نئی حکومت بزنس کمیونٹی کو سہولیات دے، تاجر رہنما

نئی حکومت بزنس کمیونٹی کو سہولیات دے، تاجر رہنما

ملتان (نیوز رپورٹر) عام انتخابات 2018ء میں وفاق سمیت پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر تحریک انصاف کی متوقع حکومت سے عوام بالخصوص تاجر برادری بہت سی توقعات رکھتی ہے جن میں ٹیکس نظام کی درستگی‘ ایف بی آر میں موجود آئی ایم ایف کے ایجنٹوں کا انخلا‘ انڈسٹری کو فعال کرنے کیلئے بجلی کی ارزاں نرخوں پر فراہمی‘ صحت و تعلیم کی بلاتفریق فراہمی‘ ڈیمز کی تعمیر اور مہنگائی کے جن کو کنٹرول کرنے کے اقدامات شامل ہیں(بقیہ نمبر47صفحہ7پر )

۔ تاجر برادری نے ملک کے ٹیکس نظام کو کرپٹ اور قوم کیلئے ایف بی آر کو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیکس نظام کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’پاکستان سروے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں خواجہ محمد شفیق‘ محمد اختر بٹ‘ خواجہ سلیمان صدیقی‘ جعفر علی شاہ‘ ملک عابد‘ غضنفر ملک اور سلطان محمود ملک نے ایف بی آر کی پالیسیوں کو شدید ہدف تنقید بنانے سمیت اس توقع کا اظہار کیا کہ عمران خان کی پارٹی جس ایجنڈا کے تحت اقتدار میں آنیوالی ہے اگر اس پر من و عن عملدرآمد کردیا تو ملک کی قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ تاجر رہنما خواجہ محمد شفیق نے کہا کہ آنیوالی حکومت سے صرف تاجر برادری نہیں بلکہ پوری قوم کو اچھی توقعات رکھنی چاہئے۔ حکمران جو بھی ہوں لیکن اب بہت ہوچکا‘ اب مزید ہچکولے کھانے اور آزمائش میں رہنے کی قوم میں سکت نہیں ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ نئی حکومت عوام کو روزگار‘ صحت‘ تعلیم سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات کرے۔ عمران خان یہی ایجنڈا لے کر آرہے ہیں اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ قومی ادارے مضبوط ہوں‘کرپشن کا خاتمہ ہو‘ پچاس فیصد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عوام کے حالات بہتر ہوں جبکہ تاجر برادری کا بھی حق ہے کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرے‘ لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب تک ایف بی آر میں کالی بھیڑوں کا صفایا نہیں کردیا جاتا اور ایف بی آر کو تاجروں کیلئے فرینڈلی ایف بی آر نہیں بنایا جاتا۔ تاجر اس وقت تک ٹیکس نیٹ میں آئیں گے جب ایف بی آر اہلکار اپنی جیب بھرنے کی بجائے ایف بی آر کیلئے کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت کو سنبھالنے کیلئے ضروری ہے کہ جن چیزوں کے بغیر گزارہ ہوسکتا ہے ان کی امپورٹ بند کی جانی چاہئے‘ ان چیزوں کی امپورٹ سے خسارہ بڑھ رہا ہے اور قرض پر قرض لیتے جارہے ہیں۔ آئندہ حکومت کو امپورٹ کی بجائے ایکسپورٹ پر توجہ دینی چاہئے۔ تاجر رہنما محمد اختر بٹ نے کہا کہ تحریک انصاف کو جو اقتدار میں لارہے ہیں ان کے ذہن میں بہتر خاکہ ہوگا‘ اگر آنیوالی حکومت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور صحت‘ تعلیم‘ صاف پانی‘ مہنگائی اور بنیادی اشیائے ضروریہ عوام کی دسترس میں لانے میں کامیاب ہوئی تو عوام اور ملک کے حالات جلد بہتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے ٹیکس ایمنسٹی سکیموں کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جن کے اثاثہ جات ان کی آمدن سے زائد ہیں ان کو حکومت ضبط کرے‘ حرام کو حلال قرار دینے کی روش کو فروغ دینے سے معاشرہ کرپٹ ہوجاتا ہے‘ مذکورہ سکیمیں چھوٹے تاجروں کی بجائے مگرمچھوں کی بلیک منی کو تحفظ دینے کیلئے لائی جاتی ہیں‘ اس ملک میں غریب پس رہا ہے اور امیر کو مراعات فراہم کی جارہی ہیں۔ ایک بچہ دنیا میں آنے کے فوری بعد ٹیکس نیٹ میں شامل کرلیا جاتا ہے ہر ایک چیز پر ٹیکس حکومتی خزانے میں جمع ہورہا ہے لیکن سہولیات کا فقدان ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوام ٹیکس دیتے ہیں تو انہیں ہرقسم کی سہولیات میسر ہیں۔ خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ آنیوالی حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے دس سال اقتدار میں رہتے ہوئے دعوے تو بہت سے کئے لیکن عملی طورپر ناکام رہی ہے۔ کشکول توڑنے کے دعوے کرنیوالوں نے ملک تاریخ میں ریکارڈ قرضے لئے‘ یہاں تک کہ ہر پیدا ہونیوالا بچہ بھی ایک لاکھ سے زائد کا مقروض کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں بیٹھے افسران آئی ایم ایف کے پے رول پر بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ قومی خزانے پر بوجھ ہیں‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیم اربوں کھربوں پتی افراد کو ریلیف دینے کیلئے لائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں اچھی باتیں کی ہیں جیسے انہوں نے خود کی ذات سے احتساب کے عمل کی بات کی ہے اور سادگی اپنانے پر زور دیا ہے تو یقیناً پاکستان آگے کی طرف بڑھے گا اور ملک میں اربوں کھربوں روپے جو حکمرانوں کی دعوتوں پر اڑائے جارہے تھے ان سے عوام کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ تاجر رہنما جعفر علی شاہ نے کہا کہ تاجر برادری کی توقعات بھی ہیں اور مطالبات بھی ہیں کہ آنیوالی حکومت مکمل یکسوئی سے ملکی معیشت کے سدھار کیلئے ڈالر کی بڑھتی قیمت کو کنٹرول کرے ود ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے اور روپے کی ویلیو کو بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور جن لوگوں نے قومی دولت لوٹی ہے انہیں صرف سزاؤں تک محدود رکھنے کی بجائے ان سے قومی دولت وصول کی جائے جس سے ڈیمز بناکر پانی کے خائر بڑھانے سمیت بجلی کے بحران کو کنٹرول کیا جائے جس سے ملکی انڈسٹری بھی فعال ہوگی۔ تاجر رہنما ملک عابد‘ چوہدری محمود‘ سلطان محمود ملک اور خواجہ عثمان سابق صدر چیمبر آف کامرس ملتان نے کہا کہ جو شخص ٹیکس ادا نہیں کرتا اسے بزنس کرنے کا کوئی حق نہیں جبکہ جو اہلکار ٹیکس چھوڑ کر اپنی جیب گرم کرتا ہے اسے ایف بی آر میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس‘ گورنر ہاؤسز بارے جو انقلابی باتیں کی ہیں اگر ان پر من و عن عمل کردیا گیا تو یقیناً پاکستان کیلئے تاریخی موڑ ثابت ہوگا۔ ایمنسٹی سکیم بارے انہوں نے کہا کہ پانچ فیصد وصول کرکے کروڑوں روپے کی بلیک منی کو جائز قرار دینا دوسرے ٹیکس دہندگان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔

تاجر فورم

مزید : ملتان صفحہ آخر