سید علی گیلانی کی آواز سنی جائے

سید علی گیلانی کی آواز سنی جائے

مقبوضہ کشمیر کے سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کا بڑا قتل عام کر نے والا ہے۔ مسلم امہ ان کی جانیں بچانے کے لئے کردار ادا کرے، ان کا کہنا ہے بھارت تاریخ انسانی کا بڑا نسل کش آپریشن شروع کرنے جا رہا ہے، اگر اس پر مسلمان ملک خاموش رہے اور ہم مارے گئے تو اللہ کے سامنے جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بات اپنے ایک ٹویٹ میں کہی، اور کہا کہ اس ٹویٹ کو ایس او ایس پیغام کے طور پر وصول کیا جائے، حیدر پورہ میں سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں پائے جانے والے خوف وہراس نے تذبذب، غیر یقینیت اور ایک انجانے ڈرنے ہر خاص و عام کو اس قدر پریشان اور متفکر کر دیا ہے کہ لوگ عالم حیرت میں ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ نہ جانے ان کی زندگی کی اگلی صبح طلوع بھی ہوگی یا نہیں، اور یہ ان کے لئے کیا پیغام لے کر آرہی ہے، ریاست میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور بھارتی آئین سے ان دفعات کے خاتمے کی بات کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ یاتریوں اور سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کا حکم ہو یا پھر پولیس اور فوج کو تیار رہنے کا آرڈر، ہر شہری کو صرف ایک ہی سوال کا جواب ڈھونڈنے کی فکر لاحق ہے۔ کشمیر کے اندر اگر یہ صورت حال ہے جس کا تذکرہ سید علی گیلانی نے کیا ہے تو کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھی بھارتی فوج نے خوف و دہشت پھیلانے کے لئے کلسٹر بموں کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔ 30اور 31جولائی کو وادی نیلم میں توپ خانے سے کلسٹر بم برسائے گئے جس سے 4سالہ بچے سمیت دو افراد شہید ہوگئے اور گیارہ زخمی ہوئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھے ہیں۔ بھارت جنگی جنون میں خطے کا امن تباہ کر رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر دوبار کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ دنیا جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔

مقبوضہ کشمیر کے اندر کی جس صورت حال کی جانب سید علی گیلانی نے توجہ دلائی ہے وہ بہت ہی تشویش ناک ہے، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حصے بخرے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو جائے۔ ویسے تو کئی سال سے غیر کشمیریوں کو نئی کالونیوں میں آباد کیا جا رہا ہے، جن میں زیادہ تر سابق فوجی ہیں۔ اس کے دو مقاصد ہیں ایک تو یہ کہ تدریجاً کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے اور اگر کسی وقت امن عامہ کی صورت حال پیدا ہو جائے تو سابق فوجیوں کو کشمیری مسلمانوں کو دبانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ 8لاکھ فوج پہلے سے ریاست میں موجود ہے اور 60ہزار مزید فوجی بلائے گئے ہیں۔ اس سے سید علی گیلانی کے خدشات درست ہوتے نظر آتے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ اس موقع پر مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی میں کوئی حرکت نہیں ہو رہی، اور وہ خود کوئی موثر اقدام کرنے کی بجائے دنیا کو اس طرف متوجہ کر رہی ہے، حالانکہ پہلے اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، پھر کسی دوسرے سے امید رکھنی چاہئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس تنظیم کے رکن کئی ممالک تو اپنے اقتصادی مفادات کے اسیر ہو چکے ہیں جس کا ایک مظاہرہ یو اے ای میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دیکھنے میں آیا، جس میں اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج کو بھی بلا لیا گیا۔ جنہوں نے اجلاس میں خطاب بھی کیا اور یو اے ای کے وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ بھارت جلد اس تنظیم کا مکمل رکن بن جائے گا، اس ضمن میں پاکستان کے احتجاج کی کوئی پروا نہیں کی گئی، اسی طرح سعودی عرب نریندر مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا اعزاز پیش کر چکا ہے، یہ اعزاز مودی کی کن خدمات کے اعتراف میں دیا گیا، کسی کو کچھ معلوم نہیں، جبکہ مودی کا مسلمان دشمن چہرہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ گجرات کے فسادات کی بات اگر پرانی ہوگئی ہو تو بھی نریندر مودی کی وزارت عظمی کا پانچ سالہ دور ان کے مسلم دشمن اقدامات کی داستان سنانے کے لئے کافی ہے، کشمیریوں پر تو زمین تنگ کی ہی جارہی ہے۔ پورے بھارت میں مسلمانوں کو محض گائے لے جانے یا گائے کا گوشت گھر میں رکھنے پر بلا تصدیق قتل کیا جا رہا ہے۔ جب سے مودی نے دوسری مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے، مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کا سلسلہ دراز تر ہوگیا ہے، ایسے میں او آئی سی کے رکن ملکوں سے تو زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اخوت کے رشتے کو پس پشت ڈال کر اقتصادی فوائد کو ہی اولیت دے دی ہے۔ امید تو نہیں کہ کوئی مسلمان ملک سید علی گیلانی کی ”ایس او ایس کال“ وصول کرکے کوئی ٹھوس ردعمل دے گا، ترکی سے قائدانہ کردار کی بھی امید ہے، البتہ پاکستان کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، کیونکہ کشمیریوں نے اپنا مستقبل اور اپنی قسمت پاکستان ہی سے وابستہ کر رکھی ہے اور کشمیر کی کنٹرول لائن پر جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے اس سے بھی پاکستان ہی براہ راست متاثر ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ کی کشمیر کی ثالثی کا بڑا چرچا ہوا ہے، لیکن عملاً اس جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اول تو بھارتی دفتر خارجہ نے ایسی کسی پیشکش کی تردید کر دی اور صرف باہمی مذاکرات پر ہی زور دیا، یہ باہمی مذاکرات بھی کب اور کہاں ہوں گے، یہ کسی کو معلوم نہیں، اور کشمیر کے موجودہ حالات میں کون مذاکرات کرے گا۔ ویسے بھی ثالثی کا عمل تو اس وقت ہی شروع ہوسکتا ہے جب کسی مسئلے کے دو فریق کسی تیسرے کو ثالث مان کر معاملہ آگے بڑھانے کے لئے تیار ہوں، موجودہ حالات میں جب کشمیر کی ساری قیادت چیخ رہی ہے کہ بھارت اس کا سٹیٹس بدلنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور بھارت کی تیاریاں بھی اس کی چغلی کھاتی ہیں محض کسی ثالثی کے اعلان سے خوش ہو جانا تضیع اوقات کے سوا کچھ نہیں، اس وقت تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے کشمیر کی سنگین صورت حال پر بحث کی جائے اور کلسٹر بموں کے استعمال پر اقوام متحدہ کی توجہ خصوصی طور پر دلائی جائے، بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ نریندر مودی اپنی تازہ تازہ انتخابی کامیابی کے نشے میں سرشار اور کسی بیرونی ہلہ شیری کی وجہ سے اس وقت کشمیر کا مسئلہ اپنی مرضی سے حل کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں اور کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی باتیں بھی اسی لئے پھیلائی جارہی ہیں، یہی کشمیریوں اور ان کے حامی مسلمانوں کے لئے فیصلے کی گھڑی ہے، اگر مسلمان امہ اس وقت بھی فیصلہ کن انداز میں آگے نہ بڑھی تو سید علی گیلانی کے خدشات درست ثابت ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ کشمیریوں کی آزمائشوں کا دور ختم کرے اور انہیں کسی نئی آزمائش سے بھی محفوظ رکھے۔

مزید : رائے /اداریہ