نابالغ بچے،بچی کااسلام قبول کرنا معتبرہے،علامہ راغب حسین نعیمی

نابالغ بچے،بچی کااسلام قبول کرنا معتبرہے،علامہ راغب حسین نعیمی

  

لاہور (سٹی رپورٹر)دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ وممبر اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ نابالغ بچے،بچی کااسلام قبول کرنا معتبرہے۔حضرت علیؓ نے 7سال کی عمر میں اسلام قبول کیااورآپ اس پر فخرکرتے تھے۔عدالت عالیہ نابالغ کے قبول اسلام کے معتبر نہ ہونے کے فیصلہ پر نظرثانی کرے۔ان خیالات کے اظہار انہوں نے جامعہ نعیمیہ میں مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں مولانامحبوب احمد چشتی،مفتی محمدعمران حنفی،ڈاکٹرمفتی سلیمان قادری،مولانا غلام مرتضی نقشبندی،مفتی محمدعارف حسین،مولانا محمدمدنی،مولانا محب الرسول نوری،پیر سید زین العابدین شاہ،مولانا غلام یاسین قادری،مفتی فیصل ندیم،قاری محمد اشفاق احمد قصوری، قاری غلام محی ا لدین،قاری ذوالفقار احمدنعیمی سمیت دیگر ادارے کے اساتذہ کرام نے بھی شرکت کی۔انہوں نے مزید کہاکہ شریعت اسلامیہ کے مطابق نابالغ بچے یابچی کے اسلام قبول کرنے کی معتبرعمرسات سال ہے۔یعنی اگرسات سال کابچہ یابچی اسلام قبول کرناچاہیے تو اس کے قول کااعتبار کیا جائے گا۔جیساکہ حضرت علیؓنے سات سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اورآپ ؓ اس پر فخر کیاکرتے تھے،اسلام میں بلوغت کامعیار جسمانی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد15سال ہے یعنی اگر علامات بلوغ نہ بھی ہوں تو بچے یابچی کو 15سال کی عمر میں بالغ تصورکیاجائے گا۔اجلاس میں عدالت عالیہ کے گزشتہ دنوں دیئے جانے والے فیصلہ پر تشویش کااظہار کیا گیا اورمطالبہ کیا گیا کہ عدالت اپنے اس فیصلہ پر نظرثانی کرے کیو نکہ یہ فیصلہ دیناکہ نابالغ بچہ والدین کے مذہب پر ہوگاشریعت اسلامیہ کے مطابق درست نہ ہے دوسری طرف اس کے بالغ ہونے کامعیار عدالت مقر رکرتی ہے حل طلب سوال ہے ملکی قانون اسے 18سال بتاتاہے جبکہ شریعت اسلامیہ میں بلوغت کااعتبار جسمانی ہے کہ عمرسے اسکا تعلق،اس مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظراسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لی جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -