سپریم کورٹ کراچی میں انسانی جانوں کے ضیاع پر از خود نوٹس لے

سپریم کورٹ کراچی میں انسانی جانوں کے ضیاع پر از خود نوٹس لے

  

کراچی(آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سپریم کورٹ آف پاکستان، جسٹس آصف سعید کھوسہ کو خط ارسال کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران K۔الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے سے 5بچوں سمیت 20قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر کے الیکٹرک کے خلاف از خود نوٹس لیں، متاثرہ خاندانوں اور مرحومین کے ورثاء کو ان کے اس حق کی فراہمی کو یقینی بنائیں کہ وہ جس کسی کو بھی اپنے پیاروں کی موت کا مجرم سمجھتے ہیں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کراسکیں،یہ حکم بھی جاری فرمائیں کہ پولیس ان تمام اموات کی ایف آئی آر درج کرے تا کہ ان اموات کے ذمہ داران کو قرار ِ واقعی سزا مل سکے۔ لواحقین اور ورثاء کو معقول ہرجانے اور معاوضے کی رقم کا حکم جاری فرمائیں اور کے الیکٹرک کو آئندہ اس طرح کے افسوسناک واقعات کے تدارک کرنے کے اقدامات کا پابند کیا جائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خط میں مزید کہا کہ محترم چیف جسٹس صاحب ہم سمجھتے ہیں کہ ان مظلوموں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہئیے۔ سپریم کورٹ آئین پاکستان کے تحت شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی ضامن و محافظ ہے اور جان و مال کے ضیاع سے بڑھ کر  بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور کونسی ہوسکتی ہے۔ دنیا  بھر میں بارشیں ہوتی ہیں ا س قدر لوگ کہاں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوتے ہیں؟۔ گزشتہ بارشوں میں بھی کراچی میں 17افراد جاں بحق ہوئے تھے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہسرکاری  اداروں کی نا اہلی، کرپشن اور سیاست کی وجہ سے ہماری آخری امید اپنے رب کے انصاف سے قبل آپ سے وابستہ ہے۔سپریم کورٹ اورہائی کورٹ میں K۔ الیکٹرک کے خلاف طویل عرصے سے زیر التواء کیسز کے فوری سماعت فیصلہ کا حُکم جاری فرمائیں۔ گزشتہ سال K۔ الیکٹرک نے وکلاء کو فیسوں کی مد میں 38 کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کی۔جلد فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے عوام الناس کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہونے کا خطرہ ہے کہ وکیلوں کوبھاری رقوم دے کر قانونی اور عدالتی کارروائی سے طویل عرصہ تک بچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعات اتفاقاََ ہوتے تو ان کو حادثہ کہا جاسکتا تھا لیکن مسلسل َ  اور بڑے پیمانے پراس طرح اموات ہونا K۔ الیکٹرک انتظامیہ کی بدترین مجرمانہ غفلت ظاہر کرتا ہے۔حالیہ بارش میں کرنٹ لگنے سے 20 کے قریب بچے اور بڑے جاں بحق ہوئے ہیں لیکن  افسوس کہ نہ اس سے قبل اس طرح کی ہلاکتوں کا کسی نے نوٹس لیا نہ اس مرتبہ کوئی حکومتی ادارہ  ان شہریوں کو بنیادی انسانی حق دینے کو تیار ہے۔دنیا کے کسی بھی مہذب کہلائے جانیوالے ملک میں اگر اس طرح20 جانور بھی ہلاک ہوجائیں تو تہلکہ مچ جائے۔ قیامت تو یہاں بھی برپا ہونی چاہئیے لیکن شاید کراچی کے شہریوں کی ہلاکتوں، لوٹ ماراور دوسری مصیبتوں کو سب اداروں نے اس شہر کے باسیوں کی قسمت سمجھ رکھا ہے۔ محترم چیف جسٹس صاحب کیا ان ہلاک ہونے والے شہریوں پر پولیس کارروائی نہیں بنتی، کیا  اس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں نہیں آنا چاہئیے، کیا ہنستے کھیلتے چھوٹے بچوں کی لاشیں اُٹھانے والے ماں باپ کی داد رسی نہیں ہونی چاہئیے؟ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ ان 20 ہلاکتوں کے بعد نہ تو کوئی حکومتی ادارہ حرکت میں آیا نہ K۔ الیکٹرک کو معمولی سی بھی پریشانی ہوئی جو اس بات سے عیاں ہے کہ کوئی حکومتی اہلکار ان مظلوموں کے جنازے میں شریک ہوا نہ کسی صاحب اقتدار نے ان لوگوں سے تعزیت کی۔

حافظ نعیم الرحمن 

مزید :

علاقائی -