مقبوضہ وادی میں ریاستی دہشتگردی جاری، مزید 7کشمیری شہید، او آئی سی کا بھارتی مظالم پر اظہار تشویش

  مقبوضہ وادی میں ریاستی دہشتگردی جاری، مزید 7کشمیری شہید، او آئی سی کا ...

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کے دوران فائرنگ کرکے مزید 7 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مزید 7 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔ دوسری جانب  ضلع شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران گھر کے ملبے سے مزید 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔گزشتہ روز بھی قابض بھارتی فوج نے 2 الگ الگ واقعات میں سرچ آپریشن کے دوران ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا، شہید ہونے والے نوجوان مقامی یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔دوسری طرف ریاستی حکومت کی ایڈوائزری کے بعدوادی میں مقیم سیاحوں اور یاتریوں نے وادی سے نکلنے کا آغازکردیا ہے۔ اسکے ساتھ ہی وادی میں ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی مزدوروں نے بھی وادی سے کوچ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وادی کے پیٹرول پمپوں کے باہر بدستوررش  ہے جبکہ اے ٹی ایم مشینوں کے باہر بھی قطاریں لگی رہیں۔ محکمہ سیاحت کے حکام نے کہا ہے کہ وادی کے مختلف مقامات پر قریب 25 سے 30ہزار سیاح مقیم تھے جنہیں جمعہ کی شام زبردستی ہوٹلوں سے نکالا گیا اور رات کے دوران ہی سرینگر لایا گیا۔سرکاری طور پر گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا اور روڑ ٹرانسپورٹ کی بسیں اس کام پر لگا دی گئیں تھیں۔سول  ایوی ایشن حکام کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی جس میں اضافی پروازوں کا اہتمام کرنیکا فیصلہ کیا گیا 10ہزار سیاح پروازوں کے ذریعہ نئی دہلی روانہ ہوچکے ہیں اور اتوار کی شام تک سبھی سیاحوں کو دلی روانہ  کر دیا گیا۔ادھرایک سنیئر آفیسر نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ پہلگام اور بال تل میں موجود 5000 یاتریوں کو جموں روانہ کرنے کا آغاز کیا گیا۔ تاہم لنگر لگانے والوں کی اچھی خاصی تعداد ابھی بھی موجود ہے جنہیں اتوار کی شام تک جموں روانہ کیا گیا۔ہوٹل ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے  بتایا کہ پہلگام اور گلمرگ کے علاوہ سونہ مرگ، یوسمرگ اور سرینگر ہوٹلوں میں مقیم سیاحوں کو حکام کی جانب سے زبردستی نکالا گیا۔اس دوران وادی میں مقیم غیر ریاستی مزدوروں میں تشویش کی لہر دور گئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی مزدوروں نے وادی سے کوچ کرنیکا آغاز کردیا ہے۔سوشل میڈیا پر کئی ایک بیرون ریاستوں کے مزدوروں کو روتے بلکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ادھراگرچہ حکومت نے کہاہے کہ لوگوں کو افواہوں پر کوئی دھیان نہیں دینا چاہئے کیونکہ وادی میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود بھی لوگ پٹرول پمپوں کے باہر جمع ہورہے ہیں۔

بھارتی مظالم

اسلام آباد، جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔او آئی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ہے، مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی اضافی نفری پر بھی تشویش ہے۔او آئی سی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کو حل کیا جائے۔او آئی سی نے بھارتی فوج کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں کے باعث ہونے والے جانی نقصان پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے سویلین آبادی پر کلسٹربم کے استعمال پر شدید تشویش ہے۔ سعودی عرب میں  پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل کے چیف سیکرٹری اور  قائم مقام سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ موسٰی الطائر سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد او آئی سی کوکشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ بھارتی جارحیت اور کلسٹر گولہ بارود کے استعمال سے بے گناہ شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے آگاہ کرنا تھا۔   راجہ علی اعجاز نے ڈاکٹر عبد اللہ کو بتایا کہ بھارتی فوج نے توپ خانے کے ذریعے کلسٹر گولہ بارود کا استعمال کرکے وادی نیلم میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جارحیت کے نتیجے میں شدید شہری ہلاکتیں ہوئی اور ایک 4 سالہ لڑکے سمیت 2 شہری شہید جبکہ 11 شدید زخمی ہوگئے۔سفیر نے مزید کہا کہ ہندوستانی فوج جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول کے ساتھ شہریوں کی آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے کلسٹر گولہ بارود کا استعمال کررھی ہے جو کہ جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی او آئی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں گھمبیر ہوتی صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری طرف پاکستان نے بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتوار کویہاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت سابقہ سیکرٹریز کا ہنگامی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور سابقہ خارجہ سیکرٹریز نے شرکت کی۔اجلاس میں کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا وزیر خارجہ نے کہاکہ کشمیر کی صورتحال پر پوری دْنیا کو تشویش ہے،بھارتی عزائم،خطے میں امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں فوری طور پر اس گھمبیر صورت حال کا  نوٹس لیں۔توار کو یہاں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارت کشمیر کے مسئلے پر تیسرے فریق کی ثالثی مانتا ہے اور نہ ہی دو طرفہ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں مزید اٹھائیس ہزار فورس بھیجنے اور غیر ملکی سیاحوں کو مقبوضہ کشمیر سے نکالنے کی اطلاعات پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ نہتے کشمیریوں پر بھارت کی طرف سے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ 

او آئی سی

مزید :

صفحہ اول -