طلبہ تحقیق پر توجہ دینے کے بجائے ڈگری کا حصول چاپتے ہیں،ڈاکٹر عبدالقدیر خان

  طلبہ تحقیق پر توجہ دینے کے بجائے ڈگری کا حصول چاپتے ہیں،ڈاکٹر عبدالقدیر ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) معروف ایٹمی سائنسدان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ ہمارے یہاں لیبارٹری میں بہت کم وقت دیا جاتاہے اور تحقیق پر توجہ دینے اور لیب آلات پر مہارت اور عبور حاصل کرنے کے بجائے جلد سے جلد ڈگری کا حصول چاہتے ہیں اس طرح پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول میں تو کامیاب ہوجاتے ہیں اور پرچے بھی شائع ہوجاتے ہیں لیکن لیب آلات پر عبور اور مہارت حاصل نہیں کرسکتے، جبکہ مغربی ممالک میں لیب آلات پر مہارت حاصل کرنے کو ناگزیر سمجھاجاتاہے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں بھی جائیں آلات کا استعمال، ان پر عبوراوراصولوں کے بارے میں معلومات ہونی چاہیئے یہی کامیابی کا راستہ ہے۔جو طلبہ بیرون ممالک جاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ وہ ان دو تین سالوں میں خوب محنت کریں کیونکہ ان کی یہ محنت پھر زندگی بھر ان کے کام آئے گی۔لیب آلات سے واقفیت اور اس کا استعمال سیکھیں اور اس پر مہارت حاصل کریں تو آپ کو کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور کسی کی محتاجی نہیں رہے گی۔انسٹی ٹیوٹ ہذا ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر کی قیادت میں تیزی سے ترقی کے منازل طے کررہاہے جو لائق تحسین ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے زیر اہتمام انسٹی ٹیوٹ ہذا میں منعقدہ تھرڈ ثمر اسکول چارروزہ ورکشاپ بعنوان:  گرین اسپن اِن بائیوٹیکنالوجی“  کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ڈاکٹر عبدالقدیر انسٹی ٹیوٹ میں تحقیق کرنے کا موقع ملاوقت ضائع کئے بغیراس کو کو قیمتی بنائیں اور انسٹی ٹیوٹ میں موجود سہولیات سے بھر پور استفادہ کریں۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں مالیکیولر بائیولوجی ایک انقلابی شعبہ بن کرابھری ہے اور اس کی اہمیت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ مذکورہ ٹیکنالوجی کا عصر حاضر میں قومی تحقیق اور ترقیاتی سیکٹرز میں کلیدی کردار ہے اور کمرشل اورمعاشی اہمیت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ہے اور پرانی تکنیکوں کی وجہ سے اس شعبہ میں ترقی کا عمل زوال کا شکار ہے۔پاکستان کے زراعت کے شعبہ میں مذکورہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہی زراعتی شعبہ میں مثبت گروتھ لائی جاسکتی ہے۔اس کے ذریعے فصلوں کاشت میں اضافہ جبکہ ان کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکتی ہے،زراعتی بائیوٹیکنالوجی نے ترقی یافتہ ممالک میں غذائی فصلوں کی مقدار اور معیار میں اضافہ کیا ہے اور اس سے کسانوں اور شہریوں کی صحت میں بھی بہتری آئی ہے۔پاکستان کے طلبہ اپنی بے پنا صلاحیتوں سے دنیا بھر میں اپنا نام روشن کررہے ہیں۔ملک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کی پرورش اور نشوونما کریں تاکہ وہ معاشی ترقی،غربت کے خاتمے اور صنفی مساوات کے لئے اپنا کلیدی کردار اداکرسکیں۔سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ہر یونیورسٹی میں تو نہیں ہورہی ہے لیکن پاکستان کی کچھ جامعات میں ہورہی ہے جس میں جامعہ کراچی بھی شامل ہے اور ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ جیسے انسٹی ٹیوٹس دیگر انسٹی ٹیوٹس کے لئے رول ماڈل ہے۔پورے ملک میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ نہیں ہورہی ہے اور جہاں دعویٰ کیا جارہاہے وہ غلط ہے،ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ وہ ہے جو اکیڈیمیاء اور انڈسٹریز کے اشتراک سے ہو۔اکیڈیمیاء اور انڈسٹریز کے مابین اشترا ک وقت کی اہم ضرورت ہے جب تک جامعات اور انڈسٹریز کے مابین اشتراک نہیں ہوگا آپ کی تمام ریسرچ صرف کتابوں کی حدتک محدود رہے گی اور مارکیٹ کا حصہ نہیں بن سکتی کیونکہ مارکیٹ میں اسے انڈسٹریز لاتی ہیں اور عوام تک پہنچاتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈسٹریز کی مشاورت سے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ہوگی تو اس کو آسانی سے مارکیٹ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے اور ٹارگٹڈ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ہونی چاہیئے۔ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ ہذا باقاعدگی سے تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرتاہے جس میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک سے ریسرچرز شرکت کرتے ہیں جو لائق تحسین ہے اور یہاں پر تمام طلبہ کو یکساں سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ مذکورہ ٹیکنالوجیز انسانی صحت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کی جائیں۔مذکورہ ورکشاپ کا سال میں دومرتبہ انعقاد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس شعبہ سے وابستہ افراد کو جدید آلات اور ان کے استعمال کے حوالے سے ضروری تربیت دی جاسکے۔

مزید :

علاقائی -