ثالثی کی پیشکش:دال میں کچھ کالا ضرور ہے!

ثالثی کی پیشکش:دال میں کچھ کالا ضرور ہے!
ثالثی کی پیشکش:دال میں کچھ کالا ضرور ہے!

  

ایسے ہی یہ خیال ذہن میں ہتھوڑے برسا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کہیں کشمیری جدوجہد آزادی کو سبوتاژ کرنے کی سازش تو نہیں کر رہے۔جب سے امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں اچانک یہ پیشکش کی کہ وہ کشمیر پر ثالثی کے لئے تیار ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم بڑھ گئے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے یہ داستان اچانک کیوں سنائی کہ نریندر مودی نے انہیں ثالثی کے لئے کہا ہے۔کیا یہ کوئی طے شدہ سازش تھی، جس کا وزیراعظم ادراک نہیں کر سکے۔ہماری وزارت خارجہ اس پر خوشی سے نہال ہو گئی،کیوں،اس میں ایسی کون سی بات تھی، جس پر خوش ہوا جاتا۔اس کا بہترین اور فوری جواب تو یہی تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے سے حل کیا جائے اور صدر ٹرمپ بھارت کو مجبور کریں کہ وہ اس قرارداد پر عمل کرے۔یہ تو ہوتا ایک اچھا راستہ،مگر لگتا ہے ہم صدر ٹرمپ کے آناً فاناً کئے جانے والے حملے کو سمجھ نہیں سکے اور ہر طرف بریکنگ نیوز چلا دی۔

یہ اِس لئے بھی ایک طے شدہ سازش لگتی ہے کہ اُس کے فوراً بعد بھارت میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔بھارتی میڈیا چیخنے لگا،ٹرمپ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ پر اُتر آیا،اپوزیشن بھی میدان میں آ گئی اور نریندر مودی پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس امر کی وضاحت کریں کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ثالث کا کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے یا نہیں؟……مگر نریندر مودی نے آج تک اس کی وضاحت نہیں کی۔اُدھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر اپنا وڈیو بیان جاری کر کے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان و بھارت کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہیں۔

اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کس ایجنڈے پر ثالث بنیں گے؟ کیا وہ کشمیریوں کے حق ِ خودارادیت پر بھارت کو قائل کریں گے؟کیا وہ مقبوضہ کشمیر سے آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی واپسی پر گفتگو کریں گے؟کیا وہ کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیریوں کی قربانیوں کو تسلیم کر کے بھارت کو مجبور کریں گے کہ وہ ظلم و ستم بند کر کے مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریفرنڈم کرائے اور کشمیری عوام کی رائے کو تسلیم کرے؟مجھے یقین ہے کہ امریکی صدر نے اس میں سے کوئی کام بھی نہیں کرنا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی صرف اس نکتے پر ہو گی کہ پاکستان کشمیریوں کی مدد ترک کر دے اور اس موضوع پر پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرے۔ نجانے ہم خوش فہمی کے اس غبار سے کب نکلیں گے۔ میرے کانوں میں تو کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے یہ الفاظ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اُتر رہے ہیں ……”اگر ہم مر گئے اور تم خاموش رہے تو اللہ کے حضور جواب دینا پڑے گا“۔کیا ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی نام نہاد ثالثی کی پیشکش کے باعث خاموش ہو گئے ہیں۔آخر کیا وجہ ہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہئ امریکہ کے باعث کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔صرف یہی نہیں وہ نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بم بھی برسا رہا ہے اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں بھی اُس کا معمول بن چکا ہے۔ یہ سب ٹرمپ اور مودی کی سازش اِس لئے نظر آتی ہے کہ امریکی صدر نے بھارت کو کشمیریوں کے خلاف جارحیت روکنے اور کلسٹر بموں کے استعمال پر سرزنش کرنے کا سوچا تک نہیں،بس ثالثی کا راگ ہی الاپا ہے۔

کیا مقبوضہ کشمیر میں فوجیں بڑھانے،نہتے کشمیریوں پر مظالم میں بے پناہ اضافہ کرنے اور کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھانے کا بھارتی مقصد یہ ہے کہ پاکستان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی قبول کر لے؟ساری دُنیا میں جابر حکومتوں کے ظلم پر آواز اٹھانے اور پابندیاں لگانے والا امریکہ اس معاملے میں کیوں خاموش اور لاتعلق ہے؟ثالثی کا مرحلہ تو بعد میں آئے گا۔پہلے امریکہ بھارت کے مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر اُسے کٹہرے میں تو لائے، کم از کم سید علی گیلانی کی اُس فریاد پر تو توجہ دے،جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کرنے جا رہا ہے، تاکہ کشمیر میں کشمیری عوام کی اکثریت ختم کر کے وہاں ہندوؤں کی اکثریت بنا سکے،اس لئے دُنیا کشمیریوں کو بچانے کے لئے آگے آئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکی صدر نے ثالثی کا لولی پاپ دے کر ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے اور دوسری طرف بھارت کو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین ظلم و تشدد کا مظاہرہ کر کے کشمیریوں کی کمر توڑ دے۔

تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک سمیت دُنیا کے بڑے ممالک کشمیریوں پر ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے،انہیں بھارتی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔صرف ایک پاکستان ہے،جو کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔اُدھر کشمیری بھی پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں۔ یہ لازم و ملزوم رشتہ شہ رگ جیسا قیمتی ہے،مگر ہمیں کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ نریندر مودی نے امریکہ سے ثالثی کے لئے کہہ دیا ہے یا امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی حامی بھر لی ہے۔یہ ثالثی مسئلہ کشمیر کی بساط لپیٹنے پر تو ہو سکتی ہے، کشمیریوں کو اُن کا حق دِلانے کے لئے ہر گز نہیں ہو سکتی۔مسئلہ کشمیر کے صرف تین فریق ہیں ……پاکستان، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے عوام…… امریکہ اگر واقعی یہ مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے تو صرف اتنی ثالثی کرے کہ ان تینوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دے۔ اگر وہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ بٹھا سکتا ہے تو کشمیری رہنماؤں کو کیوں نہیں بٹھا سکتا۔

کیا دُنیا کو معلوم نہیں کہ کشمیری رہنماؤں کو بھارت ہمیشہ پابند ِ سلاسل رکھتا ہے۔کیا یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ اِس دُنیا کا سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیری مجاہدین اور کشمیری عوام نے اپنی قربانیوں سے دُنیا میں ایک تاریخ رقم کر دی ہے۔ بھارت کی آٹھ لاکھ فوج بھی کشمیری عوام کی آواز دبانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیری نوجوان مجاہد اپنی شجاعت و بہادری سے بھارتی سورماؤں کی ناک میں دم کئے ہوئے ہیں، بھارت اس صورتِ حال سے نکلنا چاہتا ہے، مگر کشمیر پر قبضہ نہیں چھوڑنا چاہتا۔اس تناظر میں اگر ہم نریندر مودی کی صدر ٹرمپ کو کی جانے والی ثالثی کے لئے درخواست کو دیکھیں تو بات آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے کہ بھارت فی الوقت اس صورتِ حال سے نکلنا چاہتا ہے اور امریکہ کو درمیان میں لا کر ایک ایسی فضا پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں مسئلہ کشمیر حل ہونے کی ایک امید پیدا ہو جائے اور اسی عرصے کے دوران وہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے اُس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے جو اُس نے کشمیر کی ہیئت بدلنے کے ضمن میں تیار کر رکھا ہے۔

ہمیں صدر ٹرمپ کی ثالثی سے کچھ حاصل نہیں ہونا، تاوقتیکہ اس ثالثی کا ایجنڈا نہ بنایا جائے۔اس ایجنڈے کی پہلی شق ہی یہ ہونی چاہئے کہ بھارت کشمیری عوام کو حق خودِ ارادیت دے۔وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔اُس سے پہلے وہ مقبوضہ وادی سے اپنی فوج نکالے اور معاملات مقبوضہ کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ کو چلانے دے۔پاکستان میں دو بنیادی شرائط کو تسلیم کئے جانے پر اس امر کی ضمانت دے، کشمیری مجاہدین اپنی کارروائیاں بند کر دیں گے۔اگر ایسا کچھ نہیں ہے اور امریکی صدر صرف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے ثالث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ جانا چاہئے کہ اس سارے ڈرامے کے پیچھے نریندر مودی کی شاطرانہ سوچ کا ہاتھ ہے،جس کے ذریعے وہ عروج پر پہنچی ہوئی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -