نئی دلدل اور بلوچستان میں یو ٹو کے ہیولے

نئی دلدل اور بلوچستان میں یو ٹو کے ہیولے
نئی دلدل اور بلوچستان میں یو ٹو کے ہیولے

  

امریکہ جسے گزشتہ تین عشروں میں اپنی تاریخ میں پہلی بار کسی مد ِمقابل سپرپاور سے پنجہ آزمائی کا سامنا نہیں، امریکہ جو معاشی اعتبار سے جنگ ِعظیم دوم کے بعد ایک مضبوط ترین معیشت ہو، امریکہ جس کے بحری بیڑے آج دنیا کے تمام سمندروں پر بغیر روک ٹوک کے اپنے پرچم لہرا رہے ہوں، امریکہ جس کے جنگی ہتھیاروں سے بھرے اڈے بحراوقیانوس، بحرالکاہل اور بحرہند جیسے وسیع و عریض سمندروں کے ہر حصے میں موجود ہوں، امریکہ جس کی تاریخ رعونت اور کیوبا، ویت نام، افغانستان، عراق اور ان جیسے دیگر تہی دامن ممالک میں فوجی اور سیاسی مداخلت سے عبارت ہو، اس امریکہ کو اگر صدر ٹرمپ جیسا فرعون صفت اور خاموش نسل پرست حکمران مل جائے تو یہ خوش گمانی کرنا کہ طالبان کے ساتھ معاہدے کا مسودہ تیار ہے اور بس چند ماہ میں آخری امریکی فوج کے نکلتے ہی افغانستان میں امن اور چین ہو جائے گا اور پاکستان کے مسائل ختم ہو جائیں گے، ایسی خوش گمانی کبوتر کے بلی کو دیکھتے بھالتے آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 2020ء صدارتی انتخاب کا سال ہے، جس سے قبل صدر امریکہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کا پھندنا اپنی ٹوپی پر سجانا چاہتے ہیں۔ یہاں تک تو دیوار کے اِدھر نظر آنے والا حصہ ہے۔ نظر نہ آنے والا حصہ دیوار کے اُس طرف ہے جو مجھے تو پاکستان کے لئے ایک نئی دلدل کی شکل دکھائی دیتا پڑتا ہے۔ مجھے تو پشاور کے قریب بڈھ بیر سے اُڑنے والے یوٹو کے ہیولے آج کل بلوچستان میں نظر آ رہے ہیں، ایوب خان کا امریکہ کو دیا گیا اڈہ بڈھ بیر۔

اس دُنیا میں مہلک جنگی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے باوجود زمینی حقائق اسباب کی ایک دوسری شکل ہے۔ کیاکوئی گمان کر سکتا ہے کہ جنرل مشرف اگر امریکہ کو زمینی، فضائی اور بحری سہولتوں سے فیض یاب نہ کرتے تو افغانستان میں امریکہ کے لئے قدم جمانا تو ایک طرف قدم ٹکانا بھی ممکن ہوتا؟ لاکھوں ٹن بوجھل جنگی مشینری کی نقل و حمل کے لئے اگر پاکستان راستے فراہم نہ کرتا تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ امریکی فوجی وہاں ٹھہر پاتے کیا مطلب، داخل ہی ہو پاتے۔ ایک دلدل میں ہمیں پچاس کی دہائی میں نادیدہ حکومتی اشرافیہ نے اتارا جس سے امریکہ کو پشاور کے قریب بڈھ بیر نام کا لٹل امریکہ آباد کرنے کا موقع ملا جہاں سے اس کے جاسوس یوٹو سوویت یونین کی جاسوسی کرتے۔ اسی کے نتیجے میں خطے میں بگاڑ کی وہ صورت حال پیدا ہو گئی کہ افغانستان کے اندر خود وہاں کے مجاہدین کی مداخلت ناگزیر ہو کر رہ گئی۔ اس دلدل سے بمشکل ہمارا چھٹکارا ہو پایا تھا کہ جنرل مشرف نے بغیر کسی مشورے کے ملک کو ایک نئی دلدل میں دھکیل دیا۔ اس کے نقصانات ماہرین معاشیات لگانا چاہیں تو کبھی کسی متفقہ عدد پر پہنچ بھی گئے تو سیاسی اور تذویراتی نقصانات تو کسی ریاضی سے کبھی سامنے نہیں آتے۔ جنرل مشرف یہ جنگ پورے ملک میں لے آئے، جس کا انہیں نہ تو اختیار تھا اور نہ ہم اس جنگ کے انتہائی مہلک نتائج اور اثرات سے ابھی تک نکلنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔

امریکی انتظامیہ خطے میں جس نئی مہم جوئی کے لئے عرصے سے تاک جھانک کر رہی ہے، وہ ایران ہے۔اپنی تمام جنگی تیاری، خودکفالت پر مبنی جنگی مشینری، جنگجویانہ جذبے میں ڈوبی ہوئی قوم اور انقلاب کے ایام سے آج تک کسی نہ کسی میدان جنگ کا تجربہ رکھنے والی منظم فوج کے باوجود، ایران روایتی جنگ میں امریکہ کا مقابلہ زیادہ دیر تک نہیں کر سکتا، بشرطیکہ امریکہ ایران کا سرحدی ہمسایہ ہو۔ یہاں تو یہ صورت ہے کہ ہزاروں میل دور امریکہ کو ایران کے پڑوس میں پاؤں ٹکانے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے کرنا پڑ رہے ہیں۔ انقلاب ایران کے بعد امریکہ نے تسلسل اور حیلوں بہانوں سے ایران کے پڑوسی ممالک میں قدم جمانے کی کوششیں کیں۔ صدام حسین کے خلاف دونوں جنگیں اسی حکمت عملی کا حصہ تھیں۔

ایک طرح سے امریکہ عراق میں پاؤں ٹکانے میں خاصا کامیاب بھی ہو گیا تھا،لیکن شامی محاذ پر مہم جوئی، روسی مداخلت اور عراق میں مقامی نیم جمہوری قسم کی مزاحمت نے اس خطے میں امریکہ کے قدم نہیں جمنے دئیے۔ انقلاب ایران کے بعد دو عشروں تک ترکی کے سرگرم نیٹو رکن ہونے اور ترک فوج کا انگوٹھا سول حکومت کے ٹینٹوے پر ہونے کے باعث امریکہ ترکی پر بھی بہت انحصار کرتا رہا۔ لیکن اے کے پارٹی کی قیادت اور بالخصوص صدر طیب اردوان کے میلانات بہت بڑی حد تک امریکہ گریز رہے ہیں۔ امریکہ ہر ملک میں اپنے مخصوص مہرے ہر شکل میں رکھتا ہے۔ ترکی میں بھی ایسی ہی ایک شکل فتح اللہ گولن کی تھی جو تصوف اور اپنے طاہر القادری کے مثل تعلیمی اداروں کے پردے میں ترکی کے ہر ریاستی شعبے میں سرایت کر گئے تھے۔ چند سال قبل کی فوجی بغاوت اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اسی کے ذریعے خطے میں حسب معمول امریکہ ترک فوج پر انحصار کرنا چاہتا تھا، لیکن اس بغاوت کی ناکامی نے ترکی سے امریکہ کے قدم اکھاڑ کر رکھ دئیے۔

اب پاکستان رہ جاتا ہے جس کے توسط سے امریکہ شاہ ایران کے بعد ایران میں نئے سرے سے پنجے گاڑنے کی فکر میں ہے۔ پاکستان کے معاملے میں امریکہ کو کئی سہولتیں حاصل ہیں۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف یہ سب امریکی خطوط پر استوار ایک ہی زنجیر کے حلقہ ہائے صد رنگ ہیں۔ کہیں آپ کو روایتی برطانوی رنگ میں رنگا ایوب خان ملے گا تو اس کی اگلی کڑی مدہوش رنگ رنگیلا قسم کے جنرل کی صورت میں تھی۔مذہبی رنگ میں رنگے ضیاء الحق نے پروپیگنڈے کے مطابق تو امریکی مقاصد ہی پورے کئے،لیکن خود امریکیوں کے بقول یہ شخص تو دُنیا کا نقشہ اور جغرافیہ بدلنے جا رہا تھا (یہ الفاظ ہندوستان میں ایک امریکی سفیر جان گنتھر ڈین کے ہیں)۔

