اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 6

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 6

  

یہ ایک ناممکن اور انہونی بات تھی۔ آج تک کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا۔ بوڑھا حباش بھی حیرت زدہ تھا۔ میں نے حباش سے کہا۔ ’’ حباش ! مجھے میری پیاری بیوی کے پاس لے چلو۔‘‘

وہ میر امنہ تکنے لگا جیسے کہہ رہا ہو۔ میرے آقا! آپ اسی طرح جوان نہیں مگر آپ کی بیوی جو کبھی چاند کی طرح خوبصورت اور پھولوں کی طرح شگفتہ اور حسین تھی، اب ایک بوڑھی کھوسٹ عورت میں بدل چکی ہے۔ کیا آپ اسے دیکھ سکیں گے ؟ میں نے حباش کے دلی خیالات کو پڑھتے ہوئے کہا۔

’’ مجھے میری پیاری بیوی کے پاس لے چلو، ابھی ۔۔۔ میں ابھی یہاں سے روانہ ہونا چاہتا ہوں۔‘‘

’’ جو حکم میرے آقا! میں سواری کے لئے گھوڑے لاتا ہوں۔ آپ تشریف لے چلئے۔‘‘

بوڑھا حباش مجھے لے کر حویلی کے صحن میں آگیا۔ یہ پائیں باغ کا صحن تھا۔ اس کے پاس اپنا ایک گھوڑا تھا۔ میرے لیے وہ کسی دوست کے گھر سے دوسرا گھوڑا لے آیا۔ ہم گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور قدیم ترین شہر دمشق کی ٹھنڈی اندھیری رات کی گہری خاموشی میں سرحدی گاؤں کی رطف روانہ ہوگئے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 5پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

صبح کے سورج کے سنہری روشنی صحرا میں پھیل چکی تھی کہ ہم زیتون کے درختوں کے جھنڈ میں ایک کچے مکان کے باہر پہنچ کر رک گئے۔ حباش نے اپنا بوڑھا ہاتھ اٹھا کر مکان کی طرف اشارہ کیا۔

’’ میرے آقا! شہزادی صاحبہ اسی مکان میں قیام پذیر ہیں۔‘‘

میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ میں اپنی حسین بیوی کو ایک بوڑھی عورت کی شکل میں کیسے دیکھ سکوں گا؟ اور پھر مجھے جوان حالت میں دیکھ کر کہیں وہ دہشت زدہ نہ ہو جائے ۔۔۔ میری ذہن مین طرح طرح کے خیالات کی موجیں تلاطم برپا کر رہی تھیں۔ بوڑھا حباش ہاتھ باندھے خاموش کھڑا تھا۔ مین نے مکان پر ایک نگاہ ڈالی۔ کچی دیوار پر انگور کی بیل چڑھی ہوئی تھی۔ صحن میں پانی کے بڑے مٹکے کے اوپر نیلا آب خورہ اوندھا پڑا تھا۔ سامنے کوٹھری کا دروازہ کھلا اور ایک نوجوان کنیز باہر نکلی۔ اس کے ہاتھ میں لکڑی کی رقابی تھی جس میں لکڑی کا چمچ رکا تھا۔ اس نے حباش کو دیکھا تو آگے بڑھ کر تعظیم دی۔ وہ مجھے نہیں جانتی تھی۔ اس نے حباش سے کہا۔

’’ آپ اندر تشریف لے چلئے آقا۔ ‘‘

’’ کیا شہزادی صاحبہ جاگ رہی ہیں ؟‘‘ حباش نے پوچھا۔

’’ ہاں میرے آقا۔‘‘ کنیز نے کہا۔

’’ تم جا سکتی ہو۔‘‘

کنیز چلی گئی۔ حباش نے میری طرف دیکھا اور کہا۔

’’ میرے آقا عاطون! آپ شہزادی صاحبہ سے مل لیجئے۔ وہ پچاس برس سے آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ ‘‘

