صدارتی الیکشن، اپوزیشن پی ٹی آئی اور اتحادیوں کو ٹف ٹائم دینے کیلئے تیار

صدارتی الیکشن، اپوزیشن پی ٹی آئی اور اتحادیوں کو ٹف ٹائم دینے کیلئے تیار

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر))صدارتی انتخاب کیلئے اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کو ٹف ٹائم دینے کیلئے تیار، صدارتی انتخاب کیلئے تمام الیکٹورل کالجز کے ملا کر کل ووٹ 706ہیں،ایک امیدوار کو جیتنے کیلئے 354ووٹ درکار ہوں گے،تحریک انصاف اور ان کے اتحادی جماعتوں کے کل ملا کر 308ووٹ بنتے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو کل ملا کر299ووٹ بنتے ہیں، اس کے علاوہ 66آزاد ووٹس بھی موجود ہیں،آزاد ووٹس کو اپنے ساتھ ملانے والوں کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق صدارتی انتخاب کیلئے سینیٹ کی 104نشستیں اور قومی اسمبلی کی 342نشستوں اور بلوچستان اسمبلی کی 65نشستوں کو ایک سیٹ ایک ووٹ کی بنیاد پر ووٹ ڈالنا ہو گا جبکہ پنجاب اسمبلی کی 371نشستوں کا تناسب 0.18کا ہے یعنی قریباً 5سے زائد ایم پی ایز کا ایک ووٹ بنے گا اور اسی طرح سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے ووٹوں کا تناسب 0.85کا ہے، صدارتی انتخاب کیلئے کل ووٹ 706بنتے ہیں، جن میں سے جیت کیلئے 354ووٹ درکار ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے پاس اس وقت صدارتی انتخاب کیلئے 250 ووٹس ہیں، مسلم لیگ (ن) کے پاس 131، ن پیپلز پارٹی کے پاس 116،آزاد 66، ایم ایم اے 35، ایم کیو ایم کے پاس 21، جی ڈی اے کے پاس 8،اے این پی کے پاس 11، تحریک لبیک پاکستان کے پاس ایک ،بی این پی کے پاس 11 اور بی اے پی کے پاس تقریباً 20 ووٹس ہیں، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، بی اے پی، مسلم لیگ (ق) اور جی ڈی اے کے کل ملا کر صدارتی انتخاب کیلئے 308 ووٹ بنتے ہیں، ان کو صدارتی انتخاب کیلئے 46ووٹ مزید درکار ہوں گے جبکہ 66ووٹ آزاد حیثیت میں بھی اسمبلیوں میں موجود ہوں گے، اپوزیشن میں سے مسلم لیگ (ن)، پی پی پی، ایم ایم اے، جماعت اسلامی، اے این پی اور جمعیت علماء اسلام(ف) کو ملا کر کل ووٹ 299 بنتے ہیں اور اگر آزاد ارکان ان کے ساتھ مل جائیں تو اپوزیشن بھی اپنا صدر بنا سکتی ہے۔واضح رہے کہ 66آزاد ووٹوں میں سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حال ہی میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں 15 ارکان سینیٹ منتخب ہوئے ان کو بھی آزاد ووٹوں میں ہی شامل کیا جا رہا ہے۔مارچ میں سینیٹ کی 50 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے پاس شیر کا نشان نہیں تھا، الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے سزا یافتہ ہونے کے باعث مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر (ن) لیگ کے 15امیدواروں کو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی اس وجہ سے (ن) لیگ کے 15سینیٹر آزاد ارکان تصور کئے جاتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول