این آر او کیس سماعت کیلئے مقرر ، زرداری ،مشرف اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

این آر او کیس سماعت کیلئے مقرر ، زرداری ،مشرف اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف کیس منگل کو سماعت کیلئے مقرر کردیا، سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری سمیت اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردئیے گئے۔سپریم کورٹ میں این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این آر او کی وجہ سے ملک کا اربوں روپے کا نقصان ہوا لہٰذا قانون بنانے والوں سے نقصان کی رقم وصول کی جائے۔عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد 24 اپریل کو سابق صدور آصف زرداری اور پرویز مشرف کو نوٹس جاری کیے تھے جبکہ آصف زرداری اور دیگر نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب بھی جمع کرایا ۔نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف کیس منگل کو سماعت کیلئے مقرر کیا ہے اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔عدالت نے اس سلسلے میں سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری سمیت اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔

این آر او کیس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،آن لائن)ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کیے جانے کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر ان کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ایف آئی اے بے نامی اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ کیس میں 32 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے، جن میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں، ایف آئی اے نے الیکشن سے قبل سابق صدر مملکت آصف زرداری اور فریال تالپور کو تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہونے کیلئے نوٹس جاری کیا تھا تاہم دونوں شخصیات کی قانونی ٹیم پیش ہوئی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے اسی کیس میں ایف آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ دونوں شخصیات کو الیکشن تک نہ بلایا جائے۔ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو یکم اگست کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں انہیں 4 اگست کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ایف آئی اے نے دونوں شخصیات کو گزشتہ روزاسلام آباد ہیڈ کوارٹر زطلب کیا تھا جہاں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ان سے پوچھ گچھ کرنا تھی۔ذرائع کے مطابق فریال تالپور نے ایف آئی اے کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایف آئی اے کو خط بھجوادیا ہے۔فریال تالپور نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نجف مرزا کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور نیا سربراہ تعینات کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی، رپورٹ میں اب تک تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے سے طلبی کے معاملے پر مزید وقت کی استدعا کر دی، فاروق ایچ نائیک کے جونیئر وکیل ایف آئی اے کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی ایف آئی اے طلبی کے معاملے پر وکیل نے استدعا کی کہ ایف آئی اے میں پیشی کیلئے وقت درکار ہے۔ دوسری طرف فریال تالپور نے 35ارب روپے کے جعلی بینک اکاؤنٹس سکینڈل سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے ،اپنے جواب میں فریال تالپور نے میں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کردیا۔ فریال تالپور نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کی ازخود نوٹس کیس کی کارروائی کو ختم کیا جائے اور ایف آئی کو جعلی اکاؤنٹس کا حتمی چلان جمع کرانے کا حکم دیا جائے۔

فریال تالپور، ایف آئی اے

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ) نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ساتھ مل کر نیشنل رسک اسیسمنٹ کے اہداف کے حصول کا فیصلہ کرلیا۔ نیکٹا نے فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) سے اے پی جی گروپ کیلئے مربوط رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نیکٹا کے ہیڈ کواٹر میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے نیشنل ٹاسک فورس برائے فنانشل ٹیررازم (سی ایف ٹی) کا خصوصی اجلاس ہوا۔سی ایف ٹی کے 10 ویں ماہانہ اجلاس کی صدارت نیکٹا کے ڈاکٹر سلیمان نے کی جس میں وفاقی اور صوبائی ٹاسک فورسز کے مختلف شعبوں سے 27 ارکان نے شرکت کی۔ڈاکٹر سلیمان نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ وزارت داخلہ کی ہدایت پر نیکٹا نے نیشنل ٹاسک فورس (سی ایف ٹی) کو دیگر اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے زور دیا ہے۔ اجلاس کا دائرہ کار ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر محیط تھا جس میں تمام اداروں کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی۔اجلاس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایف آئی اے، پاکستان کسٹمز اور دیگر ادارے شامل تھے جنہوں نے اپنے دائرہ کار میں اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بریف کیا۔اجلاس کے دوران وفاقی اور صوبائی محکموں کی سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطے اور تعاون میں مزید بہتری پر بات ہوئی۔شرکاء نے نیشنل رسک اسسمنٹ کے روڈ میپ سے متعلق تفصیل سے بات چیت کی۔

نیکٹا،ایف آئی اے

مزید : صفحہ اول