میں نے بوڑھے حباش کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور بوجھل بوجھل قدم اٹھاتا کوٹھری کے دروازے میں سے اندر داخل ہوگیا۔ کوٹھری کی عقبی کھڑکی میں سے دن کی روشنی آرہی تھی۔ کھڑکی کے پاس ایک چارپائی بچھی تھی جس پر ایک عورت لیٹی تھی۔ اس کا چہرہ چھت کی طرف تھا اور جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی۔ یہ میری بیوی سمارا تھی جس کے عارض بہار آفرین سے کبھی خرطوم کے سرخ گلاب کی کرنیں پھوٹا کرتی تھیں۔ اس کے بال سفید ہوچکے تھے۔ یہ وہ بال تھے جن کی سیاہی کبھی افریقہ کی سیاہ گھٹاؤں کو شرماتی تھی اور جن کے جوڑے میں سے کبھی دریائے نیل کے دریائی کنول پھولوں کی مہک اڑا کرتی تھی۔ وقت اور میری موت کے غم نے اسے بے حد بوڑھا کر دیا تھا۔ یہ سمارا تھی۔ ستر برس کی بوڑھی عورت ۔۔۔ ضعیف ، جھریوں ، بھری ، ہڈیوں اور ڈھانچہ۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس نے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس کرتے ہوئے نحیف آواز میں پوچھا۔

’’ مجھے اٹھا کر بٹھا دو شالیان!‘‘

میں سمجھ گیا، وہ مجھے اپنی کنیز سمجھ رہی تھی جو ابھی ابھی اسے دودھ اور شہد پلا کر گئی تھی۔ میں دو قدم چل کر اپنی بیوی کی چارپائی کے قریب آکر زمین پر بیٹھ گیا۔ میں نے آہستہ آہستہ سے اس کی کمر کے نیچے ہاتھ ڈال کر اسے اٹھانا چاہا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ شاید اس نے کسی اجنبی مرد کے ہاتھ کے لمس کو محسوس کر لیا تھا۔

’’ کک ۔۔۔ کون ہو تم ۔۔۔ ‘‘

اس نے اپنی کمزور اور ادھ کھلی آنکھوں سے میرے چہرے کو دیکھا اور اس پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔ اس کے ہونٹ کپکپانے لگے۔ میرے ہاتھوں میں تھامے ہوئے جسم نے ایک جھرجھری سی لی اور اس کے ہونٹ اپنے آپ کھلتے چلے گئے۔

’’عاطون!‘‘

’’ ہاں سمارا۔ میں ہوں عاطون۔ تمہارا خاوند ۔۔۔ تمہارا محبوب شوہر!!‘‘

اس کے چہرے پر محبت کا ایک نور سا پھیل گیا۔ کانپتے ہونٹ ایک بار پھر ہلے۔

’’ تم جنت سے مجھے لینے آئے ہو۔ میں آرہی ہوں۔ میں آرہی ہوں۔ ‘‘

اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہتا۔۔۔ اس کا سفید بالوں والا بوڑھا سر آہستہ آہستہ ڈھلک کر میرے سینے سے لگ گیا۔

’’ سمارا۔۔۔ ‘‘

میں نے چیخ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔ اس کی گردن پیچھے کو ڈھلک گئی۔ سمارا مر چکی تھی۔ میری دل دوز چیخ سن کر بوڑھا حباش اندر آگیا۔ سمارا کا مردہ جسم میرے بازوؤں میں تھا اور کھلی کھڑکی میں سے سورج کی سنہری روشنی اس کے جھریوں بھرے پرسکون نورانی چہرے کو اور زیادہ منور کر رہی تھی۔ حباش کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔

’’ میرے آقا! عمر بھر کا طویل انتظار ختم ہوگیا۔ شہزادی صاحبہ کی روح کو سکون مل گیا۔

اور وہ آنسو پونچھنا باہر نکل گیا۔ میں نے اپنی پیاری بیوی کے بوڑھے سر کو اپنے سینے سے لگایا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک طوفان امڈ پڑا۔ جانے میں کب تک اپنی وفا شعار بیوی کے مردہ چہرے کو اپنے سینے سے لگائے روتا رہا۔ جب میری دل کا غبار ہلکا ہوا تو میں نے حباش کو آواز دے کر اندر بلایا اور نم آلود آواز میں کہا۔

’’ میں اپنی پیاری سمارا کو مصر میں اپنی والدہ کی قبر کے ساتھ دفن کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’ میرے آقا! اس وقت مصر میں آپ کے تایا کفروتی کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے کی حکومت ہے۔ کہیں وہ آپ کو گرفتار کروا کر زندان میں نہ ڈال دے۔ ‘‘