ضیا الحق کے ذریعے امریکیوں نے اپنے مقاصد حاصل کیے،سو کیے لیکن وہ مرتے مرتے بھی دُنیا کا جغرافیہ تبدیل کر گزرا، زنجیر کی یہ کڑی ذرا باغی نکلی، ورنہ اگلے حلقہ زنجیر پرویز مشرف نے تو ملک کی ہوائیں، بندرگاہیں، فضائیں الغرض جو انہوں نے مانگا امریکیوں کے حوالے کر دیا۔ایران کے حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چالیس سال سے پاکستانی عامۃ الناس کی ذہن سازی کچھ اس طرح کر رکھی ہے کہ جس کے فوائد ہمیشہ سعودی عرب نے سمیٹے ہیں۔ بلاشبہ سعودی عرب نے ماضی میں بہت کڑے اور آڑے وقت میں پاکستانی اقتصاد کو سہارا دیا۔ پاکستان نے بھی سعودی عرب کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، لیکن یمن میں ایران اور سعودی عرب کے مابین حالیہ پراکسی جنگ میں پاکستانی نمائندہ ادارے پارلیمان نے حکومت پاکستان کو منع کر دیا کہ وہ سعودی عرب میں اپنی فوجیں ہرگز نہ بھیجے۔ جب بھی ہماری اجتماعی دانش کے سامنے اس طرح کا سلگتا ہوا کوئی مسئلہ آیا تو بلاشبہ اس ادارے نے پاکستانی عوام کو کبھی مایوس نہیں کیا اور نہ آج تک کسی ایسے فیصلے کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جو ملک، قوم اور عامۃ الناس کے لئے مضر ثابت ہوا ہو۔ یہ غیرمنتخب افراد اور خود سرادارے ہی ہوا کرتے ہیں جن کے وقتی اور محض ادارہ جاتی فوائد کے حامل فیصلے ملک اور قوم کو تادیر بلکہ بعض اوقات ہمیشہ بھگتنا پڑتے ہیں۔

مغربی ممالک میں بالعموم اور امریکہ جیسے عالمی قوت کے ہاں، ہمارے برعکس، فیصلہ سازی میں ایک شخص یا ادارہ نہیں ہوا کرتا۔ ان لوگوں کے تھنک ٹینک اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور ان ملکوں کی اجتماعی دانش ان کاموں کے نتائج سمیٹتی ہے۔ وہ تو سوشل میڈیا نے سولہ سالہ ملالہ نامی پاکستانی لڑکی کی شخصیت کی تراش خراش کے پیچھے مغربی ملکوں کے ڈھ کے چھپے عزائم بے نقاب کردیے، ورنہ ربع صدی قبل مغربی ذرائع ابلاغ جب ایک کرکٹر کو دیوتا کے روپ میں ڈھال رہے تھے تو اس ملک میں توانا آواز ایک ہی تھی، جس نے نیوورلڈ آرڈر کو جیوز ورلڈ آرڈر قرار دے کر لوگوں کو خبردار کر دیا تھا۔ یوٹیوب پر جا کر آپ ڈاکٹر اسرار احمد کی وہ تقریر نکال کر سنیں جس میں وہ صاف الفاظ میں گولڈ سمتھ کی طرف سے موجودہ پاکستانی وزیراعظم کو پانچ کروڑ پاؤنڈ کی سلامی کو عالمی صہیونی منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ اس زمانے میں تو میں نے اس تقریر کو نظرانداز کر دیا تھا، لیکن طلاق کے بعد فاتح ورلڈ کپ کومحنتی پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے کے میئرلندن کے مقابلے میں کھڑے اپنے سابق یہودی سالے کے حق میں مہم چلاتے دیکھا سنا تو میں ڈاکٹر اسرار احمد کی بصیرت پر ایمان لے آیا،لیکن کوئی یہ سمجھ نہ بیٹھے کہ میں کسی کو کسی کا ایجنٹ قرار دے رہا ہوں۔

ملک میں بسنے والے تمام افراد اور سیاست دان پاکستانی ہیں اور انہیں کسی شخص یا ادارے سے حب الوطنی کی سند درکار نہیں ہوتی۔ بات ذہنی ساخت اور اجتماعی سوچ کی ہوا کرتی ہے۔ کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ وزیراعظم نے حالیہ امریکی دورے سے وطن واپسی پر کن الفاظ میں خوشی کا اظہار کیا تھا: ”یوں لگتا ہے کہ میں ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں“۔ اس جملے کو موصوف کے گزشتہ چند دوروں کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ جب وہ جرمنی جاپان کو پڑوسی قرار دے رہے ہیں اور کبھی مرغیوں انڈوں کی باتیں کر رہے ہیں۔ امریکی دورے میں انہوں نے کیا کیا؟ ٹرمپ سے ملاقات، فوٹو سیشن، عظیم الشان جلسے سے خطاب۔ سابق وزیراعظم کو جیل میں حاصل اے سی اُتروانے کا وعدہ۔ حد تو یہ ہے کہ امریکہ تشریف آوری پر ان کی پذیرائی کے لئے کوئی معمولی عہدے والاایک امریکی بھی موجود نہیں تھا۔ یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ اس امریکی دورے سے دس دن قبل بنتی بگڑتی سفا رتی لہروں اور خاکہ نگاری میں اخباری اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد کے ساتھ سعودی ولی عہد کے تعلقات ہی کام آئے۔ یہ دورہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب جنوب میں یمن کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ شمال میں شام اس کے لئے دردِ سر ہے۔ مشرق میں ایران اس کی شیعہ آبادی کو انگیخت کر رہا ہے۔

مغربی بحراحمر کے جنوبی حصے میں حوشی باغی آئے دن کوئی نہ کوئی کارروائی کرتے رہتے ہیں۔یوں سمجھ لیجئے ایران نے سعودی عرب کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ایسے عالم میں اس کی نظریں ایک دفعہ پھر پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہیں کہ کسی طرح پاکستان امریکہ کو وہی سہولتیں فراہم کرے تاکہ چالیس سال سے دردِ سر بنے ایران کو سبق سکھایا جائے۔یہ کام اس نے وزیراعظم کے دورے سے بڑی مہارت اور خوبصورتی سے کرا دیا۔ اب اکیس توپوں کی گھن گرج میں جو بھی گفتگو ہو، اس کی بھنک کسی کے کان میں کیا پڑے۔مجھے تو ایوب خان، بڈھ بیر، سوویت یونین میں امریکی یو ٹو کی اڑان، خروشیف کاپاکستان کے نقشے پر سرخ دائرہ کھینچنا کھائے جا رہا ہے۔ لوگ افغان جنگ کے ممکنہ اختتام پر بغلیں بجا رہے ہیں، مجھے توتاریخ اپنے آپ کو دہراتی نظر آ رہی ہے۔ افغان جنگ سے فراغت کے بعد امریکہ نے اعتکاف بیٹھ کر اللہ اللہ تو نہیں کرنا۔ چالیس سال سے وہ ایران پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش میں رہا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے ایک پیج پر تمام ادارے ہی میرے لئے سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے نہ تو اپنے دماغ سے سوچنا ہے اور نہ ان میں یہ صلاحیت ہے،لیکن جو لوگ یہی کچھ سوچتے رہتے ہیں، صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے سامنے ایک نئی دلدل منتظر ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ ہمارے سیاست دان، سینٹ اور قومی اسمبلی میں سرجوڑ کروہ فیصلہ کریں جو قومی اور عوامی امنگوں کا ترجمان ہو۔ ستر سالہ تاریخ میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے باہر ادارہ جاتی فیصلوں نے ملک کو دو لخت کرنے اوربلوچستان کو لہولہان کرنے کے علاوہ کچھ اور دیا ہو تو بتایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -