”جا چھوڑ میری وادی“

”جا چھوڑ میری وادی“

  

اہل کشمیر سے یکجہتی کے لئے پاک فوج کے ترانے کی دھوم

اہل کشمیر پر بھارتی ظلم و ستم اور مستقل لاک ڈاؤن کو ایک سال بیت گیا، ویسے تو بھارتی بربریت طویل عرصے سے جاری ہے لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران نہتے کشمیریوں پر جس سفاکانہ انداز میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مسلسل لاک ڈاؤن کر کے کشمیریوں کو جبراً گھروں میں قید کیا گیا، اس کی مثال دنیا کی کسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ نریندر مودی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کو اہم عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ ہندوؤں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بنیادی طور پر وادی کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور کشمیری عوام کو ان کے سیاسی اور معاشی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ختم کر دیا گیا ہے، وہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ اس وقت سول بیورو کریسی، پولیس اور عدلیہ میں کہیں بھی کشمیری مسلمان موجود نہیں ہیں۔ بھارتی ظلم و ستم اور سفاکیت کو آج ایک سال گزر گیا لیکن بربریت میں رتی برابر کمی نہیں آئی۔ عالمی ضمیر بھی تا حال خاموش ہے جسے بار بار جگانے کی سرتوڑ کوششیں کشمیریوں سمیت اہل پاکستان بھی کر رہے ہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی آج دنیا بھر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے لئے دن مخصوص کیا گیا ہے، پاکستان سمیت عالمی سطح پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آج 5اگست کو ”یوم استحصال“منایا جائے گا، اس دن کو بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیرقانونی بھارتی اقدام کے ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے مختص کیا گیا ہے۔ملک بھرمیں صبح ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان بدھ کوآزادجموں وکشمیرکی قانون سازاسمبلی سے خطاب کریں گے اور بھارتی قابض فورسزکے چنگل سے آزادی کیلئے کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کریں گے۔ صدرڈاکٹرعارف علوی بھی اس روزایک ریلی کی قیادت کریں گے۔یہ خوش آئند امر ہے کہ کشمیری تنظیموں کی جانب سے امریکہ کے دارالحکومت نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کیلئے بل بورڈز آویزاں کر دئیے گئے ہیں۔امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے اپنی ٹویٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی جس میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ نیویارک ٹائمز سکوائر کی بلڈنگ پر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے چمچماتے بل بورڈز آویزاں ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے بھی یوم استحصال کی مناسبت سے نیا گانا ریلیز کر دیا گیا ہے، نغمے کا ٹائٹل ’جا چھوڑ میری وادی‘ ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی مرتبہ ایک کشمیری گانے کا مرکزی کردار بنا ہے۔ گانے کا آغاز ایک کلاک کی آواز سے ہوتا ہے جو پچھلے365 دِنوں کی یاد دلاتا ہے۔ بھارتی مظالم کے حوالے سے اس گانے میں جو بول شامل کئے گئے ہیں ان میں گزشتہ 365 دِنوں سے کشمیریوں کو جس بد ترین ریاستی دہشت گردی اور لاک ڈاؤن کا سامنا ہے کی عکاسی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ، بھارت بینائی تو چھین سکتا ہے خواب نہیں۔ کشمیریوں کو جَبر کا نشانہ تو بنایا جا سکتا ہے لیکن اْن کے جذبہ آزادی کو مات نہیں دی جا سکتی۔ کشمیری تنگ آچکا ہے اور دنیا کی توجہ کا منتظر ہے، کشمیریوں کی آزادی کی یہ چیخ بھی دْنیا کے ایوانوں میں پہنچے گی اور ایک دن کشمیری اپنی آزادی کا حق لے کر رہیں گے۔ اس عسکری نغمے کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کے الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا سمیت سوشل سائٹس پر بھی اس کی خاصی دھوم ہے۔ اہل کشمیر سے یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالی جا ئیں گی، خیبر پختونخوا میں بھی بڑے پیمانے پر بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئے ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں وزیر اعلیٰ محمود خان اور کابینہ کے دیگر ارکان بھی شریک ہوں گے۔ کشمیری تنظیموں نے بھی سیمنار، مذاکروں اور احتجاجی جلوسوں کا انتظام کر رکھا تھا۔

عید الضحیٰ پر افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے 500 افغان طالبان قیدی رہا کئے جانے کے باوجود افغانستان میں امن کا خواب پورا نہیں ہو سکا اور دوحہ معاہدہ کی اس شق پر عملدرآمد کے باوجود افغانستان کے مختلف علاقوں میں امن دشمن کارروائیاں جاری ہیں اور عید الضحیٰ کے تیسرے روز جلال آباد جیل پر حملے میں کم و بیش 25 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے اگرچہ اس حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی ہے تاہم افغان سیکیورٹی فورسز اس کے دیگر پہلوؤں پر بھی غور کر رہی ہیں بتایا گیا ہے دو روز قبل داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد وں نے جلال آباد کی جیل کے مرکزی دروازے پر پہلے خودکش حملہ کیا جس کے بعد متعدد عسکریت پسند وں نے دھاوا بول دیا۔رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 21 شہری اور 3سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے، افغان فورسز سے جھڑپ کے دوران 3 دہشتگرد بھی مارے گئے۔

ہم ان سطور میں بار ہا تحریر کر چکے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے باوجود افغانستان میں امن کا قیام یقینی نہیں بنایا جا سکا اور آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی کارروائی ضرور ہو جاتی ہے جو اس معاہدے کی روح کے منافی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مرتبہ پھر تمام فریقین سرجوڑ بیٹھیں اور امن کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی سر توڑ کوشش کی جائے۔

کے پی کے میں عید الضحیٰ کا مذہبی تہوار بھی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا فرزندان توحید نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیاں جوش و خروش کے ساتھ منائیں مساجد اور پارکوں میں نماز عید ایس او پیز کے تحت ادا کی گئی اس مرتبہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں صفائی کا نظام بھی پہلے کی نسبت بہتر تھا اور بلدیہ کا عملہ جانوروں کی آلائشیں اکٹھی کرنے میں مصروف دکھائی دیا، ڈمپنگ سائیڈز بھی عمدہ طریقے سے بنائی گئی تھیں جبکہ مویشی منڈیوں کا انتظام و انصرام بھی خوب تھا۔ وزیر اعلیٰ سمیت ارکان کابینہ و اسمبلی اور اعلیٰ افسران نے اپنے اپنے آبائی علاقوں میں عید منائی جبکہ صوبائی حکومت میں پولیس شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے خصوصی تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صوبے کی بہادر پولیس نے عوام کے جان ومال کے تحفظ اور امن عامہ کے قیام کیلئے فرض شناسی کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ رہے گی۔ہماری پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیگر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور اس خطے میں امن کی بحالی کیلئے شہادتوں کی ایک تاریخ رقم کی۔ اس تقریب میں شہداء پولیس کے اہل خانہ کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا جنہیں انتظامیہ کی جانب سے زبردست پذیرائی دی گئی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -