وفاق اور پنجاب کے وہ ’’ آزاد‘‘ ارکان اسمبلی جنہیں جہانگیر ترین بھی ’’قید ‘‘ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے

وفاق اور پنجاب کے وہ ’’ آزاد‘‘ ارکان اسمبلی جنہیں جہانگیر ترین بھی ...
وفاق اور پنجاب کے وہ ’’ آزاد‘‘ ارکان اسمبلی جنہیں جہانگیر ترین بھی ’’قید ‘‘ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف وفاق اور پنجاب کےمحاذ  پر حکومت بنانے کے دعوی کر رہی ہے اور بڑی حد تک وہ اپنے ان دعوؤں میں کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے ،بڑی تعداد میں آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے باوجود قومی اسمبلی کے تین اور پنجاب اسمبلی کے چار اراکان کئی روز گذرنے کے باوجود  کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کر سکے اور اپنی ’’آزاد‘‘ پوزیشن پر دکھائی دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاق اور پنجاب کے محاذ پر  نمبرز گیم پورے کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم قومی اسمبلی میں تین آزاد ارکان تاحال ’’آزاد‘‘ ہیں جبکہ  پنجاب اسمبلی کے چار آزاد ارکان بھی تاحال سیاسی وابستگی سے ’’ آزاد‘‘ دکھائی دیتے ہیں ۔پنجاب اسمبلی میں سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان،احمد علی اولکھ،پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن اورمحمد معاویہ اعظم ابھی تک کسی جماعت کے نہ ہوسکے ہیں تاہم جگنو محسن اور محمد معاویہ اعظم نے پنجاب اسمبلی میں غیر مشروط طور پر تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔آزاد رکن پنجاب اسمبلی احمد علی اولکھ تاحال سیاسی وابستگی کا کوئی فیصلہ نہ کرسکے  ہیں وہ پی پی 280 لیہ سے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں ۔سابق وفاقی وزیر داخلہ اور سینئر سیاستدان چوہدر ی نثار علی خان نے بھی ابھی تک اپنی آزاد حیثیت برقراررکھی ہوئی ہے ،چوہدری نثار علی خان پی پی 10 راولپنڈی سے آزاد منتخب ہوئے ہیں ۔پی پی 184 اوکاڑہ سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے والی پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن کا بھی آزاد منتخب ہوکر ’’آزا د‘‘ ہی ر ہنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے تاہم انہوں نے اسمبلی میں تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔پی پی 126 جھنگ سے کالعدم سپاہ صحابہؓ کے مقتول سربراہ اور تین بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے والے مولانا محمد اعظم طارق کے صاحبزادے معاویہ اعظم نے بھی ابھی کسی جماعت کے پلڑے میں وزن نہیں ڈالا تاہم انہوں نے بھی چند دن قبل جہانگیر خان ترین سے ملاقات کے بعد صوبے میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن وہ بھی اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔دوسری طرف قومی اسمبلی میں بھی تین آزاد ارکان ابھی تک سیاسی وابستگی سے آزاد ہیں۔جنوبی وزیرستان سے دو اورایک سندھ سے رکن قومی اسمبلی ابھی تک آزاد حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔جنوبی وزیرستان سے منتخب محسن داوڑ ، محمد علی وزیر،سند ھ سے علی نواز کی تاحال آزاد حیثیت برقرار ہے ۔بلوچستان سےآزاد رکن اسلم بھوتانی بارے تحریک انصاف کو پارٹی میں جلد شمولیت کایقین ہے ۔

مزید : قومی /الیکشن /پنجاب اسمبلی /قومی اسمبلی