بھی نہ لائے۔

ورلڈ بینک اور IMF امریکہ کے 2 ایسے باز و ہیں جن کے ذریعے ہمارے جیسے مقروض ملک کے ہاتھ مروڑے جا سکتے ہیں، مضبوط خارجہ پالیسی کے لئے، مضبوط لیڈر، جو عوام میں ہر دلعزیز ہو بہت ضروری ہے۔ ہر دلعزیز، دیانت دار اور مخلص لیڈر ہو تو عوام سخت سے سخت حالات میں گذار ا کر سکتے ہیں۔

ہمارے عوام بغیر، سہولیات ، بغیرعارضی چمک دمک ،بغیر کوکا کولا، میکڈانلڈ،بغیر قیمتی کاروں اور بنگلوں کے، بغیر لمبی چوڑی سڑکوں اور پلازوں کے رہ سکتے ہیں اور مغرب کی طاقتور حکومتوں کی بلیک میلنگ سے نمٹ سکتے ہیں۔ صد حیف کہ ہمارے پاس کوئی ایسا لیڈر ہی نہیں ہے جو ہمیں آزاد خارجہ پالیسی کی راہ پر ڈال سکے۔ آج کا سرمایہ دارانہ نظام بھی ملک کے داخلی اور خارجی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

Corporate امریکہ اپنے ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اپنے ہم خیال کانگریس اور سینٹ کے اُمیدواروں کو جتوانے کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ پبلیسٹی اور میڈیا کے ذریعے عوام کے ووٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر کانگریس کا اُمیدوار بڑی ہی کم خرچ پبلیسٹی کرتا ہے ،لیکن Lobbyst اصل کام کرتے ہیں۔

چونکہ بین الاقوامی تجارت کے مفادات یکساں ہی ہوتے ہیں اس لئے امریکہ کے بڑے تاجر اور صنعت کار دوسرے ممالک کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں سرمایہ دارانہ نظام کی جیت ہوئی ہے حالیہ انتخابات میں۔ اسی طرح بڑے سلیقے اور چالاکی سے پاکستان کے سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور زمین داروں کو جھوٹی جمہوریت کے بل بوتے پر ہماری سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی پر مسلط کر دیا گیا ہے ۔

ہماری بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے تمام مالی مفادات مغربی ممالک میں ہیں۔ اُن کی اولادیں وہاں خاندانی کاروبار چلا رہی ہیں، مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام نے بڑی عیاری سے ہماری سیاسی پارٹیوں کے درمیان چارٹر آف ڈیموکریسی (COD) کروا کر " مفاہمت" کے دروازے کیا کھولے کہ کرپشن کا پاکستان میں سیلاب آ گیا۔

ہماری خارجہ پالیسی کی یہ اہمیت ہے کہ اس کی دیکھ بھال کے لئے ایک ضعیف العمر مشیر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا وہ حصہ جو ہماری عسکری قیادت کے لئے ضروری ہے اُسے فوج خود چلا رہی ہے۔ باقی رہے تجارتی معاہدے وہ سوِل اداروں کی لوٹ مار پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم