ندیم عباس بارہ تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر دوبارہ پولیس کے حوالے

ندیم عباس بارہ تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر دوبارہ پولیس کے حوالے

لاہور (کرائم رپورٹر ) پاکستان تحریک انصاف کے نومنتخب ایم پی اے ندیم عباس بارہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر دوبارہ پولیس کے حوالے کر دیا ہے جبکہ پہلے بھی عدالت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دے چکی ہے لیکن پولیس اس دوران ندیم عباس بارا اور ان کے ساتھیوں پر لگایا گیا کوئی بھی الزام ثابت نہ کر سکی ۔ اس قبل بھی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ندیم عباس بارا کیس کے حوالے سے جو سوموٹو ایکشن لیا تھا وہ بھی واپس لیا جاچکا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے آئی جی پنجاب کو اس واقع کی انکوائری خود کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس پر بھی تاحال عمل درآمد نہ ہو سکا ہے۔

ندیم عباس بارا کی پیشی کے موقع پر ان کے وکیل اور کارکنان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ ہنجر وال کے ایس ایچ او نے انتظامیہ اور اپنے اعلیٰ افسران کو ماموں بنایا تھا۔ کیونکہ پولیس کو موقع سے نا تو گولیوں کے خول ملے نہ ہی ان کے پاس تشدد کی کوئی ویڈیو موجود ہے لیکن تحریک انصاف کے کارکنان نے میڈیا اور عدالت میں کارکنان پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیو بھی پیش کی اور کئی کارکنان کو میڈیکل کے لئے بجھوایا جو پولیس تشدد کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ اہل علاقہ میں بھی پولیس کی زیادتیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔کیونکہ پولیس نے لوگوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں کو جو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اس کی بھی درخواستیں پولیس کے خلاف دے دی گئی ہیں۔ ندیم عباس بارا جو کہ نومنتخب ایم پی اے ہیں کو اب صلح کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ آج ان کو گیارہ بجے عدالت میں پیش کرنا تھا لیکن جان بوجھ کر ان کو لیٹ کیا جاتا رہا ۔جس کی وجہ سے پیشی پر آئے کارکن مشتعل ہو گئے اور ندیم عباس بارا کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے ۔ندیم عباس بارا کے وکیل اور کارکنان نے ندیم عباس بارا کو جلد از جلد انصاف دلانے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے۔

مزید : علاقائی