آج یوم استحصال کشمیر منایا جا رہاہے،

آج یوم استحصال کشمیر منایا جا رہاہے،

  

کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل،سری نگر روڈ رکھ دیا گیا،

مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کو ایک برس بیت گیا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وادیئ کشمیر میں فاشزم اور بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پاکستان نے ایک برس کے اس عرصہ میں دنیا بھر میں بھارتی رویہ کے خلاف آواز اٹھائے رکھی، احتجاج بھی کئے، اقوام عالم اور بالخصوص عالم اسلام کی توجہ بھی اس انسانی المیہ کی طرف مبذول کروائی۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں گزشتہ سال مسئلہ کشمیر کو انتہائی پُرجوش انداز میں اجاگر کیا،لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہٹ دھرمی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ پاکستان نے اس تمام عرصہ میں سفارتی محاذ کو بھی خوب گرمائے رکھا۔تاہم بھارتی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔اب اسلام آباد نے بھارتی غاصبیت کے ایک سال کی تکمیل پر نئے عزم اور ہمت سے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 5اگست کو آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی رویہ کے خلاف یوم استحصال منایا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اسی تناظر میں دارالحکومت میں کشمیر ہائی وے کو سری نگر ہائی وے کا نام دینے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ محمود قریشی اور مشیر سلامتی کونسل معید یوسف دارالحکومت میں غیر ملکی دفاعی اتاشیوں اور سفارتی وزراء کو لائن آف کنٹرول پر لے گئے اور انہیں بھارت کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں اور خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا تاکہ دُنیا کو بھارتی عزائم کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے، اسی طرح دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے یوم استحصال منانے کے لئے ایک لائحہ عمل کی تیاری کے حوالے سے اجلاس بھی ہوا، جس میں مشیر معید یوسف، سیکرٹری خارجہ کے علاوہ اعلیٰ عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ تاہم خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حد درجہ سفارت کاری بھی بعض تنازعات میں کارگر ثابت نہیں ہوتی، سفارت کاری کو خواہ جتنا بھی گرمایا جائے اس سے ایک خاص سطح تک ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔تاہم پاکستان نے افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے مابین ڈیل میں اہم کردار ادا کیا اور اس عمل کے اگلے مراحل میں بھی پاکستان کی مدد کے بغیر کامیابی ممکن نظر نہیں آتی دیکھنا ہے کہ پاکستان اس ضمن میں اپنے کارڈز کیسے کھیلے گا، کیونکہ تاحال تو امریکہ نے مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی مدد تو درکنار، بلکہ اسے ایف اے ٹی ایف کے جال میں الجھایا ہوا ہے، جبکہ امریکہ کی بھارت کے ساتھ قربت بڑھنے اور چین سے تعلقات کے بڑھتے ہوئے بگاڑ میں پاکستان کے لئے نئے مواقع اور امکانات پیدا ہو رہے ہیں، اب دیکھنا ہے کہ پاکستان ان سے کس طور اور کس قدر بہرہ ور ہو پاتا ہے

خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں افغانستان کا مستقبل بھی واضح نہیں ہو پا رہا۔اگرچہ پاکستان نے یک طرفہ طور پر افغانستان کو بڑی رعایت دیتے ہوئے اسے پاکستان کے راستے بھارت سے تجارت کی اجازت دے دی ہے،جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں سرتاج عزیز اس وقت بھارت اور افغانستان کو غیر مشروط طور پر یکطرفہ رعایت نہ دینے پڑ اڑے رہے تھے تاہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ افغانستان میں اس حوالے سے اہم بریک تھرو ہوئی تھی، افغان امور کے ماہر محمد صادق بھی یہ رعایت دینے کے حق میں تھے اور ان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان کے تقرر کے بعد یہ پیش رفت دیکھنے میں آئی، جبکہ وہ اعلیٰ عسکری قیادت کے دورہ افغانستان میں بھی ان کے ہمراہ تھے۔ تاہم عید سے قبل افغان چمن بارڈر پر صورت حال کشیدہ ہوئی فائرنگ کی نوبت بھی آئی اور کئی لوگ جان سے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز میں ایسے عوامل اور عناصر موجود ہیں جو پاک افغان تعلقات کی بہتری کے خواہاں نہیں، قبل اس کے کہ پاکستان کوئی بڑا اقدام کرتا عید کے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کیا اور ان سے تفصیلی بات چیت کی۔ لگتا ہے کہ اب صورتحال معمول پر آ جائے گی وزیراعظم عمران خان نے عید کے موقع پر ترک صدر طیب اردگان کو بھی فون کیا اور ان سے دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر اردگان کی جانب سے دورہ پاکستان کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر پر زور حمایت کرنے کا بھی ذکر کیا۔

یوم استحصال کے سلسلہ میں کشمیر پر قرارداد پیش کرنے کے لئے پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا ہے۔ پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ملک کی داخلی صورت حال میں بڑھتی ہوئی گرما گرمی کے لحاظ سے بھی یہ اجلاس اہم ہوگا۔ کورونا اور بعض دیگر عوامل کے باعث اپوزیشن جماعتیں زیادہ تر صوبوں میں ہی مورچہ زن ہو کر بیانات داغ رہی تھیں، لیکن مشترکہ اجلاس کے باعث آئندہ چند دنوں کے لئے ملکی سیاست کا مرکز وفاقی دارلحکومت ہوگا۔ اپوزیشن زچ ہے کہ انہیں نیب قوانین میں ترمیم کے ایشو پر ”ڈچ“ کیا گیا اب پارلیمینٹ کے اندر اور باہر حکومت اور اپوزیشن کے مابین محاذ آرائی کا ایک نیا دور ہوگا۔ اگرچہ مسئلہ کشمیر کے ایشو پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں اپوزیشن کو ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے اب دیکھنا ہے کہ اپوزیشن کیا طرز عمل اپناتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بھی 6 اگست کو طلب کر لیا ہے یہ اجلاس سات ماہ کے بعد بلایا گیا ہے، جبکہ آئینی تقاضے کے مطابق ہر تین ماہ بعد یہ اجلاس بلانا ہوتا ہے اب دیکھنا ہے کہ دارلحکومت میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں پر اپوزیشن رہنما شہباز شریف پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری کے رابطے کیا اثرات مرتب کرتے ہیں،جبکہ حکو مت مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے بے بس نظر آتی ہے۔ جون کی نسبت جولائی میں قیمتوں میں ڈھائی فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عید کے موقع پر حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا،جبکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے دارالحکومت میں روٹی 12 اور نان 15 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے گلہ کر رہی ہے۔ عوام پس رہے ہیں، لیکن اپوزیشن کے پاس کوئی تا حال واضع ایجنڈا نہیں ہے۔ کورونا کے خطرے کے باعث عید کے موقع پر دارالحکومت میں تمام تفریحی مقامات بشمول مری بند رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج یوم استحصال کشمیر منایا جا رہاہے،کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل،سری نگر روڈ رکھ دیا گیا،

کشمیری عوام کو محصور ہوئے ایک سال پورا ہو گیا،مودی مظالم جاری دنیا نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کشمیریوں کے حق میں مشترکہ قرارداد منظور ہو گی،حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی محاذ آرائی میں شدت کا امکان

مزید :

ایڈیشن 1 -