گزشتہ سال کے دوران کراچی کے ٹیکسز کی رقم دبئی منتقل ہوئی: علی زیدی 

گزشتہ سال کے دوران کراچی کے ٹیکسز کی رقم دبئی منتقل ہوئی: علی زیدی 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمی کراچی اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے کلین کراچی مہم کا آغاز اتوار سے کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی اور مئیر کراچی وسیم اختر نے کے پی ٹی ہیڈ آفس میں ایک بڑے جلسہ عام میں اس کا افتتاح کیا اور اعلان کیا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ عید سے قبل بڑے نالے مکمل صاف ہوں۔تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی اور متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، ڈپٹی مئیر کراچی ارشد حسن سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، کراچی سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، سماجی کارکنان،سول سوسائٹی کے نمائندوں کھلاڑیوں، فن کاروں اور بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران کراچی کے ٹیکسز کی رقم دبئی منتقل ہو گئی اس لئے کراچی اور سندھ میں یہ رقم زمین پر لگی ہوئی نظر نہیں آتی۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ صفائی تو روز کا مسئلہ ہے آپ شہر صاف کر کے چھوڑ دیں گے تو بعد میں کیا ہو گا۔ ہم ایک مرتبہ شہر کو مکمل صاف کر کے بتانا چاہتے ہیں کہ کوشش کی جائے تو شہر صاف ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی وسیم اختر، ان کی جماعت اور بلدیاتی منتخب قیادت کے تعاون کے بغیر یہ کام ممکن نہیں اس لئے ہم مل کر کوشش کریں گے۔ہماری نیت صاف ہے اس لئے اللہ کی مدد بھی حاصل ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کا تعاون حاصل رہے گا، ان کی مشینری اور انفراسٹرکچر سے خاصی مدد ملے گی، 15 ہزار رضا کار بلدیاتی اداروں منتخب نمائندوں اور ممبران پارلیمنٹ کی مدد اور ان سے تعاون کریں گے جن کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ ہم ان رضاکاروں کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر تقسیم کریں گے۔مئیر کراچی وسیم اختر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث وفاقی حکومت سے تعاون کی درخواست کی۔ میں وفاقی وزیر علی زیدی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے خط کے جواب میں تعاون کیا میرے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں تھا۔ ان اختیارات اور وسائل کے ساتھ میں کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتا،ہمیں اب سیاست نہیں، کام کرنا ہو گا اگر اس میں سیاست شامل ہوئی تو نتائج صفر ہوں گے۔گزشتہ دس برسوں میں صوبائی حکومت نے کراچی کو تباہ کیا، میں یہ پوچھتا ہوں کہ کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکسز کی رقم کہاں جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کراچی میں کچرا صاف کرنے کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔سارا کچرا شہر کے نالوں اور گلیوں میں جمع ہے،شہر کے جن اداروں پر یہ قابض ہیں وہ کام کیوں نہیں کرتے یہ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔پاکستان کی نام نہاد جمہوری جماعتوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جو جمہوریت کی بنیاد ہے۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو لوکل گورنمنٹ کے تمام اختیارات صوبائی حکومت نے اہنے پاس رکھ لئے، جمہوریت کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ اختیارات تیسرے درجے کی حکومت کو منتقل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جہاں جمہوریت مضبوط اور مسائل سے پاک معاشرہ ہے وہاں تیسرے درجے کے حکومتی ادارے مضبوط ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسی ذہنیت کے حامل سیاست دان ہیں جو اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔عوام کے لئے نہ خود کام کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں تین سال سے یہی بات کہہ رہا ہوں کہ ملک کی مضبوطی کے لئے اداروں کو مضبوط کرو مگر کوئی سننے والا ہی نہیں۔ مجھے سندھ حکومت کے رویے سے مجبور ہو کر عدالت جانا پڑتا ہے،کے ایم سی کو کچھ وسائل ملتے بھی ہیں تو عدالت کے حکم پر۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں میں شہر کا برا حال تھا میری ذمہ داری صرف نالے صاف کرنا ہے وہ ایک ہفتہ قبل صاف کر دئے تھے۔اسی وجہ سے کوئی نالہ اوور فلو نہیں ہوا۔ مئیر کراچی نے کہا کہ سڑکوں پر کچرا اور کچرے سے نالیاں چوک ہونے سے سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔نالوں کی صفائی کے لئے عدالت کی ہدایت پر جو پیسے دیئے گئے تھے ان کا حساب سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے دفتر میں جمع کرا دیا ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں حساب دو۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اور ادارے ان سے دس سال کا حساب مانگ رہے ہیں اور یہ دوسروں کو کہہ رہے ہیں کہ حساب دو،یہ شرم کا مقام ہے۔مئیر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت اور علی زیدی کا شکر گزار ہوں کہ میری درخواست پر کراچی کی طرف توجہ دی، ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر شہر کے لئے کام کرنا ہو گا یہ شہر ہم سب کا ہے اگر اس کام میں سیاست شامل ہوئی تو نتائج صفر ہوں گے لہذا ایک ہی سوچ ہونا چاہئے کہ شہر کو ترقی دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم سب سے بہت غلطیاں ہوئیں ان کو بھول جانے کا وقت ہے، پھر سیاست کریں گے تو مسائل حل نہیں ہو سکتے،آج جو جذبہ موجود ہے اسی جذبے کے ساتھ کام کریں گے تو نتائج حاصل ہوں گے، بحریہ ٹاؤن نے کورنگی ڈسٹرکٹ صاف کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -