کیا عمران خان پاکستان کے مسائل حل کر سکیں گے؟

کیا عمران خان پاکستان کے مسائل حل کر سکیں گے؟
کیا عمران خان پاکستان کے مسائل حل کر سکیں گے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یوں تو پاکستان میں بے شمار چھوٹے بڑے مسائل موجود ہیں مگر اس وقت ہم دو انتہائی اہم مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا سب سے بڑا چیلنج پاکستان کا بیرونی قرضہ ہے جو اب 92 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے اور اس میں 3 کھرب 48 ارب روپے وہ رقم ہے جو فوری طور پر سود کی مد میں ادا کرنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ قومی خزانے میں اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی کہ یہ قرضہ یا کم از کم اس کے سود کی رقم ہی ادا ہو جائے؟ اور اگر ساری رقم قرضے کی ادائیگی میں دے دی جائے تو سال بھر کے بجٹ کی رقم کہاں سے آئے گی اور عمران خان صاحب جو کروڑوں ملازمتیں اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں اس کے اخراجات کہاں سے لائیں گے؟

اگر تو کرپشن، آفشور کمپنیوں اور دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کر کے باہر منتقل کی گئی رقم واپس لا کر یہ سب خسارے پورے کرنے کا سوچا جا رہا ہے تو یہ سوچنے کی حد تک نہایت درست ہے مگر عملی طور پر نا صرف بہت مشکل ہے بلکہ تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ ایک تو یہ طویل المیعاد کام ہے اور دوسرا یہ کہ عمران خان صاحب کے کچھ قریبی احباب بھی اس کی زد میں آئیں گے اور وہ کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

دوسرا بڑا چیلنج لوڈشیڈنگ کا ہے۔ نون لیگ نے اپنے دورِ حکومت میں نہ تو کوئی ڈیم بنائے، نہ شمسی پلانٹ لگایا، نہ ایٹمی بجلی گھر بنایا، نہ ونڈ پاور اور نہ کول پاور کا کوئی منصوبہ مکمل کیا بلکہ جو پہلے سے نندی پور پاور پراجیکٹ، تھرکول پاور پراجیکٹ اور قائداعظم سولر پارک جیسے بڑے منصوبوں پر کام جاری تھے وہ بھی کرپشن کی نذر ہو کر ٹھپ ہو گئے، لیکن اس کے باوجود لوڈشیڈنگ بہت حد تک کم ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کون سا فارمولا استعمال کیا گیا کہ جس سے بغیر کوئی پراجیکٹ مکمل ہوئے بجلی بننا شروع ہوگئی اور لوڈشیڈنگ بھی کم ہوگئی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں تیل سے بجلی پیدا کی گئی جسے "تھرمل بجلی" بھی کہتے ہیں اور یہ بجلی پیدا کرنے کا سب سے مہنگا طریقہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس طریقہ کار کو امریکہ اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی استعمال نہیں کیا جاتا۔ نوے کی دہائی میں لگائے جانے والے تھرمل جنریٹرز کو اگرچہ بہت کم استعمال کیا گیا تھا مگر پھر بھی انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے پاکستان ان نجی تھرمل پاور پلانٹس کا 480 ارب روپے کا مقروض ہو گیا۔ نواز شریف نے 2013ء میں اقتدار سنبھالتے ہی قومی خزانے سے 480 ارب روپے اٹھائے اور تھرمل پاور پلانٹس کو ادائیگی کرکے مزید بجلی پیدا کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس عمل سے نواز شریف کو دو بڑے فوائد حاصل ہوئے۔ ایک تو لوڈشیڈنگ بہت جلد کنٹرول ہوگئی، دوسرا یہ کہ یہ جنریٹرز جنہیں آئی پی پیز بھی کہا جاتا ہے مبینہ طور پرزیادہ تر میاں منشاء کی ملکیت تھے جسے نواز شریف کا فرنٹ مین سمجھا جاتا ہے، سادہ لفظوں میں نواز شریف نے قومی خزانے سے 480 ارب روپے نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیے جبکہ اسی قیمت میں ایک بڑا ڈیم بنایا جا سکتا تھا جس سے پاکستان ناصرف بجلی کے معاملے میں خود کفیل ہو جاتا بلکہ پانی کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی۔

اب اگر عمران خان صاحب بھی نواز شریف کی طرح تیل سے بجلی بنائیں گے تو قومی خزانے میں کسی اور پراجیکٹ کی رقم نہیں بچے گی اور اگر وہ ڈیم اور دیگر پائیدار منصوبہ جات شروع کرتے ہیں تو ان کی تکمیل میں ایک طویل عرصہ درکار ہوگا جسے نا صرف پاکستانی قوم کی عجلت پسندی برداشت کر پائے گی اور نہ ہی اتنا طویل عرصہ اپوزیشن خاموش رہے گی۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جب کرپٹ عناصر وفاق میں برسرِ اقتدار تھے، جس وقت ان کے مکروہ پیٹ بھرے ہوتے تھے تب بھی وہ عمران خان کو کے پی کے میں اچھی طرح کام نہیں کرنے دیتے تھے، اور اب جب اس مافیا کے پاس اقتدار کی کرسی بھی نہیں ہے اور ان میں سے کچھ لوگ الیکٹیبلز کی شکل میں ہروقت عمران خان کے اردگرد منڈلا رہے ہیں تو ایسی صورت میں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن رکھنا کس قدر مشکل ہو گا؟

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