”یوم استحصال کشمیر“

”یوم استحصال کشمیر“

  

 مقبوضہ کشمیر کے 95 لاکھ عوام کو محصور ہوئے ایک سال پورا ہو گیا!

لاہور سے چودھری خادم حسین

کشمیری مسلمانوں کو بھارتی مظالم کا سامنا کرتے ہوئے بھی تہتر سال ہو گئے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرارداد کے مطابق ان کو اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کرنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا اور اب ان نوے لاکھ کشمیریوں کو محصور ہوئے بھی پورا ایک سال ہو گیا۔ اس دوران تمام تر ظلم و بربریت کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ سرد نہیں ہوا۔ گزشتہ برس 5 اگست کو نریندر مودی کی متعصب حکومت نے بھارتی آئین میں متعین کشمیر (مقبوضہ) کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کے لئے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا کشمیری عوام ان پابندیوں اور مسلسل جبر کے باوجود اپنی جدوجہد اور فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ افسوس ناک یہ امر ہے کہ دنیا جو انسانیت کا پرچار کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر بھی عمل درآمد نہیں کرا سکی اور اب تو بھارتی حکومت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کر نے کے لئے متعصب ہندوؤں کو کشمیری شہریت دینا بھی شروع کر دی اور کشمیریوں کی جائیدادیں بھی ہتھیائی جا رہی ہیں۔ بھارتی غیر انسانی، غیر انسانی اقدامات کے خلاف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لئے آج بروز بدھ 5 اگست کو پاکستان بھر میں خصوصی طور پر یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی طرف دلاتا ہے کہ دنیا کا ضمیر بھی جاگے۔ پاکستان کے علاوہ خود مقبوضہ کشمیر کے عوام اور دنیا بھر میں کشمیری اور ان کے ہمدرد بھی یہ دن اسی انداز میں منائیں گے اور بھارت کے اقدامات کی مذمت کی جائے گی۔ پاکستان میں ایک منٹ کی مکمل خاموشی کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ یہ خاموشی عالمی سطح پر چھائی خاموشی کو توڑنے کا سبب بنے۔

عید الضحیٰ آئی اور گزر گئی کورونا وباء کی موجودگی اور سخت حفاظتی تدابیر کے اجرا کے باوجود ملک بھر میں اسلامیان پاکستان نے حلال جانوروں کی قربانی معمول کے مطابق کی نماز عید کے اجتماعات بھی حفاظتی تدابیر کے ساتھ ہوئے اور نماز کے بعد اللہ سے وباء کو دور کرنے کی دعائیں مانگی گئیں۔ ملکی سلامتی اور معاشی حالات کی بہتری کے لئے بھی دعا کی گئی۔ عیدالضحیٰ کے لئے پنجاب حکومت نے ایس او پیز کا دوبارہ اجرا کیا تاہم عوام۔ خصوصاً تاجر برادری نے ان کو در خود اعتنا نہ جانا تو حکومت کو مجبوراً لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تاجروں نے یہ فیصلہ مسترد کر کے کاروبار جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ تاہم انتظامیہ نے سختی سے احکام پر عمل درآمد کرا یا اور دوکانیں بند کرا دیں۔ اس کے بعد تاجر حضرات نے شٹر بند اور گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے ملازمین متعین کر دیئے اور باقی یوم اسی طرح کاروبار ہوتا رہا جبکہ مارکیٹوں میں تھڑے والے دوکان داروں نے سڑکوں کے کنارے ”تنی مارکیٹیں“ قائم کرلیں اور رات دیر گئے تک کاروبار کرتے رہے۔ اب پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کر دیا، شادی ہالز، سنیما اور ریسٹورنٹ بدستور بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا شاپنگ مالز اور مارکیٹیں صبح نو بجے سے شام سات بجے تک کاروبار کر سکیں گی۔ حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ اس روشنی میں ہے کہ وباء (کرونا) میں واضح کمی ہوئی اور وفاقی حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کو کنٹرول کر لیا گیا اور مزید احتیاط سے یہ ختم ہو جائے گا۔ عوام پہلے ہی کورونا کو نظر انداز کر رہے تھے۔ اب ان کے حوصلے مزید بڑھ جائیں گے اور وہ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کریں گے جیسا کہ عید کے دنوں میں کیا گیا۔

لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے اپنے اعلانات کے مطابق آلائش ٹھکانے لگانے اور صفائی کے خصوصی انتظامات کئے تھے۔ تاہم انتظامیہ کی طرف سے گلی محلوں اور بازاروں میں قربانی روکنے کا انتظام نہ ہو سکا، عوام نے بدستور اپنے اپنے گھروں ہی کے باہر جانور ذبح کرائے۔ تاہم مجموعی طور پر شہریوں کا رویہ بہتر تھا کہ اکثر مکینوں نے آلائش وغیرہ کوڑے والی جگہ پھینکی اور گلیوں کی صفائی کا بھی اہتمام کیا۔ اس کے باوجود مختلف شہری علاقوں میں اوجڑی اور آلاشیں پڑی نظر آئیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اسی لئے سختی سے ہدایت کی کہ عید کے تیسرے روز (پیر) کی شب تک تمام آلائشیں ٹھکانے لگا دی جائیں۔

ہمارا جو وطیرہ بن چکا اس سے روگرانی نہیں کی گئی ا ور بازار میں اشیاء خوردنی اور ضرورت کے نرخ غیر ضروری طور پر بڑھا لئے گئے۔ ٹماٹر 160 روپے اور ادرک تین سو روپے فی کلو تک فروخت کیا گیا۔ قیمتوں کے حوالے سے انتظامیہ بے بس رہی جبکہ ملاوٹی اور جعلی اشیاء بھی بکتی رہیں۔ عوام پریشانی اور بے بسی کا اظہار کرتے رہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -