کشمیر اور جنرل ضیاء الحق

کشمیر اور جنرل ضیاء الحق
کشمیر اور جنرل ضیاء الحق

  



کشمیری عوام جو حالیہ تاریخ میں گزشتہ سات عشروں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن یہ جنگ اصل میں 1932ء سے جاری ہے، اور آج تک عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک سب ادارے خاموش ہیں۔ پاکستان کا یہ اصولی موقف رہا ہے اور ہے کہ ہم کشمیری عوام کے حق رائے شماری کے لئے ان کا مقدمہ دنیا کے ہر فورم پر لڑیں گے۔ پاکستان میں جتنے بھی حکمران گزرے ہیں، سب اسی اصول کو لے کر چلتے رہے، لیکن جنرل ضیاء الحق نے جس طرح کشمیر کا مقدمہ لڑا یہ کسی دوسرے حکمران کے نصیب میں نہیں آیا۔آج سری نگر کے ہر گھر میں جنرل ضیاء الحق موجود ہے۔انہوں نے جس طرح راجیو گاندھی کو دھمکی دی تھی،وہ دھمکی آج تک بھارتی حکمرانوں کا خون خشک کیے ہوئے ہے۔اس سال 17 اگست کو جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی برسی پر ہم ایک اہم اعلان کریں گے اور پورے ملک میں فکر ضیاء پھیلانے کے لئے عوام کو منظم ہونے کی دعوت دیں گے اور یہ بھی عہد کریں گے کہ اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے سرحدوں پر لڑنے والے ایک ایک سپاہی کے پشت بان بنیں گے۔ ہم سب کی دُعا ہے کہ کشمیری عوام جلد اپنا حق رائے دہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ابھی حال ہی میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ سیاسی حیثیت و ہیئت کو بگاڑنے اور جموں وکشمیر کی ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ایک لاحاصل عمل قرار دیا ہے۔

حریت کانفرنس کا اس سلسلے میں موقف بالکل واضح ہے،وہ یہ کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور کسی بھی عدالتی، قانونی یا سیاسی اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کی متنازعہ حیثیت و ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتااور آج نہیں تو کل اس مسئلے کو حل کرنا ہی ہو گا۔ میرواعظ عمر فاروق کشمیر کے نہائت پائے کے رہنما ہیں،ان کی بات میں بہت وزن ہے۔ پاکستان ہر عالمی فورم پر رائے شماری کے لئے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

میر واعظ عمر فاروق نے کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو انتہائی مخدوش، غیر واضح اور حد درجہ تشویشناک قرار دیا ہے کہ کئی ہفتوں سے مسلسل یہاں کے حالات میں زبردست تبدیلی کے آثار نظر آرہے ہیں۔اس وقت ہزاروں کی تعداد میں نیم فوجی دستوں کو نئے سرے سے یہاں لاکر کشمیر کے چپے چپے پر تعینات کیا جارہا ہے، لیکن عالمی میڈیا خاموش ہے۔یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ حکومت کے کیا منصوبے اور عزائم ہیں، کیونکہ ان حالات کی وجہ سے ہر طرف تشویش اور چے میگوئیوں کا بازار گرم ہے۔ریاستی انتظامیہ اس سارے عمل کو معمول کی کارروائی بتاکر ”حالات ٹھیک ہیں“ کا اعلان کررہی ہے، مگر دوسری طرف جب کشمیر میں پہلے سے ہی لاکھوں کی تعداد میں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں، ایسے میں مزید ہزاروں کی تعداد میں فورسز کی تعیناتی سمجھ سے بالا ترہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ جہاں تک دفعہ35 اے اور دفعہ 370 کا تعلق ہے تو کبھی ان دفعات کو ہٹانے کی بات کی جاتی ہے، جس کا مقصد اس ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور اس مسئلے کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے حالات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں، تاہم حریت قیادت کو ہدف تنقید بنانے سے یا بے جا پروپیگنڈا کرنے سے اس مسئلے کی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ حریت کانفرنس نے بھی بھارت اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے حوالے سے مذاکرات کے کئی ادوار کئے اور موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کو صرف تینوں فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ وہ آج کی مخدوش اور غیر یقینی صورت میں ضروری ہے کہ کشمیری عوام اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق قائم رکھیں،جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک کی نظر بندی غیر قانونی ہے، انہیں کسی قانون کے بغیر ہی زیر حراست رکھا گیا ہے، ان کے وکیل نے پٹیشن دائر کی ہے، لیکن اس کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ یاسین ملک کی ہمشیرہ کے مطابق انہیں مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے،اور کسی دوسرے قیدی کو ان کے ساتھ دور سے بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تہاڑ جیل میں وہ اب کمر کی شدید تکلیف کا شکار ہوچکے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے۔یہ بھی میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی بوڑھی اور بیمار والدہ کی اپیل بھی نہیں سنی جا رہی۔

حالات اس قدر خراب ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ”سرینگر کی سڑکوں پر افراتفری پھیلی ہوئی ہے، لوگ کھانے پینے کی اشیاء جمع کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے، مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں،امریکی صدر ٹرمپ بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں تاہم بھارت اب بھی مذاکرات کے لئے تیار نہیں،بلکہ اب وہ کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے اب اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ مسئلہ کشمیرکو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے اطلاعات یہ بھی ہیں۔ 15 اگست 2019ء کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جغرافیائی اور آئینی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا سٹیٹس ”جموں“کو منتقل کیا جائے گا۔محبوبہ مفتی کے بیان کے مطابق 15 اگست کو بھارت مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کر سکتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی بھارت کے آئین کے آرٹیکل 35A کے تحت حاصل حیثیت ختم کی جا رہی ہے جو کشمیریوں کو کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خود اپنے مستقل شہری کی تعریف طے کرے۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں مختلف حقوق بھی دیئے گئے ہیں،جبکہ دفعہ 370 جموں و کشمیر کو کچھ خصوصی حقوق دیتی ہے۔ آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو، کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے،نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے، اگراس حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔ بھارت اب عدالتوں کے ذریعے اس آرٹیکل کو ختم کر کے کشمیریت کی پہچان ختم کرنا اور اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے۔یہ اسرائیلی طرز کی سازش ہے، لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پر پھرپور آواز اٹھائے اور کشمیر کی موجودہ حیثیت کی تبدیلی کو کسی صورت تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم