پولیس کی لازوال قربانیوں کے طفیل ملک میں امن قائم ہوا:پولیس حکام

پولیس کی لازوال قربانیوں کے طفیل ملک میں امن قائم ہوا:پولیس حکام

پشاور،اضلاع ( سٹی رپورٹر ،نمائندگان پاکستان )مردان میں یوم شہداء پولیس کے موقع پرجگہ جگہ تقریبات ، پولیس آفیسران اور جوانوں نے خون کے عطیات دیئے جبکہ ریجنل پولیس آفیسر اختر حیات گنڈا پور اور ضلعی پولیس سربراہ کیپٹن (ر) واحد محمود کا4اگست یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے یادگار شہدائے پر پھول چڑھائے اور شہداء کی بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی پولیس آفیسران نے جگہ جگہ شہدائے پولیس کے قبروں پر حاضری دی اور شہداء کے ورثاء سے ملاقاتیں کیں اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیاگیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر اختر حیات گنڈاپور نے کہا کہ قانون کی بالادستی ہو یا امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہو یاسماج دشمن عناصر سے مقابلہ، ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان اپنی ذمہ داریوں سے احسن طور پر عہدہ براء ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے آئے ہیں۔ شہدائے پولیس کی ان عظیم قربانیوں کی یاد میں ہر سال4 اگست کادن یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔یوم شہدائے پولیس کے منانے کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی یاد میں بڑی تقاریب کا انعقادکرناہے جس میں شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی و خون کے عطیات دی جاتی ہے اور محکمہ پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔یوم شہدائے پولیس پر اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہدا ء ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھولے نہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے، ہمیں ان کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے دریں اثناء یوم شہداء پولیس کے حوالے سے ایک تقریب پولیس لائنز کلب میں منعقدہوئی جس میں شہداء کے خاندانوں نے کثیرتعداد میں شرکت کی اس موقع پر ڈی پی او کیپٹن (ر) واحد محمود مہمان خصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ایس پی اپریشن گل نوازخان نے کی تقریب میں سکولوں کے بچوں کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا جس کا موضوع تھا ’’ شہید کی جوت موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ‘‘ تقریری مقابلے میں اورینٹل پبلک سکول کے طالب علم نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ معروف شاعر اورنگ زیب نسیم اورپولیس کانسٹیبل تیمورخان نے منظوم کلام کے ذریعے پولیس فورس کے بہادر شہداء کوخراج تحسین پیش کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او ڈاکٹر کیپٹن (ر) واحد محمود نے کہاکہ مردان پولیس نے امن امان کی قیام کے لئے جس جرآت کے ساتھ اپنے جانوں کے نذرانے دیئے ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں جسے ہمیشہ یادرکھاجائے گا انہوں نے کہاکہ شہداء خاندانوں کے مسائل کے حل کے لئے ایس ایم ایس سروس کے ساتھ ساتھ شہداء ڈیسک بھی قائم ہے جبکہ پولیس آفیسران 24گھنٹے ان کے مسائل کے حل کے لئے موجودہیں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس فورس نے ہر اول دستے کے طورپر فرائض انجام دیئے اورسینہ تان کر وطن کی مٹی کے خاطر جان دے دی انہوں نے کہاکہ شہید کااجرللہ کے ہاں بہت بڑاہے اس موقع پر تقریری مقابلوں میں حصہ لینے والے پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کیں * ایس پی نذیر خان نے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج وطن عزیز میں امن و سکون ہے ۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے لئے مشغل راہ ہیں۔ پولیس شہداء کے لواحقین اور بچوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔ چارسدہ کے 86شہداء سمیت خیبر پختونخوا کے تمام پولیس شہداء کی قربانیاں تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائیگا۔ وہ یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی پی خیبر پختون نخوا کے احکامات پر ضلع چارسدہ سمیت خیبر پختونخوا میں یوم شہدائے پولیس 4اگست منایا جا رہا ہے ۔ ضلع چارسدہ میں 86سے زائد شہید پولیس افسر ان امن برقرار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ زندہ اور غیور اقوام بلا شبہ اپنے ہیرو کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اورملک اور قوم کے لئے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ان شہداء نے جرت اور دلیر ی کی ایک مثال قائم کی ہے۔پولیس آفیسر ز اور اہلکاروں نے اپنے جان کی پروا نہ رکھتے ہوئے قوم و ملک کی حاطر شہادتیں نوش کئے ہیں ۔ایس پی نذیر خان نے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج وطن عزیز میں امن و سکون ہے ۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے لئے مشغل راہ ہیں۔ پولیس شہداء کے لواحقین اور بچوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔ اس سے قبل ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ نذیر خان نے چارسدہ پولیس کے چاق و چوبند دستے کے ہمراہ شہید ایس پی خورشید خان کے مزار کو سلامی پیش کی ان کے قبر پر پھول نچھاور کئے اور شہید کے ایصال و ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی *ڈسٹرکٹ پولیس افیسر بونیر صادق بلوچ نے کہاہے کہ یوم شہداء پولیس منانے کا مقصد پولیس افیسرز اور جوانوں کی قربانیوں کو یاد کرناہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبہ خیبر پختون خواہ میں 1600 سے زائید پولیس جوانوں اور افیسرز نے قربانیاں دیکر اس ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرانے میں اپنا کردار اداکیا۔شہید کھبی مرتے نہیں بلکہ وہ ہم سے جداہوتے ہے ۔بونیر میں 34 پولیس جوانوں نے جام شہادت نوش کئے ۔اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب ڈی پی اوافس کے لان میں منعقد ہو ئی جس میں ڈسٹرکٹ ناظم ڈاکٹر عبیداللہ ،نائب ناظم یو سف علی خان ۔معروف کمنیٹریٹر قمرواللہ خان قمر ،شہداء کے لواحقین اور پولیس افیسرز نے شرکت کی ۔ڈی پی اوبونیر نے کہا کہ میرے دفتر کے دروازے شہداء کے لواحقین کے لئے ہر وقت کھلے ہے ۔شہداء کے بچوں اور انکے اہل خانہ کو درپیش مسائل حل کرنا میری اولین ترجیح ہے ۔اس موقع پر سماجی کارکن اورپروگرام کے سٹیج سیکرٹری قمرواللہ خان قمر نے کہا کہ جس طرح قیام امن کے لئے پولیس نے قربانیاں دی ہے ۔اسطرح عوام نے بھی پولیس کے ساتھ مل کر قربانیاں دی ہے ۔ڈی پی او بونیر ،ڈسٹرکٹ ناظم ،نائب ناظم ،ایس پی انوسٹی گیشن نے شہداء لے لواحقین میں تحفے تقسیم کئے اور انکے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوانئے ۔بعد میں انکے اعزاز میں پر تکلف دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا *ریجنل پولیس آفیسردارعلی خٹک نے کہاہے کہ خیبرپختونخواپولیس کی لازوال قربانیاں ہیں ‘خیبرپختونخوامیں اب تک1600افسران وجوان شہید ہوچکے ہیں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں172افسران وجوان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوچکے ہیں ۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ اب ہم نے اپنی لاشیں نہیں اٹھانی بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دہشتگردوں کی لاشیں اٹھانی ہیں ۔ دہشتگردلوگوں کے اندرموجودہیں ۔بعض لوگ سہولت کار ہیں اوران کوبچانے والے بھی ہیں لیکن اب یہ منافقت نہیں چلے گی ۔یادہشتگردوں کے ساتھ ہوں گے یاپولیس کے ساتھ یہ فیصلہ لوگوں نے کرناہے ۔لوگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تو دہشتگردچھپ نہیں سکیں گے ۔ ان خیالات کا ا ظہارانہوں نے یوم شہداء پولیس کے حوالے سے ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی اسمبلی ہال میں منعقدہ ایک پروقارتقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت میں کیا۔ تقریب میں کمشنر ڈیرہ جاویدخان مروت ،وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرمحمدسرور چوہدری ،ڈی پی او ظہوربابرآفریدی ،ایس پی صدرحسن افضل سمیت پولیس افسران ،سول سوسائٹی ،میڈیا،مختلف مکاتب فکر کے علماء اورڈی آرسی کے ممبران کے علاوہ شہداء پولیس کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس سے قبل یوم شہداء کے حوالے سے شہداء کی قبروں پرمختلف قبرستانوں میں ڈی ایس پیزنے پھول چڑھائے اوران کو سلامی دی جبکہ پولیس لائن میں یادگارشہداء پر بھی آرپی او دارعلی خٹک اورڈی پی او ظہوربابرآفریدی نے پھول چڑھائے اورسلامی پیش کی ۔آرپی اواورکمشنر ڈیرہ نے شہداء کیلئے لواحقین میں گفٹ پیک بھی تقسیم کیے ۔آرپی او دارعلی خٹک نے کہاکہ میں شہداء کے لواحقین کوسلیوٹ پیش کرتاہوں کہ ان کے باپ اوربیٹے شہادت جیسے رتبے پر فائز ہوئے ۔پولیس کی زندگی کامقصدسربکف ہے ۔ شہداء کے رشتہ داروں ا ورغازیوں کیلئے میرے دفترکے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ۔ ان کے جائز مسائل کے حل میں رتی بھربھی تاخیرنہیں ہوگی ۔شہداء ڈیسک قائم ہوچکاہے ۔ دہشتگرد مسلمان نہیں ۔ ان کاسوشل بائیکاٹ کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ گومل یونیورسٹی میں شہداء کے بچوں کیلئے دوسیٹیں مختص ہیں ۔ اس موقع پر ملی نغمہ بھی پیش کیاگیا جبکہ انچارج بم سکواڈعنایت اللہ ٹائیگرکی محکمہ پولیس اورعلاقے کیلئے خدمات کوخراج تحسین بھی پیش کیاگیا۔ڈی پی اوظہوربابرآفریدی نے بعدازا ں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکے دوران بتایاکہ یوم شہداء پولیس کے حوالے سے مختلف تقاریب کااہتمام کیاگیاجس میں بلڈکیمپ ،امن واک اورشہداء کوخراج تحسین پیش کرنے کیلئے استقبالیہ کیمپ کاانعقادکیاگیا جس میں لوگوں نے اپنے تاثرات تحریرکیے ۔انہوں نے کہاکہ ہم شہداء کو بھولے نہیں بلکہ ان کی قربانیوں کو ہروقت یادرکھاجائے گا*خیبر پختون خواہ کے دیگر اضلاع کی طرح ٹانک میں بھی 4 اگست کو پولیس کے یوم شہدا ء کے طور پر منایا گیایوم شہداء کی تقریب ڈی آر سی کے ہال میں منعقد ہوئی جس میں ٹانک کے کمانڈنگ آفسیر لیفٹینٹ کرنل ساجد، ڈپٹی کمشنر شاہ رخ علی خان ،ضلعی پولیس سربراہ محمد عارف ،شہداء کے اہلخانہ پولیس کے افسران ،پریس کلب کے صدر آور دین، مقامی صحافیوں، معززین علاقہ ،بلدیاتی نمائندوں، مختلف اسکولوں کے طلباء و طالبات ،سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں سمیت معززین علاقہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت اس موقع پر اسکولوں کے طلباء اور طالبات نے ملی نغمے ،قومی ترانے اوتقاریریں پڑھ کر پولیس کے شہداء کو ملک اور قوم کے لئے دی جانیوالی لازاوال قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا لیفٹینٹ کرنل ساجد، ڈپٹی کمشنر شاہ رخ علی خان اور ڈی پی او محمدعارف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ٹانک پولیس کے 23جوانوں نے جام شہادت نوش کرکے قیام امن کیلئے قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے جس پر شہداء اور ان کے اہلخانہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ٹانک پولیس نے محدود وسائل کے باوجودبھی 2007ء میں دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ٹانک میں امن کی فضاء قائم کی انہوں نے کہا کہ ٹانک جنوبی اضلاع کا واحد ضلع ہے جو دہشت گردی کی لہر سے براہ راست متاثرہوا لیکن عوام کے تعاون پولیس اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں سے علاقہ میں امن قائم ہوا اورسماج دشمن عناصر کے مذموم مقاصد خاک میں ملا دئیے گئے دہشت گردی کے خلاف لڑی جانیوالی جنگ میں خیبر پختون خواہ پولیس فرنٹ لائن پر رہی اور اس فورس نے ایڈیشنل آئی جی سے لیکر سپاہی تک قربانیوں کی داستان رقم کرتے ہوئے دنیا میں اپنے آپ کو بہترین پولیس فورس کے طور پرمنوایا جو کہ قابل تحسین ہے تقریب کے اختتام کے اختتام پر کرنل ساجد،ڈپٹی کمشنر شاہ رخ علی خان اور ضلعی پولیس سربراہ محمد عارف نے پولیس کے شہداء کے لواحقین میں تحائف تقسیم کئے*ضلع صوابی میں یوم شہدائے پولیس انتہائی جوش و خروش سے منا یا گیا۔ اس سلسلے میں پولیس آفسران نے ضلع بھر کے پولیس شہداء کے قبروں پر ایس پی انوسٹی گیشن محمد آیاز ملک، ڈی ایس پیز ،حاجی سیف علی ،ظریف خان، اقبال خان ،سجاد حسین ،شکیل خان نے پھولوں کی چادر چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ ماہ اگست نہ صرف آزادی کا مہینہ ہے بلکہ دفاعی وطن کے لئے قربانی دینے والے نوجوان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا مہینہ ہیں چار اگست یوم شہداء پولیس کادن ہیں ۔ ان خیالات کااظہار ڈی پی او صوابی سید خالد ہمدانی نے شہدائے پولیس کے ورثاء سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہیں اس بہادر نڈر پولیس شہداء پر جنہوں نے اپنے جان کی پر واہ نہ رکھتے ہوئے قوم و ملک کی خاطر جام شہادت نوش کیے ہیں،آئی جی پی خیبر پختون خواء کے احکامات پر خیبر پختونخواء میں یوم شہدائے پولیس 4اگست پولیس کے بہادر اورفرض شناسی نڈر آفسر صفوت غیور شہد کی یوم شہادت کے طور پر یوم شہدائے پولیس منانے پر حراج عقیدت و فخر سلامی پیش ہو رہے ہیں ، دہشت گردی کے جنگ میں ضلع صوابی کے 52سے زائدشہید پولیس آفسران امن بحال برقرار کرنے میں کامیاب ہوئے زندہ اور غیور اقوام بلا شبہ اپنے ہیروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ،اورملک اور قوم کے لئے ان کی خدمات کو کھبی فراموش نہیں کرتے ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت نہ صرف قومی ملک بین القوامی سطح مسلمہ ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ صوابی پولیس کی تاریخ جذبہ ایثار حب الوطنی اور فرض شناسی کے علاوہ ان عظیم اقدار کے تخفظ اور فروخت کے لئے لازوال قربانیوں سے بھر ی پڑی ہیں جہاں جرت اور دلیری کی بات آئے تو دنیا کے کوئی پولیس فورس خیبر پختون خواء کا مقابلہ نہیں کر سکتے خیبر پختونخواء پولیس کا ہر پولیس آفسر اور جوان شجاعت اور دلیری کے میدان میں ہیرو ہے*ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ رسول شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی دین ومذہب نہیں، ہم سب کو مل کراس ناسور کو ختم کرنا ہوگا، ظالم کا ہاتھ روکنا اور مظلوم کی مدد کرنا عین عبادت ہے ، ہمیں اپنے شہیدوں پر فخر ہے جنہوں نے ملک وقوم کی بقا کیلئے جام شہادت نوش کی موجودہ حالات میں ہماری پولیس دنیا کی بہترین پولیس فورس میں شمار ہوتی ہے جوکہ سخت ترین دور ،دہشت گردی اور وسائل کی کمی کے باوجود انتہائی جانفشانی سے ڈیوٹی دے رہی ہے اس مشکل دورمیں پولیس کی بے پناہ قربانیاں ہیں اور مزید بھی ہماری پولیس فورس چوکس اور ثابت قدم رہے گی تمام پولیس انتہائی اہمیت رکھتے ہیں،خیبر پختون خوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے آج ملاکنڈ ڈویژن اور پورا صوبہ امن کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔خراب حالات میں سوات میں بذات خود ڈیوٹی سر انجام دی ،پولیس کے ساتھ سول سوسائٹی کی قربانیا ں تاریخی ہیں ۔حق ، انصاف اور پائیدار امن کیلئے پولیس فورس اور سول سوسائٹی کی قربانیاں لازوال ہیں،پولیس فورس نے اپنے سینے تھان کر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا ، ہمارے حوصلے پست ہوئے نہ ہونگے۔پولیس شہید کو کبھی بھی بھولا نہیں جاسکتا ، ان کی خون کے نذرانے سے ملک میں پائیدار امن اور استحکام نصیب ہوا۔خیبر پختونخوا پولیس کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں ۔ان خیالات کاا ظہارہفتہ کے روز یوم شہدائے پولیس کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پولیس لائن الپوری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یوم شہداء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او شانگلہ نے کہا کہ ہمیں اپنے شہیدوں پر فخر ہے جنہوں نے ملک وقوم کی بقا کیلئے جام شہادت نوش کی ہے۔پولیس فورس میں نئے بھرتی ہونے والے نوجوان نسل کوملک و قوم کی تحفظ کیلئے تیار کیا جارہا ہے، تمام پولیس انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کی کوشیشوں سے محکمہ پولیس میں بہت بہتری آگئی ہے۔تقریب میں مقررین نے پولیس جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ شیر ہیں اور شیر کھبی مردار نہیں کھاتا، اور ہمیشہ تیار اور چوکس رہتا ہے۔ ہماری تاریخ لازوال قربانیوں اور شہادتوں سے بھری پڑی ہیں ، ہم اپنے شہداؤں میں حضرت حمزہؓ ۔حضرت عثمانؓ ۔حضرت عمرؓ ،حضرت امام حسینؓ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ تقریب میں شہداء کی ایصال ثواب اور بلند درجات کیلئے دعامانگی گئی۔شانگلہ پولیس کے جانب سے شہداء کے قبروں پر پھولوں کے چادر چڑھاکر سلامی دی گئی۔اس موقع پر پولیس پریڈ اور بینڈ کا شاندار مظاہرہ کیا گیا ،پولیس نے خون دے کر اس چمن کی ابیاری کی،پولیس کی قربانی کی وجہ سے آج یہ خطہ امن کا گہووارہ بناہے،زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولا کرتی۔تقریب سے ایس پی انوسٹی گیشن محمد خالد،اسسٹنٹ کمشنر الپوری طارق محمود،معروف سماجی رہنماء سید ساجد شاہ،چیئرمین ڈی ار سی کمیٹی بحر الدین خان،مولانا شاہ ولی اللہ و دیگرمشران نے خطاب کیا۔یوم شہداء کے تقریب میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈکٹر غلام رحمانی، ڈی ایس پی سرکل امجد علی،ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر بشیر خان ،ممتاز سماجی کارکن سید ساجد شاہ،ضلعی کونسلر صابر رحمان،معروف صحافی محمد یونس،ریٹائر پولیس افیسر بحرا لدین خان ، معروف قانون دان شاہ فود ،مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوزاور دیگر سیاسی،سماجی،سول سوسایٹی،بار کے نمائندوں نے شرکت کی ،تقریب کی شرکاء میں شامل شہدا کے والدین،عزیز و اقا رب نے اپنے جوانوں کو ملک و قوم پر قربان کرنے کو فرض قرار دیتے ہوئے فخریہ جملے کہے اور ملک و قوم پر اپنی جان نچھاور کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا عہد کیا۔ ملک و قوم کو فخر ہے ان بہادر نوجوانوں نے اپنی زندگی کی شمع گل کر ملک کو اپنی خون سے روشن کیا آج ہم جس فضاء میں سانس لے رہے ہیں جوانوں کی اس قربانی کا مرہون منت ہے انھوں نے کہا کہ اپنے ملک اور قوم کی دفاع،لوگوں کی مال و جان کی حفاظت ہم پر فرض اور قرض ہے اور ہم اس قرض کو ادا کرتے رہیں گے *کوہاٹ میں یوم شہدائے پولیس انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔اس حوالے سے مرکزی تقریب کوہاٹ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم ہال میں منعقد ہوئی جس میں ڈی آئی جی کوہاٹ ریجن محمد اعجاز،سٹیشن کمانڈربریگیڈئیر اقبال خان نیازی ،بریگیڈئیر جاوید دوست چانڈیو،ڈی پی او کوہاٹ سہیل خالد ،ڈی پی او کرک ، ڈی پی او ہنگو شہاب علی شاہ،کمانڈنٹ ایف سی،ضلع ناظم کوہاٹ نسیم آفریدی،چیف جسٹس (ر) ابن علی کے علاوہ بڑی تعداد میں پولیس و فوجی افسران ،کوہاٹ ریجن کے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین،منتخب عوامی نمائندوں،اور شہر کی نمایاں شخصیات نے بھر پور شرکت کی۔ تقریب میں سکولوں وشہداء کے بچوں اورپولیس اہلکاروں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے حمد ونعت، نظمیں،ملی نغمے اور تقاریر پیش کیں۔تقریب میں شہدائے پولیس کیلئے خصوصی سلامی پیش کی گئی اور یاد گار شہداء پر پھولوں کے گلدستے چڑھائے گئے۔تقریب کے شرکاء شہداء کی یاد میں فرط جزبات سے اسوقت آبدیدہ ہوگئے جب انکی لازوال قربانیوں کو نظموں اور تقاریر میںیاد کیاجاتا رہا۔