باضمیر لوگ، لاجواب سروس

باضمیر لوگ، لاجواب سروس
باضمیر لوگ، لاجواب سروس

  

مجھے رہ رہ کر ان پچاس یا اکیاون سینیٹرز پر ترس آتا ہے،جنہوں نے اپنے ضمیروں کو جگانے کا سنہری موقع اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیا۔ اگروہ بھی فیض یاب ہو جاتے تو نہ صرف دنیا کی تمام نعمتیں ان پر نچھاور ہوتیں،بلکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں سے بھی دن رات دُعائیں وصول کرتے۔ ایسے احمقانہ فیصلے صرف وہی لوگ ہی کر سکتے ہیں جنہیں نہ اپنی فکر ہے اور نہ اپنی آئندہ نسلوں کی، چنانچہ ان کا ضمیر سوئے کا سویا ہی رہتا ہے۔ کچھ دیر کے لئے مجھے لگا کہ ضمیروں کو جگانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں، کیونکہ ووٹوں کی گنتی کے بعد بیرسٹر سیف کی آواز سب نے سنی تھی، ”چون، یہ تو اڑ گئے“، لیکن کچھ ہی دیر میں جب انہوں نے اعلان کیا کہ پچاس…… تو معاملہ کلیئر ہو گیا کہ وہ ”چون“ کسی دھوبی کے حساب والی پرچی غلطی سے پڑھ گئے تھے۔ چودہ سینیٹرز کا ضمیر جاگا، ناٹ بیڈ، بلکہ ویری گڈ۔ پاکستان کے اصل ہیرو یہی چودہ سینیٹرز ہیں جو باضمیر ہیں اور جن کی سروس لاجواب ہے۔

حکومت کا ایک سال ہونے والا ہے اور وہ اس پورے سال قانون سازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ سکی، کیونکہ قومی اسمبلی میں تو کھینچ تان کر نمبر پورے ہو جاتے ہیں، لیکن سینیٹ میں فرق اتنا زیادہ ہے کہ جتنا مرضی کھینچیں نمبر پورے نہیں ہوتے۔ ہمارے پڑوسی ملک میں جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے تو دھڑا دھڑ قانون سازی ہوتی ہے، جس دن ہمارے سینیٹر اپنا ضمیر جگا رہے تھے، اسی دن میں پڑوسی ملک کی پارلیمنٹ کی کارروائی انٹرنیٹ پر لائیو دیکھ رہا تھا، ایک قانون POCSOکے نام سے پاس ہوا، جس کا مطلب ہے protection of child from sexual offences ،اس قانون کے تحت بچوں سے زیادتی کے مرتکب افراد سزائے موت کے حقدار ٹھہریں گے۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں سے یہ قانون پاس ہو چکا ہے۔ اسی طرح اس دن ہیلتھ سروسز کو عالمی معیار جیسا بنانے کے لئے بھارتی پارلیمنٹ نے NMC یعنی national medical commission کا بل پاس کیا۔

یہ دونوں صدر کے دستخطوں کے بعد اب قانون بن چکے ہیں۔ اس طرح کئی اور بل بھی پاس ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں مطلوبہ اکثریت حاصل ہو تو قانون سازی تیزی سے ہو سکتی ہے۔ یکم اگست کو چودہ سینیٹرز کے ضمیر جاگنے کے بعد مجھے امید ہو چلی ہے کہ اگر کوشش کی جائے اور سینیٹرز ان کوششوں سے مستفید ہونے کے لئے تیار ہوں تو دس بارہ مزید سینیٹرز کے ضمیر بھی جگائے جا سکتے ہیں۔ جب سینیٹ اتنی با ضمیر ہوجائے تو کوئی بھی قانون پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ میں کھینچ تان کرپاس کیا ہی جا سکے گا۔ ہو سکتا ہے آگے چل کر میری یہ خواہش بھی پوری ہو جائے کہ سینیٹ میں اگر حکومتی اور با ضمیر سینیٹرز کی تعداد پچپن تک پہنچا دی جائے تو یہ قوم کو لاجواب سروس دے سکتے ہیں۔ مجھے ان لوگوں پر بہت غصہ آتا ہے جو ان چودہ سینیٹروں کے نام جاننے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں یا ”اندر کی خبروں“ کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ ارے بھائی آپ کو آم کھانے سے مطلب ہے یا پیڑ گننے سے۔ یہ چودہ سینیٹرز جو بھی ہیں، انتہائی باضمیر ہیں اور ان کی لاجواب سروس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر الٹی سیدھی لسٹیں گھومتی رہی ہیں جن میں اتنا تضاد ہے کہ کسی لسٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز آٹھ یا نو ہیں اور کسی میں پیپلز پارٹی کے سات، آٹھ یا نو۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ویسے بھی ہم لوگ سازشی تھیوریاں ایجاد کرنے کے ماہر ہیں۔ اگر امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور جاپان وغیرہ نے بہت ساری سائنسی ایجادات کی ہیں تو دُنیا میں سب سے زیادہ سازشی تھیوریاں ہم ایجاد کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بعض لیڈروں نے ایک دوسرے کے خلاف براہ راست الزام تراشی بھی کی ہے۔ ایسے میں دونوں پارٹیوں کی قیادت پر لازم ہے کہ وہ اپنے اپنے لیڈروں کو بیکار بیان بازی سے روکیں اور اگر کوئی انکوائری کرنی بھی ہے تو اسے خاموشی سے کریں، گندے کپڑے گھر میں ہی دھونے چاہئیں، کمپنی کے نلکے پر دھونے کا کیا فائدہ۔

پاکستان میں با ضمیروں کی پہلی کھیپ فیلڈ مارشل ایوب خان نے تیار کی تھی۔ مارشل لاء لگانے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ زیادہ تر سیاست دان ضمیر سے محروم ہیں اور اگر کسی کے پاس ضمیر ہے بھی تو وہ ہر وقت سویا رہتا ہے تو انہوں نے ایسے بے ضمیر یا سوئے ضمیر والوں کی اکثریت کو EBDO قانون کے تحت نا اہل کر دیا۔ ایوب خان چونکہ جانتے تھے کہ کروڑوں افراد کا ضمیر چیک نہیں کیا جا سکتا،چنانچہ انہوں نے پورے ملک (مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان دونوں) سے صرف اسی ہزار لوگوں کو ووٹ دینے کا حق دیا۔ کچھ سال بعد جب صدارتی انتخاب ہوا تو ان اسی ہزار لوگوں کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا اور ان کی اکثریت کے ضمیر جاگے ہوئے پائے گئے۔ قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی طرف داری کرنے والے سوئے ہوئے ضمیر تھے، لیکن ان کی تعداد جاگے ہوئے ضمیروں سے کم تھی۔ لوگوں نے جاگے ضمیروں کے ساتھ انہیں کھلے عام غدار بھی کہا اور پھردو سال بعد محترمہ کو تمام جھنجھٹوں سے آزاد بھی کردیا گیا، اس طرح یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ ان واقعات کے بعد پاکستان زیادہ عرصہ متحد نہ رہ سکا، مشرقی اور مغربی بازو کچھ اپنوں کی نالائقیوں اور کچھ بھارتی جارحیت کی وجہ سے علیحدہ ہوگئے۔ پاکستان نے 1973ء کے آئین کے بعد اپنا سفر نئے سرے سے شروع کیا، لیکن جلد ہی دوبارہ مارشل لاء کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔

کچھ سالوں بعد جنرل ضیاء الحق نے اپنے فارمولہ کے تحت غیر جماعتی الیکشن کرائے تو اس اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے وقت نئی نئی مسلم لیگ والوں کے ضمیر حسب منشا نہ جگا سکے اور ان کے پسندیدہ امیدوار خواجہ محمد صفدر ایک غیر پسندیدہ امیدوار سید فخرامام سے شکست کھا گئے، لیکن ظاہر ہے کب تک ان نو مسلم لیگیوں کا ضمیر سویا رہتا چنانچہ اگلے برس ضمیر جاگ گئے ا ور حامد ناصر چٹھہ نئے سپیکر بن گئے۔ ایک 1985ء میں سپیکرکا انتخاب اور ایک 1989ء میں بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بس غالباً یہ دو، یا شائد کوئی ایک آدھ اور، جب بے ضمیروں نے باضمیروں کو شکست دی، ورنہ تو اللہ کے فضل سے راوی ہمیشہ چین ہی چین لکھتا رہا ہے۔ہمارے با ضمیر ممبران قومی اسمبلی ایسے بھی گذرے ہیں جو بے انتہا محب وطن بھی تھے۔

جنرل پرویز مشرف 2002ء کے الیکشن میں اپنے نامزد امیدوار کے لئے مطلوبہ نمبر حاصل نہیں کر سکے تھے کیونکہ ان کی کنگز پارٹی مسلم لیگ(ق) کی 126 کی اپنی اتحادیوں نیشنل الائنس اور ایم کیو ایم کے نمبر ملا کر بھی وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے نمبر پورے نہیں ہو رہے تھے تو پیپلز پارٹی، جس کے 81 ایم این اے تھے، ان میں دس کے ضمیر جگا کر انہیں محب وطن (پیٹریاٹ) بنایا گیا اور یوں میر ظفراللہ جمالی کے نمبر کہیں جا کر پورے ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ 2002ء کے الیکشن میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے اور لوگوں کے ضمیر جگانے میں سب سے اہم کردار ضمیر جعفری کے فرزند ِ ارجمند نے ادا کیا تھا۔ خیر دس پندرہ سال روتے دھوتے گذر گئے، خاص طور پر پچھلے دس سال، جبھی جو تحقیقاتی کمیشن بھی بن رہا ہے وہ پچھلے دس سال کی تحقیقات کرے گا اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے قرار دئیے گئے پاکستان کی تاریخ کے سب سے کرپٹ دور کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔مَیں تو ملک کی دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دس سالہ دور سے تقریباً مایوس ہو چکا تھا کہ ان لوگوں کے ضمیر اتنے مردہ ہو چکے ہیں کہ شائد اب کبھی نہ جاگیں، لیکن پھر گذشتہ سال اچانک خوشیوں کا اک دور واپس آیا جب سب سے پہلے آصف علی زرداری کا اپنا ضمیر جاگا اور انہوں نے کچھ اور عناصر کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کروا کر مائی باپ حکومت بنوائی۔

اس کے بعد آصف علی زرداری کے جاگے ہوئے ضمیر نے اچھل اچھل کر چھلانگیں بھی لگانا شروع کردیں اور سینیٹ چئیرمین کے انتخاب میں عمران خان کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اتنی لمبی لانگ جمپ لگائی کہ مسلم لیگ (ن) زیادہ سینیٹر رکھنے کے باوجود ان کی اچھل کود دیکھنے کے سوا اور کچھ نہ کر سکی۔ یوں آصف علی زرداری اور عمران خان نے فرمانبردار بچوں کی طرح صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوا دیا۔ پچھلے سال عام انتخابات کے بعد عمران خان اور ان کے اتحادیوں کی حکومت تو بن گئی، لیکن سینیٹ میں وہ بدستور اقلیت میں رہے، جس کی وجہ سے قانون سازی کرنے کی پوزیشن (فنانس بِل کے علاوہ، کیونکہ وہ سینیٹ میں نہیں جاتا)میں نہیں آ سکے۔ میرے خیال میں صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی اتنی زیادہ ضروری بھی نہیں تھی جتنی مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن پارٹیوں کو اس کی ترغیب دی اور راضی کرکے پیش کروائی۔

زیادہ اچھا ہوتا اگر اپوزیشن فیل ہوتی ہوئی معیشت، مہنگائی، بے روزگاری اور مارشل لاء جیسے سنسر شپ حالات پیدا کرنے والی سویلین حکومت کے خلاف متحد ہونے میں یکسو ہوتی،جس کی زیادہ تر کارروائیاں یکطرفہ اور انتقام پر مبنی ہیں۔پاکستان میں سوئے ہوئے ضمیر کسی بھی وقت جاگ سکتے ہیں اور شائد یہی ایک نقطہ ہے جسے تحریک پیش کرنے سے پہلے نظر انداز کیا گیا۔ ایوب خان کے دور میں ضمیروں کے جاگنے کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اور انہی ضمیروں کے انڈے بچے آج بھی قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ایک کالم نگار نے لکھا کہ چودہ چوروں نے ساری اپوزیشن کو چور بنا دیا کہ اپوزیشن کے 64 لوگ، سب کے سب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ مجھے ان صاحب سے اختلاف ہے کہ ان چودہ لوگوں کے جاگے ضمیروں نے پوری قوم کو سرخرو کردیا ہے۔ باضمیر لوگ، لاجواب سروس……!

مزید :

رائے -کالم -