ایک خواب جو حقیقت بن سکتا ہے بشرطیکہ……

ایک خواب جو حقیقت بن سکتا ہے بشرطیکہ……
ایک خواب جو حقیقت بن سکتا ہے بشرطیکہ……

  

جب سے پاکستان میں موروثی حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے، ایک نیا سیاسی کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ”نئے پاکستان“ کی اصطلاح کو بہت سے معانی پہنائے جا رہے ہیں۔ اس کا مضحکہ اڑایا جا رہا ہے اور اس کا ذکر جب بھی کسی محفل میں کیا جاتا ہے تو اس کو غیر سنجیدہ مفہوم کا لباس اوڑھا دیا جاتا ہے۔ اس نئے پاکستان میں اپوزیشن کی تمام ٹولیاں جو موروثی حکومتوں میں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں، اب باہم شیر و شکر ہو چکی ہیں۔ صبح و شام الیکٹرانک میڈیا پر جو سیاسی تجزیئے کئے جا رہے ہیں۔ ان کی بوقلمونی اور ہمہ رنگی سے آپ سب واقف ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا تعلق چونکہ کسی حکومتی خاندان سے نہیں اس لئے ان کو سلیکٹڈ (Selected) وزیراعظم کا لقب یا خطاب عطا کر دیا گیا ہے۔ ہرچند کہ قومی اسمبلی میں اس اصطلاح پر قدغن لگا دی گئی تھی پھر بھی اندر باہر ہر جگہ اس نئی اصطلاح کو دہرایا جاتا ہے۔Selected اور Elected کے الفاظ کا جو مفہوم انگریزی زبان میں ہے اس کا چونکہ کوئی اردو مترادف موجود نہیں اس لئے ان دونوں الفاظ کو اردو ہی میں املا کر دیا جاتا ہے لیکن یہ املا ہنوز سخت نامانوس اور اجنبی ہے۔ اردو میڈیا نے ابھی اس کا کوئی ایسا ترجمہ وضع نہیں کیا جو اس کے معانی کی ترجمانی کر سکے۔ اب تک کی سیاسی ڈکشنری میں منتخب اور نو منتخب وزیراعظم وغیرہ کی اصطلاحیں مروج ہیں اور ان کے مفہوم جاننا چاہیں تو Elected اور Newly Elected کی طرف دھیان جا نکلتا ہے۔ لیکن اگر Selectedیا Newly Selected کا کوئی اردو ترجمہ کرنا ہو تو اس پر ماہرینِ لسانیات خاموش ہیں اور ان کا کوئی ترجمہ ایسا منظرِ عام پر نہیں آیا جو قبولِ عام کی سند پا سکے اور سلیکٹڈ اور الیکٹڈ کے مفہوم کی ترجمانی کر سکے۔

میری تجویز ہے کہ اگرچہ ”منتخب“ اور ”چنیدہ“ کا لغوی مفہوم ایک ہے لیکن اگر ہم Elected کے لئے ”منتخب“ اور Selected کے لئے ”چنیدہ“ کو مختص کر دیں تو شائد اس لسانی مسئلے کا کوئی حل نکل سکے۔ جس طرح ہم الہامی اور روحانی کی اصطلاحوں میں فرق کا ادراک کرتے ہیں اسی طرح منتخب اور چنیدہ میں فرق کو ملحوظِ خاطر رکھا جا سکتا ہے۔ کسی بھی اصطلاح کے قبولِ عام ہونے کی سند کا اصول یہ ہے کہ جو اصطلاح عوام میں مقبول اور مشہور ہو جائے وہ اگر لغوی اعتبار سے غلط، بعید از قیاس یا تقریباً قرینِ قیاس بھی ہو تو اس کو اختیار کر لیا جاتا ہے اور اسے ”غلط العام“ یا ”غلط العوام“ سمجھ کر قبول کر لیاجاتا ہے۔ 2018ء کے الیکشنوں نے جہاں ہمیں نیا پاکستان اور نئی اور غیر موروثی قیادت دی وہیں Selectedوزیراعظم کی نئی اصطلاح بھی دی جو بظاہر آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہے۔ میرے خیال میں اگر سلیکٹڈ وزیراعظم لکھنا اور بولنا ناگزیر ہو تو ”سلیکٹڈ پرائم منسٹر“ لکھا اور بولا جائے۔ اس سے شائد لسانی مغائرت اور نامانوسیت ایک حد تک کم ہو جائے۔

اس تمہید کے بعد آمدم برسر مطلب…… اگر اپوزیشن عمران خان کو سلیکٹڈ پرائم منسٹر کہنے اور سمجھنے پر اصرار کرتی ہے تو اس اصرار (یاضد) کی تہہ تک پہنچانا چاہیے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ فوج نے 2018ء کے الیکشنوں میں دھاندلی کروائی اور سیاسی خاندانوں کی جگہ ایک غیر سیاسی پارٹی / گروہ/ طبقے/ کلاس کو اوپر لائی…… اور یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ، فوج کے ساتھ مل گئی تھی، گاڈ فادر اور سسلین مافیا کی اصطلاحیں بھی فوج نے فاضل سپریم کورٹ کے فاضل جسٹس صاحبان کے کانوں میں ڈال دی تھیں اور انہوں نے بھی اداراتی بنیادوں پر فیصلہ کر لیا تھا کہ چونکہ پاکستان کے دائمی آزاروں اور ابتلاؤں کا اصل سبب خاندانی سیاست ہے جو جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر عشروں تلک پاکستان کے سفید و سیاہ کی مالک بنی رہی ہے، لہٰذا اس کو رخصت کر دیا جائے۔ لیکن پاکستانی سیاست کے یہ دونوں موروثی خاندان (نون لیگ اور پیپلزپارٹی) اب تک اپنی شکست کی وجوہات کا تجزیہ نہیں کر پائے۔

یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ اپوزیشن کو ہر محاذ پر ہزیمت کا سامنا ہے، عوام کی اکثریت اس سے بیزار ہے اور موروثی کرپشن کے الزام کا توڑ بھی نہیں ڈھونڈ سکی تو اس کی جوابی سٹرٹیجی جو ان خاندانوں نے وضع کر رکھی ہے اب تک بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی اپوزیشن کی مشترکہ اور بزعم خویش موروثی سیاست کی ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اپوزیشن کو اب تک نوشتہ ء دیوار نظر نہیں آ رہا۔ اس کے رہنماؤں کو کسی بڑ کی چھاؤں میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کو تصادمی سیاست کو تیاگ کر تعاونی سیاست کی طرف آنا چاہیے۔ ان میں کوئی تو خدا کا بندہ ایسا ہونا چاہیے جو ٹیکٹیکل سوچ سے اوپر اٹھ کر سٹرٹیجک فکر کا مظاہرہ کرے۔ میرے خیال کے مطابق اپوزیشن میں چند لوگ ہنوز ایسے ہیں جو یہ ”انہونی“ کرنے پر قادر ہیں۔

ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب پاکستان کی مسلح افواج اور پاکستان کی عدلیہ ایک صفحے پر ہو چکی ہیں تو کیا ان کا مقابلہ تصادمی حکمت عملی سے کیا جا سکتا ہے؟…… مریم نواز اور بلاول بھٹو نسبتاً جواں سال ہیں اور نژادِ نو کی صف میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔ وہ اپنی توانائیاں نجانے کیوں ایک غلط راستے پر چل کر ضائع کر رہے ہیں۔ کیا کوئی بندۂ خدا ان کی صفوں میں ایسا نہیں جو ان کو سمجھا سکے کہ جب ملک اور قوم کے دو مقتدر ادارے (عدلیہ اور افواج) مل کر ایک ہو جائیں تو ان کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ مارشل لاء کو تو شکست دی جا سکتی ہے اور ماضی میں اس کا نظارہ ہم کئی بار کر بھی چکے ہیں لیکن فوج اور عدلیہ کی اجتماعی قوت کو نیچا نہیں دکھایا جا سکتا۔ عوام کی عدالت کا جو خواب، اپوزیشن والے دیکھ رہے ہیں، اس کی تعبیر کی تاثیر دیکھنے کے لئے اپوزیشن کو ماضی ء قدیم اور ماضیء قریب کی شہنشاہیت / بادشاہت اور جمہوریت کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اپوزیشن کی جواں عمر قیادت کو اپنی سوچ میں ایک نئی اور انقلابی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے انکل، مشیر اور سابق بزرگ رہنما اس تبدیلی کا عرفان نہیں پا سکتے۔ وہ یہی دعوے کر رہے ہیں کہ اس بار نہیں تو اگلی بار عوام ”انشاء اللہ“ ان کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن عوامی ترجمانوں کا حال آپ نے چیئرمین سینیٹ کی اس تحریک کے دوران دیکھ لیا ہے۔ ووٹنگ سے پہلے کھانے کی میز پر 64اراکین نے ہاتھ کھڑا کیا، 53 حضرات کی ضرورت تھی،اس لئے اپوزیشن 64ہاتھ اٹھے ہوئے دیکھ کر باغ باغ ہو گئی۔ لیکن جب ماحضر تناول فرما لیا اور ووٹنگ کا مرحلہ آیا تو اس میں جمہوریت کے 14شیدایوں نے اپنے ’ضمیر‘ کا استعمال کیا۔ لیکن بعد از ووٹنگ جب پھر گنتی کی گئی تو 64کے 64ہاتھ صادق سنجرانی کے خلاف اٹھے ہوئے دیکھے گئے!

اگرچہ خفیہ رائے شماری کا ڈھونگ رچایا گیا تھا لیکن آج کا دور خفیہ نہیں علانیہ روایات کا دور ہے۔ گزشتہ جمعرات کی رات تک ان 14اراکین کے نام میڈیا پر نہیں آئے تھے جنہوں نے کھانا کھا کر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہی۔ گویا اقبال کے اس مصرعے کی حقانیت کو طشت ازبام کر دیا کہ:

”فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے من یا شکم!“

جواں سال اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ووٹنگ ختم ہوئے ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ان 14کے 14باضمیر اراکین کے نام سوشل میڈیا پر آن ہو گئے۔ میں بھی (آپ کی طرح) ان 14ناموں اور ان کے سامنے درج شدہ پارٹی کو دیکھ دیکھ کر اور الیکٹرانک میڈیا کو رات گئے تک دیکھ اور سن کر حیران ہوتا رہا کہ سوشل میڈیا کا مقام کتنا اوپر چلا گیا ہے۔ وہ خبر جسے سو جتن سے خفیہ رکھنے کا اہتمام کیا گیا تھا، چشم زدن میں سینیٹ کی چار دیواری کے ہونٹوں سے نکل کر سوشل میڈیا کے کوٹھوں چڑھ گئی!

اب سانپ نکل گیا ہے، لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپوزیشن کے وہ رہنما جو عوام کی عدالت میں جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور کسی ستمبر یا اکتوبر میں ملین مارچ کی آس لگائے بیٹھے ہیں ان کو سینیٹ کی عدم اعتماد کی اس تحریک کے نتیجے سے سبق بلکہ عبرت حاصل کرنی چاہیے…… لیکن مجھے معلوم ہے ایسا نہیں ہو گا۔ ہم سب کہنہ روایات اور اقدار کے اسیر ہیں، ماضی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن حال سے بے خبر ہیں اور کسی سہانے مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں ……

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اپوزیشن کا کوئی رہنما مریم نواز ہو یا بلاول بھٹو، اپنے اپنے ابا حضور کے احکامات اور ہدایات پر ہی عمل کریں گے اور شکست کھاتے رہیں گے۔ پرانی روایات کو ترک کرنا شیوۂ پیغمبری ہے۔ اس راہ میں بہت سخت مقام آتے ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر موروثی قیادت کو ایک ایسی مشکل میں گرفتار کر دیا ہے جس سے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہے……فارسی کے ایک شعر میں اسی زندہ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے:”ابا جی! میرے ساتھ تُوتکار مت کرو۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ابا جی کی طرف دیکھو۔ جو شخص بھی صاحبِ نظر ہوتا ہے، وہ اپنے اجداد کے دین سے بغاوت ضرور کرتا ہے“۔

بامن میآویز اے پدر، فرزندِ آذر را نگر

ہر کس کہ شد صاحبِ نظر، دینِ بزرگاں خوش نکرد

اپوزیشن کی جواں سال قیادت، افسوس کہ، جواں فکر نہیں۔ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ اپنے ان ابا حضوروں اور انکلوں کے افکار کی اسیر ہے جو بوسیدہ اور فرسودہ ہو چکے ہیں۔ اس قیادت کو اپنے بزرگوں سے بغاوت کرنا ہو گی۔ نئے پاکستان کی قیادت کو دیکھیں، وہ جواں سال نہیں لیکن جواں فکر ضرور ہے۔ اس موضوع کو مزید طول دیا جا سکتا ہے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ ایسا نہیں ہو گا…… پولیٹیکل سائنس کہتی ہے کہ جمہوریت کی روح کو پنپنے کے لئے ایک اپوزیشن درکار ہوتی ہے لیکن پاکستان کی موجودہ اپوزیشن، موجودہ حکومت کی اصل حریف نہیں۔ اور جب تک موجودہ اپوزیشن، پرانی تصادمی اقدار کی پیروکار رہے گی، وہ موجودہ حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اب اپوزیشن کو بھی ”کرپشن فری“ پاکستان کا نعرہ بلند کرنا ہو گا اور ایک نیا منشور سامنے لانا ہو گا۔ یہ نیا منشور بھلے حکومتی منشور کا ہی چربہ ہو لیکن اس کو فائن ٹیون (Fine Tune) کیا جا سکتا ہے۔ جہاں جہاں حکومت ٹھوکر کھائے، اس کی مخالفت کی جا سکتی ہے۔

لیکن یہ مخالفت برائے مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ نیا پاکستان جوں جوں آگے بڑھے گا حقیقی جمہوریت کے تقاضے زیادہ کٹھن ہوتے جائیں گے۔ دکھائی دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے منشور کی تکمیل میں ٹھوکریں بھی کھائے گی، لیکن اپوزیشن کو ان ٹھوکروں اور ناکامیوں کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹنا چاہیے کہ اس کا الٹا فائدہ حکومت کو ہو گا۔ آپ کے پاس چار سال ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آپ کی خاطرخواہ ترجمانی بھی ہے اور نمائندگی بھی…… اپنے اراکینِ اسمبلی کو تصادمی سیاسیات سے باز رہنے کی تلقین کیجئے۔ میڈیا پر دوبدو ہونے کی روش ترک کر دیں، اپنے عقابوں کو سیک کریں اور وہ لوگ میڈیا پر لائیں جو عقاب ہوں نہ فاختائیں۔ اپنی سابقہ غلطیوں کو تسلیم کیجئے۔ ایسے اراکین کو قیادت کی باگ ڈور منتقل کریں جو اس کے حقدار ہوں۔ ایسے لوگ آپ کی پارٹیوں میں موجود ہوں گے، ان کو تلاش کیجئے اور ان کو آگے لایئے۔ آپ کا زمانہ اب گزر چکا، اس کا عرفان کیجئے۔ مجھے معلوم ہے آپ ایسا نہیں کر پائیں گے اور یہ بھی معلوم ہے کہ مزید ناکامیاں آپ کی منتظر ہوں گی…… عدلیہ اور فوج کو مہتم کرنے کا کوئی فائدہ اگر ہوتا تو اس کا ثبوت اب تک سامنا آ چکا ہوتا۔ باایں ہمہ میری آرزو ہے کہ موجودہ حکومتی مشینری کی ایک حریف سیاسی مشینری بھی ہونی چاہیے جس کا منشور وہ نہ ہو جو فیل ہو چکا! نئے پاکستان کو ایک نئی فکر کی ضرورت ہے جو پاکستان کی نئی نسل کے اعمال و افعال کو نئی راہوں پر گامزن کر سکے…… ہرچند یہ آرزو ایک خواب سہی لیکن بعض خوابوں کو درست تعبیریں بھی تو مل جاتی ہیں!

مزید :

رائے -کالم -