مرکزی تقریب کے دوران ڈی آئی جی کوہاٹ محمد اعجاز نے شہدائے پولیس کے لواحقین کے انفرادی واجتماعی مسائل سنے اور موقع پر ان مسائل کے حل کے حوالے سے احکامات جاری کئے۔اس موقع پر شہدائے پولیس کے ورثاء میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے جبکہ منعقدہ تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنیوالے بچوں کو انعامات سے نوازا گیا۔ دھرتی کی حفاظت اور امن واستحکام میں وردی والوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔قوم و ملک پر جان نچھاور کرنیوالے شہداء ہمارے قومی ہیرو ہیں انکے ورثاء کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے اوربدامنی کے پیچھے کار فرمامٹھی بھر عناصر کو ملکر شکست دینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار ڈی آئی جی کوہاٹ ریجن محمد اعجاز اور دیگر نے کوہاٹ میںیوم شہدائے پولیس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے اپنے خطاب میں ڈی آئی جی کوہاٹ ریجن محمد اعجاز،سٹیشن کمانڈر بریگیڈئیر اقبال خان نیازی،بریگیڈئیر جاوید دوست چانڈیو اور ڈی پی او کوہاٹ سہیل خالد کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فورسز اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں اب تک پولیس کے 1675پولیس افسران اور اہلکار لہو کی قربانی دیکرجام شہادت نوش کرچکے ہیں جن میں کانسٹیبل سے لیکر آئی جی پولیس کے ہر رینک کا پولیس افسر شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دھرتی کے پیچھے وردی ہے اور وردی والوں خواہ انکا تعلق کسی بھی فورس سے ہے نے اپنی جان پر کھیل کر اس دھرتی کی حفاظت کو ممکن بنادیا ہے اور ملک و قوم کی بقاء و سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کرنیوالے خیبر پختونخوا پولیس کی لازوال قربانیوں کو تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھاجائے گا اور پاک سر زمین کی حفاظت اور قیام امن پر جان قربان کرنے والے شہید اہلکاروں کے لواحقین کو کسی صورت تنہا نہیں چھورا جائے گا۔تقریب سے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ شر پسند عناصرکے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر پولیس اور دیگر فورسز کے جوانوں نے دہشتگردی کو مات دی ہے اور اب بد امنی کے پیچھے کار فرما بچے کچے مٹھی بھر شرپسند عناصر کے ناپاک قدموں کو اس پاک دھرتی پر جمنے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا اورایسے عناصر کو نیست ونابود کرنے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا*شبقدر میں 4اگست یوم پولیس شہداء کے موقع پر مختلف علاقوں میں پولیس شہداء کے قبروں پر پھولوں کے چادر چڑھائے گئے ۔ پولیس شہداء کو حراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے ان شہداء کو زبردست حراج عقیدت پیش کی ۔ تھانہ شبقدر ، سروکلی ، بٹگرام اور حواجہ اوس کے حدود میں پولیس شہداء کے دن کی مناسبت سے ایس ایچ او تھانہ شبقدر ولایت خان ، انچارج سپیشل برانچ ظہور خان اور دیگر پولیس تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت دیگر اہلکاروں نے پولیس شہداء کے قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہیں زبردست حراج عقیدت پیش کی ہیں ۔ پولیس اہلکاروں نے پولیس شہداء کے قبروں پر کاخاضری دیتے ہوئے ان کے قبروں پر پھولوں کے چادر چڑھائے اور ان کے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔ اس موقع پر شہداء کے قبروں پر پاکستان اور پولیس پرچم بھی تبدیل کئے گئے ۔ شبقدر میں پولیس اہلکاروں نے شہداء کے ورثاء اور بچوں سے بھی ملے ۔ اور پولیس شہداء کے قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان شہداء کی قربانیوں کے بدولت آج ملک میں آمن قائم ہو چکا ہیں انہوں نے کہا کہ ان شہداء کے قربانیوں کو کھبی فراموش نہیں کیا جائیگا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر