تحریک انصاف کی اکثریت کے دعوے خام خیالی ، ہم خیال جماعتیں متحرک ہوجائیں تو باآسانی مرکز اور صوبوں میں حکومت بنا سکتے ہیں: میاں افتخار حسین    

تحریک انصاف کی اکثریت کے دعوے خام خیالی ، ہم خیال جماعتیں متحرک ہوجائیں تو ...
تحریک انصاف کی اکثریت کے دعوے خام خیالی ، ہم خیال جماعتیں متحرک ہوجائیں تو باآسانی مرکز اور صوبوں میں حکومت بنا سکتے ہیں: میاں افتخار حسین    

  

نوشہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکڑیری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اکثریت کے دعوے خام خیالی ہیں،ہم خیال جماعتیں مکمل طورپر متحرک ہوجائیں تو باآسانی مرکز اور صوبوں میں حکومت تشکیل دے سکتے ہیں،بنی گالہ میں آزاد منتخب اسمبلی کے ممبران کی منڈی لگی ہوئی ہے،جہانگیر ترین جیسا نااہل شخص حکومت کی تشکیل دینے کے لیے بولیاں لگارہا ہے،مانگے تانگے سہاروں کے بل بوتے پہ حکومت بنانے والے ملک کیاچلائیں گئے؟اقتدار کے حصول کے لیے ممبران کی خرید و فروخت کی منڈی پر اعلیٰ عدلیہ سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیتی؟۔

تفصیلات مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ 25جولائی کے عام انتخابات میں جمہوریت اور ووٹ کی مقدس پرچی پر شب خون ماراگیا،یہ تاریخ کا سب سے با اختیار الیکشن کمشن تھا،اتنے فنڈز ہونے کے باوجود ایسی کاکردگی ہونا مایوس کن ہے،گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں بچیوں کے سکول جلانے کی عوامی نیشنل پارٹی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے بنی گالہ میں ارکان کی خرید و فروخت کی کھلی منڈی لگارکھی ہے ،اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیاگیا لیکن ایک نااہل شخص منتخب اسمبلی کے معزز ممران کو چن چن کی خرید رہا ہے، اور ایک نااہل شخص کی بنائی گئی حکومت کا خدا کی حافظ ہوگا۔انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان ہر مسلہ پر سوموٹو ایکش  لیتی ہے مگر بنی گالہ میں ممبران کی لگائی ہوئی منڈی پر بھی سوموٹوایکشن ہونا چاہے ،عمران خان جس طرح اپنی حکومت بنارہے ہیں وہ سب کو نظر آرہا ہے؟ وہ اصول کہاں گئے اور بڑے بڑے دعوعے کہاں ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس اکثریت نہیں اسی لیے جہانگیر ترین کا جہاز اور ہیلی کاپٹر رک ہی نہیں رہا،دھاندلی زدہ الیکشن،من پسند سلیکشن  اور کٹھ پتلی حکومت کو قوم تسلیم کرنے کو تیار نہیں،عوام کا منڈیٹ چوری کیاگیاہے،قوم دھاندلی زدہ الیکشن کے نتایج قبول نہیں کرتی، متحدہ اپوزیشن آٹھ اگست کو اپنے تمام ٹکٹ ہولڈرز اور رہنماوں کے ساتھ الیکشن کمشن آف پاکستان کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گئے اور دھرنا دیں گئے۔

مزید : الیکشن /خیبرپختونخوا اسمبلی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور