مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمےپر تمام آپشنزپر غور کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمےپر تمام آپشنزپر غور کررہے ہیں،شاہ محمود ...
 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمےپر تمام آپشنزپر غور کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد قانونی مشاورت سمیت تمام آپشنز پر غور کررہے ہیں،انڈیا نے فلسطین کودیکھتے ہوئے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایاہے کہ فلسطین کے ساتھ جوکچھ بھی ہوا ، اس پر دنیا کی طرف سے کو ئی خاص ردعمل نہیں دیا گیا ۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد قانونی مشاورت سمیت تمام آپشنز پر غور کررہے ہیں ۔وزیر اعظم کی ترک صدر سے بات ہوئی ہے ، عالمی عدالت انصاف میں جانے کے معاملے کو بھی دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیرکی وہ سیاسی قیادت جو ہمیشہ بھارتی حکومتوں کا حصہ رہی ہے ،وہ بھی یہ توقع نہیں کررہی تھی کہ ایسا ہوجائیگا لیکن کہ مودی نے وہ طبقہ جو سیکولر انڈیا کا تصور پیش کرتا ہے ، اس کو کونے سے لگا دیا ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا نے فلسطین کودیکھتے ہوئے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایاہے کہ فلسطین کے ساتھ جوکچھ بھی ہوا ، اس پر دنیا کی طرف سے کوئی خاص ردعمل نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ تھا کہ بھارت اس قسم کی کوشش کرسکتاہے ، نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ہم سب کی یہ واضح رائے تھی کہ بھارت کو ئی ایسا کرنے چلاہے اور ہم کومکمل طور پر تیار رہنا چاہئے ۔ہمارا اپنا اندازہ تھا کہ 15اگست کو جو وزیر اعظم مودی کی تقریر متوقع ہے ، شائد اس تقریر میں وہ کوئی بڑا اعلان کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور ہر اس قوت کو جو بر صغیر میں استحکام چاہتی ہے ، کردار ادا کرنا چاہئے ، اب اگر مقبوضہ کشمیر میں رد عمل ہوا تو بھارت اس کوزور بازو کچلے گا اوراس خون خرابے سے بچنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جوچاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن عمل کافی حد تک آگے بڑھ چکاہے تو اب ان کو اس خطے کو عدم استحکام کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے کردار ادا کرناچاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کو مزید ہائی لائٹ کردیا ہے اور الجھا دیاہے ۔ بھارت نے یہ قدم اٹھا کر شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے ، یہ قدم اٹھا کر ہر لحاظ سے صریحاً بہت خطر ناک کھیل کھیلا گیا ہے ۔

مزید :

قومی -