آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان لازوال رشتوں میں منسلک،کوئی طاقت جدا نہیں کرکستی،سردار مسعود خان

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان لازوال رشتوں میں منسلک،کوئی طاقت جدا نہیں ...

  

گلگت(صباح نیوز)صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ دائمی اور لازوال رشتوں میں منسلک ہیں جنہیں دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔ دونوں خطوں کو جہاں جغرافیہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتا ہے وہاں ان کے دل بھی ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ جس کی گواہی صدیوں پرانی تاریخ دیتی ہے۔ دونوں خطوں کے عوام کی منزل ایک ہے جس کے لئے وہ مل جل کر جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ بات انہوں نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزادجموں وکشمیر چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے اور گلگت بلتستان اس منصوبے کا اہم ترین حصہ ہے جسے مستقبل میں اس اہم معاشی منصوبے سے بے پناہ فوائد حاصل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سی پیک کی گزر گاہ قرار دینے کا تاثر درست نہیں کیونکہ یہ اس اہم منصوبے کی اہم منزل بھی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے قراقرم یونیورسٹی کے طلبا و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے آپ کو مختلف علوم و فنون سے آراستہ کریں تاکہ مستقبل کے روشن امکانات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ چیلنجز کا بھی مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستا ن کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اور یہی خواہش مظفرآباد، سرینگر، جموں، راولاکوٹ اور میر پور کے عوام کی ہے۔ اس لئے ہم سب کی منزل ایک ہے جس کے لئے ہم مل کر فیصلہ کرنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی وجہ سے وہاں صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں ساتھ لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے جو مقبوضہ کشمیر کے عوام پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے۔ دوسری جانب بھارت یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اگر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اس نے اتنی بڑی تعداد میں فوج کیوں تعینات کر رکھی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اقوام متحدہ، امریکہ اور اسلامی تعاون تنظیم سب یہ کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے حق رائے دہی دیا جائے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاملہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عظیم آزادی پسند رہنما سید علی گیلانی کی طرف سے مہذہب دنیا کے نام اپیل کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ علی گیلانی نے اقوم متحدہ، سلامتی کونسل کے ارکان اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مداخلت کر کے بھارت کو کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نہ روکا گیا تو کشمیر میں ایک بہت بڑا ہولوکاسٹ ہونے جا رہا ہے۔ صدر نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل جارحیت کا ارتکاب کر کے پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے تاکہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت سے دستبردار ہو جائے لیکن بھارت کو یادرکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جس کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ طلبا و طالبات کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ گلگت بلتستان، لداخ، جموں اور وادی کشمیر کے لوگ امن پسند ہیں اور وہ سب مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ لیکن بھارت ایسے کسی بھی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزادکشمیر کی سرکاری جامعات اور قراقرم یونیورسٹی کو باہم روابط بڑھا کر ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وویمن یونیورسٹی اور میڈیکل کالج ہونا چاہیے تاکہ یہاں طلبہ اور خواتین کو اپنے گھروں کے قریب اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آسکیں۔ 

سردار مسعود خان

مزید :

علاقائی -