تمام سیاسی قیادت کو یک زبان ہو کر کشمیر میں بھارتی دہشتگردی کیخلاف کھڑا ہونا چاہئے: فردوس عاشق

  تمام سیاسی قیادت کو یک زبان ہو کر کشمیر میں بھارتی دہشتگردی کیخلاف کھڑا ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کو پوری دنیا میں بے نقاب کرنا چاہیے یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کا ہے۔ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہاکہ سیاسی قیادت کو ایک زبان ہوکر بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا چاہیے یہ وقت آپس کے اختلافات کو بھلا کر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے سیاسی قیادت ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر قومی معاملات پر یکجہتی کا پیغام دے۔دوسری طرف نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ اپوزیشن اپنے بیانیہ پر خود تقسیم ہے اس لیے سینیٹ الیکشن میں سینیٹرز نے اپنی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی اپنی قیادت سے ناراض ہیں اس لیے کچھ اراکین اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 2018 میں سینیٹ کے طریقہ انتخاب بدلنے کی تجویز دی تھی لیکن تب انہوں نے اتفاق نہیں کیا تھا۔عمران خان سینیٹ میں اصلاحات نہیں کرسکے کہ اکثریت حاصل نہیں لیکن اس معاملے میں جماعت میں اراکین اسمبلی کے خلاف کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے کے سربراہ کا انتخاب ہم نے نہیں کیا اور نہ ہی ہم نے کوئی مقدمات بنائے ہیں،ہم نے اداروں پر دباؤڈالنے کے بجائے انہیں کام کرنے کی آزادی دی ہے جس سے وہ مضبوط ہوئے ہیں۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت اداروں میں مداخلت نہیں کرتی ہے لیکن وہاں سامنے آنے والے حقائق کو عوام تک پہنچاتی ہے، اگر ادارے ہمارے زیر اثر ہوتے تو ہمارے وزراء  کے خلاف تحقیقات نہ ہو رہی ہوتیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو کرپشن میں ملوث رہا ہے وہ قانون کی گرفت میں آئیگا، یہ نظام حکومت کے تابع نہیں بلکہ ان کے اعمال کے تابع ہے۔رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ مریم نواز کی بیانیے کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ان کا ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا جسے گزشتہ روز بھی سینیٹرز نے مستردکردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت حکومت غریبوں پر دو سو ارب روپے خرچ کرنے جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دسمبر میں پہلا گھر مل جائے گا، اس میں دیر اس لیے ہوئی کہ قانون موجود نہیں تھا۔معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت نے فوری انصاف کی فراہمی کیلئے میڈیا کورٹس کا آئیڈیا پیش کیا ہے، اگر صحافتی تنظیمیں اس سے اتفاق نہیں کریں گی تو حکومت اسے مسلط نہیں کرے گی۔انہوں نے کہاکہ سزا یافتہ یا جیلوں میں قید افراد کے کہیں بھی انٹرویو نشر نہیں ہوتے۔ہمارے خلاف جو مہم چلائی گئی، ہمیں اقتدار سے روکنے کے لیے جو اشتہارات دئیے گئے اس کے بل بھی ہم نے میڈیا مالکان کو ادا کردئیے ہیں۔

فردوس عاشق

مزید :

صفحہ اول -