’’ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’ مجھے اب جینے سے کوئی دلچسپی نہین۔ میرا اس دنیا میں اب کون رہ گیا ہے جس کے لئے زندہ رہوں گا۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اپنی انپی بیوی کو مصر کے قبرستان میں اپنی والدہ کی قبر کے پہلو میں ہی دفن کروں گا۔‘‘

میں نے انپی بیوی کی لاش کو دمشق کے ایک ماہر حنوطی سے حنوط کروا کر ایک خوبصورت قیمتی تابوت میں رکھا اور ایک قافلے کے ساتھ اپنے وطن مصر کی طرف روانہ ہو گیا۔ حباش میرے ساتھ تھا۔ میری بیوی کے صندوق میں سے اس کے زیور، جواہرات اور میری کتاب طب بھی مل گئی۔ جس میں میرے اور میرے باپ کے انمول طبی نسخے اور نادر جڑی بوٹیوں کے خواص درج تھے۔ یہ ایک بے حد قیمتی ورثہ تھا جسے میری پیارے بیوی نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ زیورات ، کپڑے اور جواہرات میں نے اسی زمانے کے رواج کے مطابق اپنی بیوی کی ممی کے ساتھ تابوت میں ہی بند کر دیئے۔ اگرچہ میں خدائے واحد پر یقین رکھتا تھا اورمیرا یہ اعتقاد نہیں تھا کہ یہ جواہرات اور زیورات اور کپڑے اگلی دنیا میں میری بیوی کے کام آئیں گے لیکن میری بیوی ان باتوں پر اعتقاد رکھتی تھی ، اس لئے میں نے اس کے اعتقاد کے مطابق اس اس کی ساری چیزیں اس کے تابوت میں رکھ دی تھیں۔

تین راتوں کے سفر کے بعد پوپھٹے یہ قافلہ آج سے پانچ ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم مصر کے دارالحکومت ایتھنز کی ایک کارواں سرائے میں پہنچ گیا۔ پچاس برس گزر چکے تھے ۔ شہر بہت تبدیل ہو چکا تھا۔ بابل بادشاہوں کے حملوں نے اسے دوبار تاختہ و تاراج کیا تھا اور شہر ایک بار پھر آباد کیا گیا تھا۔ میرے جاننے والے نوجوان اب بوڑھے ہوچکے تھے اور بوڑھے مرکھپ چکے تھے۔ نہ وہ کفروتی فرعون رہا تھا اور نہ میرے خلاف سازش کر کے مجھے زندہ دفن کروانے والا شاہی طبیب زندہ تھا۔ ہم نے تابوت اتروا کر کارواں سرائے کی ایک کوٹھری میں رکھوالیا۔ حباش نے کہا۔

’’ میرے آقا عاطون! میں آپ سے ایک بار پھر عرض کروں گا کہ آپ دن کے وقت فرعون کے محل کی طرف مت جائیں۔ نیا فرعون آپ کو اس جلسے میں بہت جلد پہنچان لے گا کیونکہ آپ کی شکل و صورت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘‘

’’ حباش! ‘‘ میں کہا۔ ’’ میرا خدائے واحد تمہارے حفاطت کرے۔ یہ میرا وطن ہے میں اس شہر کے دریائے نیل کے ساحل پر کھیل کود کر بڑا ہوا ہوں۔ یہاں کے قبرستانوں میں میرے ماں باپ کی ہڈیاں دفن ہیں۔ ‘‘

’’ میرے آقا!‘‘ حباش بولا۔’’ آُ بجا فرما رہے ہیں لیکن آپ کی موجودگی سے فرعون کے تاج تخت کو خطرہ محسوس ہوسکتا ہے اور وہ آپ کو قتل کروانے سے دریغ نہیں کرے گا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم رات کی تاریکی میں تابوت لے کر قبرستان میں داخل ہوں۔‘‘

میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میرا دل اپنی بیوی سمارا کی موت کے غم سے ابھی تک بوجھل تھا۔ اگر میں بھی اس کے ساتھ بوڑھا ہوتا ہوا سال خوردگی کی عمر تک پہنچا ہوتا تو شاید اس کی موت مجھے اس قدر غمزدہ نہ کرتی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا تھا۔ میں جوان رہا تھا۔ میرے جذبات اور احساسات جوان اور متحرک رہے تھے لیکن بیوی بوڑھی ہوکر مر گئی تھی۔ اس کی ہمیشہ کی جدائی کا غم مجھے بالکل جوان ہر کر لگا تھا اور میں اس عظیم غم کی شدت کو بھرپور انداز اور احساس کے ساتھ محسوس کر رہا تھا۔

میں نے رات کی تاریکی میں سمارا کے تابوت کو اپنی والدہ کی قبر کے پہلو میں دفن کر دیا تھا۔ اب یہاں سوائے چھوٹے بڑے بکھرے ہوئے پتھروں اور خاردار جھاڑیوں کے اور کچھ نہیں تھا۔ یہی حال شاہی گورستان کا تھا۔ وہاں بھی خاردار جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں جن میں سیاہ کالے ناگ صحرائی ڈھوپ سے بچ کر آرام کر رہے تھے ۔

میں اور حباش واپس کارواں سرائے میں آگئے۔ اگلے دن میں نے ہلکے نیلے گاڑھے رنگ کا ایک لمبا کرتہ اور صافہ خرید کر باندھ لیا اور کاندھوں پر ایک نیلی چادر ڈال لی۔ اس زمانے کے طبیب اسی قسم کا لباس پہنا کرتے تھے۔ ایک تھیلا خرید کر اس میں اپنے والد محترم کی قیمتی کتاب طب اور کچھ جڑی بوٹیاں اور دوائی کی چند ایک چمڑے کی چھوٹی شیشیاں ڈال کر رکھ لیں اور حباش سے کا۔

’’ میرے وفادار بزرگ! اب یہاں سے تمہارا اور میرا ساتھ ختم ہوتا ہے۔ میں ایک ان دیکھی منزل کی طرف اپنا سفر کرتا رہوں گا۔ تم واپس اپنے گاؤں جا کر زندگی کے دن بسر کرو۔ یہاں سے شاید ہم ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں۔‘‘

میرا وفادار غلام حباش آبدیدہ ہوگیا۔ کہنے لگا۔

’’ میرے آقاً کیا آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے؟‘‘

’’نہیں حباش! میں زندگی کی خاردار راہوں پر جانے والا ہوں۔ مجھے خود اپنی منزل کا کچھ علم نہیں۔ اس عمر میں تم میرے ساتھ کہاں مارے مارے پھروگے۔ یہ میرا حکم ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ تم نے جس طرح اپنی والدہ کے بعد میرے بیوی کی بڑھاپے تک خدمت کی ہے۔ اس کا بدلہ میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ لیکن مجھے جب بھی تمہاری یا د آئے گی، میرا دل تمہارے سپاس گزاری کے احساس سے بھر آئے گا۔‘‘

میرے پاس میری بیوی کے صندوق سے نکلا ہوا اپنا ایک قیمتی ہیروں کا جڑاؤ کنگن تھا جو اس زمانے میں شاہی دربار کے امرا پہنا کرتے تھے۔ میں نے وہ کنگن حباش کو پیش کرتے ہوئے کہا۔

’’ اسے قبول کرو۔ انکار مت کرنا۔ مجھے دکھ ہوگا۔ یہ میری خواہش ہے کہ اسے تم اپنے پاس رکھو۔ ‘‘

بوڑھے حباش کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کنگن لے لیا اور پھر میرے قدموں پرگر کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔

اسی روز ، رات کے اندھیرے میں حباش ملک شام کی طرف جانے والے ایک قافلے میں شامل ہو کر اپنے وطن کی طرف چل دیا۔ اسے رخصت کر کے میں اپنی کوٹھری میں آکر لیٹ گیا۔ میں نے اپنے اندر دو بڑی تبدیلیاں محسوس کی تھیں۔ پہلی تبدیلی یہ آئی تھی کہ مجھے بھوک اور پیاس لگنا بند ہوگئی تھی۔ میں صرف عادت کے طور پر کچھ کھاپی لیتا تھا ورنہ نہ تو مجھے پیاس لگتی تھی اور نہ ہی بھوک کا احساس ہوتا تھا۔ دوسری تبدیلی جو میرے اندر آئی، وہ یہ تھی کہ مجھے نیند آتی تھی۔ میں رات کو بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کر کے نیند کا انتظار کرتا رہتا مگر نیند نہ آتی۔ نہ میری آنکھیں نیند سے بوجھل ہوتی اور نہ مجھ پر غنودگی طاری ہوتی تھی۔ میں ساری رات جاگتا رہتا لیکن پھر بھی صبح کو ہشاش بشاش اور تازہ دم ہوتا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار