بھارت کشمیر میں قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے،سردارمختارعباسی

بھارت کشمیر میں قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے،سردارمختارعباسی

مظفرآباد(بیورورپورٹ) ممبر کشمیر کونسل سردار مختار عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں 8کشمیری نوجوانوں کی شہادت اور بدترین بھارتی مظالم ، نہتے کشمیریوں کے قتل عام ، پیلٹ گن کے استعمال کے بعد ، کوبرہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آزادی پسندوں ک خلاف آپریشن ،حریت کانفرنس کے رہنماؤں کی بلا جواز گرفتاریاں ، دفعہ 35 اے ختم کرنے سمیت ریاستی دہشت گردی ، لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ وادی لیپہ میں شہید ہونے والی خاتون اور آسیہ اندرابی سمیت کشمیری اسیروں کو بھارتی جیلوں میں منتقلی کی شدید مذمت ،وفاقی حکومت کی غفلت ، لاپرواہی اور عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت اور اس کی قیادت کی مسلسل خاموشی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں قتل و غارت گری ، پرامن کشمیریوں کی خونریزی ، انسانی حقوق کی پامالیوں پر سلامتی کونسل کا اجلاس ناگزیر ہو چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ 8 لاکھ بھارتی افواج رات دن مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی نئی داستانیں رقم کررہی ہے اس لیے لازم ہو چکا ہے کہ قومی اسمبلی میں تمام پارلیمانی قیادت کی مشاورت سے مسئلہ کشمیر اور تاریخ پر دسترس رکھنے والے کسی مدبر سیاستدان کو قومی کشمیر کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا جائے ، اور بیرون ممالک پارلیمنٹیرینز ، دانشوروں ، صحافیوں ، دفاعی ماہرین کے وفود بھیج کر بھارتی چیرا دستیوں اور مظالم کو بے نقاب کیا جائے ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتو نیو گوتریس دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لئے بھارت کو آمادہ کرنے کے لئے موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کریں ، بھارت توسیع پسندانہ عزائم لے کر ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی ایک ہزار بار سے زائد خلاف ورزیاں کر کے عسکری جارحیت کا ارتکاب کر چکا ہے جس کی وجہ سے فوجی افیسران ، جوانوں اور سول آبادی کا جانی نقصان اور املاک کی تباہی ہونے سے لوگوں کا معیار زندگی دن بدن افراتفری کی دلدل میں دھنس چکا ہے ، بہادر افواج پاکستان ، قومی سلامتی کے اداروں نے دفاع پاکستان کے لئے جا ن ہتھیلی پر رکھتے ہوئے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں پاکستانی کشمیری قوم ان کے شانہ بشانہ اپنی آزاد ی ، قومی تشخص وقار کے لئے خون کا آخری قطرہ بہانے سے گریز نہیں کر یں گے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر