بہاولپور ‘ اراضی الاٹمنٹ سے نظر انداز کرنے پر کاشتکاروں ‘ مزارعین کا احتجاج

  بہاولپور ‘ اراضی الاٹمنٹ سے نظر انداز کرنے پر کاشتکاروں ‘ مزارعین کا ...

  

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) بہاولپور کے بے زمین کاشتکاروں اور مزارعین کو چولستان اراضی الاٹمنٹ سے مسلسل نظر انداز کرنے پر کاشتکاروں کا احتجاج ۔ انجمن کاشتکاران ومزارعین(بقیہ نمبر45صفحہ7پر )

کے عہدیداران چوہدری محمد حسین محمد اقبال عامر فاروق میاں شاہد ریاض اور ڈاکٹر اقبال حسن نے عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے مطالبہ کیا ہے کہ بہاولپور ڈویژن میں آبادکاروں کو 1950 میں ساڑھے 12 ایکڑ فی خاندان کے حساب سے آراضی الاٹ کی گئی تھی جو اب چار نسلوں میں تقسیمِ در تقسیم کے بعد کنالوں اور مرلوں تک پہنچ چکی ہے جس سے کسی بھی خاندان کی کفالت نا ممکن ہو گئی ہے اکثر لوگ زراعت کی بجائے دوسرے شعبوں میں منتقل ہو رہے ہیں مزارعین اور بے زمین کاشتکاروں کی آواز پر حکومت پنجاب نے 1977 میں بورڈ آف ریونیو سے نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت ڈویژن بہاولپور کے تینوں اضلاع بہاولپور;46; بہاولنگر اور رحیمیارخاں کی تمام تحصیلوں کے کم از چار ایکڑ مالک اراضی اور بے زمین کاشتکاروں اور مزارعین سے درخواستیں طلب کی گئیں ہر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں بنی کمیٹی نے ان درخواستوں کی سیکرونٹی کی اور حق داروں کی فہرستیں مرتب کر کے الاٹمنٹ کیلئے دفتر چولستان ترقیاتی ادارہ بہاولپور کو ارسال کر دیں یہ سیکروٹنی 1978 میں مکمل ہوئی مگر آج تک ڈویژن بھر کے بے زمین کاشتکاروں اور مزارعین کی 25 ہزار سے زائد منظورشدہ درخواستوں پر الاٹمنٹ نہ ہو سکی ہم نے اپنے حقوق کیلئے ہر جگہ آواز اٹھائی عدالت عالیہ میں رٹ 4668;223;9 بھی دائر کی جس پر عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کو منظور شدہ درخواستوں پر کاروائی کا حکم دیا تھا جس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -