زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے ہائی ٹیک فارم میکا نائزیشن ٹیکنالوجی متعارف

    زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے ہائی ٹیک فارم میکا نائزیشن ٹیکنالوجی متعارف

  

راولپنڈی(اے پی پی)سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا ہے کہ صوبہ میں ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا مقصد فصلوں کی بہتر اور بروقت کاشت، برداشت و دیگر زرعی امور کی انجام دہی ہے،جدید مشینری کے استعمال سے وقت کی بچت سمیت برداشت کے دوران پہنچنے والے نقصانات جیسے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 61.135 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے شوگر کین بڈ کٹر (Bud cutter)، توڑی کا بیلر، کپاس کی چھڑیوں کا شریڈر (Shredder)، ٹریکٹر کے ساتھ چلنے والا فاڈر کٹر(Fodder Cutter)، شوگر کین لوڈر(Loader)، کماد کا بیلنا، لہسن کے پلانٹر اور ہارویسٹر کی ریورس انجینئرنگ کے بعد ڈیزائن کی گئی مشینری کی مقامی مارکیٹوں میں کم قیمت پر دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ کاشتکار اس جدید زرعی مشینری کے استعمال سے صوبہ میں میکانائزڈ فارمنگ کیلئے جاری حکومتی اقدامات سے استفادہ حاصل کرسکیں۔محکمہ زراعت پنجاب کے تحت جاری منصوبوں کے ثمرات کاشتکاروں کی دہلیز تک بروقت پہنچائے جائیں تاکہ ان منصوبوں سے استفادہ حاصل کرکے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار، کوالٹی اور منافع میں اضافہ یقینی بنایا جاسکے۔ زرعی ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت فیلڈ ونگ (Field wing) کے تحت جاری اور نئے شروع ہونے والے منصوبوں پر پیشرفت کے سلسلے میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ویل ڈرلنگ سروسز (Well drilling services)، سائل کنزرویشن (Soil Conservation)، جنوبی پنجاب کے بارانی علاقوں میں ہل ٹورنٹس (Hill torrents)، زمینی اصلاح اور ناقابل کاشت زمین کی بحالی کیلئے 367.120 ملین روپے کی لاگت سے شروع کیے جانے والے منصوبے پر اب تک کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیاگیا۔ اس موقع پر 2000 ملین روپے کی لاگت سے جنوبی پنجاب میں افقی زمین کو سیدھا کرنے کیلئے بلڈوزر کی خریداری اور 600 ملین روپے کی لاگت سے ویل ڈرلنگ رگز (Rigs) کی خریداری کے منصوبوں کی تازہ ترین صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مزید :

کامرس -