ٹیچنگ ہسپتالوں میں مشینیں خراب!

ٹیچنگ ہسپتالوں میں مشینیں خراب!

ہمارے سٹاف رپورٹر کی خبر کے مطابق اِس وقت پنجاب کے49 ٹیچنگ ہسپتالوں میں امراض کی تشخیص اور علاج کی جدید351 مشینیں اور آلات خراب ہیں،جس کے باعث مریضوں کے علاج میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں،خبر کے مطابق ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں وینٹی لیٹرز اور اینڈو سکوپی سمیت45،میو ہسپتال لاہور میں 28، شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں پانچ انکو بیٹرز سمیت31مشینیں ناکارہ پڑی ہیں،جبکہ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں گردے میں پتھری کے علاج والی سات لیتھو ٹریسی مشینیں اور19ڈائیلیسز مشینیں کام نہیں کر رہی ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تمام تفصیلات طلب کر کے مشینوں کی مرمت کے احکامات جاری کئے ہیں۔ جہاں تک سرکاری ہسپتالوں میں علاج اور ٹیسٹوں کے لئے جدید مشینری اور آلات کا تعلق ہے تو ماضی میں فنڈز مختص کر کے یہ منگوا کر استعمال کے لئے دی جاتی رہی ہیں، تاہم اس میں لاپروائی کے کئی عنصر ہیں، مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں مشینیں اور آلات کی کمی اور پھر مرمت کے لئے مطلوبہ فنڈز کا مہیا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے کہ ایسے فنڈز بجٹ میں نہیں رکھے جاتے۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاپروائی اور فنڈز کی کمی کے باعث پہلے سے موجودہ یہ351 مشینیں خراب ہیں اور ان پر خرچ ہونے والا بجٹ بھی متاثر ہوا ہے،اس بحث میں پڑے بغیر کہ قصور کس کا ہے۔اب ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ ان خرابیوں کو دور کرے اور تحقیق بھی کی جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،فی الحال ان مشینوں کی فوری مرمت کے لئے مطلوبہ فنڈز ضمنی گرانٹ کے ذریعے مہیا کئے جائیں اور مستقبل میں یہ خیال رکھا جائے،صرف مشینیں درآمد کر کے نصب کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا،بلکہ ان کی دیکھ بھال کی صلاحیت اور پھر ضرورت کے مطابق مرمت اور درستی کے لئے بھی فنڈز مختص کرنا لازم ہیں تاکہ مشینوں کے ناکارہ ہونے اور کام نہ کرنے سے مریضوں کو ہونے والی پریشانی دور ہو سکے۔ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں مشینیں خراب کیوں ہوتی ہیں، کیا اس میں کہیں عملے کی غفلت اور شرارت کو تو دخل نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