حکومتی عدم توجہگی

حکومتی عدم توجہگی

  

ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی عیدالاضحی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی نماز عید کے اجتماع کہیں کورونا وائرس کی وجہ سے ایس او پی کے تحت او رکچھ مقامات پر ماضی کی طرح رش میں ہی ادا کی گئی، عید سے چند روز قبل مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کی وجہ سے بڑی مارکیٹیں اور شاپنگ مال بند رہے اور عوام کی بڑی تعداد خریداری سے محروم رہی تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا کہ نہ تو کوئی ٹریفک جام ہوا اور نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے اجتماعی قربانی پر زیادہ انحصار کیا جبکہ کچھ لوگوں نے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو اجتماعی قربانی کی رقم دے کر عید کی خوشیاں سمیٹیں مویشی منڈیوں میں خریداروں کا رش نہ ہونے کے برابر رہا گو چھوٹے بڑے جانوروں کا ریٹ زیادہ تھا مگر خریدار نہ ہونے کے باعث آخری دنوں میں یہ منڈیاں مندی کا شکار رہیں اور عید کے تیسرے دن تک چیدہ چیدہ خریدار منڈی میں آتے رہے یہی وجہ رہی کہ اس مرتبہ منڈیوں میں آنے والے تمام جانور فروخت نہ ہو سکے اس کی ایک بنیادی وجہ لاک ڈاؤن کا اطلاق اور دوسرا مہنگائی تھی تاہم اس کے باوجود سنت ابراہیمی کی بھر پور طریقے سے ادا کی گئی دوسری طرف حکومت نے متعدد غیر سرکاری تنظیموں پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی جس کی وجہ سے چمڑا مارکیٹ میں کھالوں کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی دیکھنے کو ملی اور گزشتہ جو کھال 2ہزار روپے کی بکی تھی اس سال اس کی قیمت 600روپے لگائی گئی جس کا نقصان تو قربانی کرنے والوں کو ہوا مگر چمڑا سے متعلق تاجروں کی خوب چاندی ہوئی ادھر حکومت پاکستان نے بڑی عید پر عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پٹرول ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکومتی اعلان کے مطابق یہ اضافہ پندرہ دن کے بعد ہونا چاہیے تھا، مگر یہ فیصلہ عوام کے سر پر تھوپ دیا گیا جس کا اثر یہ ہوا کہ مہنگائی کی ایک مزید لہر ملک بھر میں پھیل گئی ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں من مانا اضافہ کر لیا بار برداری کی ٹرانسپورٹ بھی منہ مانگے کرایے وصول کرتی رہی جبکہ چینی کی قیمت جو 70روپے مقرر کی گئی تھی بڑھ کر 90روپے سے 95روپے فی کلو ہو گئی اور آٹا 70سے 75روپے کلو تک بکا اور ہر دو ضرورت کی چیزیں یوٹیلٹی سٹورز پر غائب ہی رہیں تاہم پھر بھی عیدالاضحی خیریت سے گزر گئی۔البتہ اب پنجاب حکومت نے جو لاک ڈاؤن اٹھایا ہے اس کے نتائج بہتر آنے کی توقع ہے، کیونکہ کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے عام آدمی مشکلات کا شکار تھا اب مارکیٹیں کھلنے اور کاروبار شروع ہونے سے بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

ادھر آج مقبو ضہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یوم استحصال منایا جا رہا ہے جس میں دنیا بھر کی نظریں اورتوجہ انڈیا کی کشمیر میں ظلم و بربریت کے خلاف مبذول کروائی جائیں گی کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی پوزیشن تبدیل کرنے اور ایک سال سے زیادہ عرصہ لاک ڈاؤن رکھنے سے کشمیریوں کے حقوق کا جو استحصال ہو رہا ہے اس کے خلاف ایک موثر آواز پیدا ہو گی جو دنیا کی آنکھیں کھولے گی کہ کشمیر میں بھارت کیا مظالم ڈھا رہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی بجائے مزید مظالم کر رہا ہے جو کشمیریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔یہ اب حقیقت ہے کہ جنوبی پنجاب کی زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے لیکن بھلا ہو حکومتی منصوبہ ساز وں کا جنہوں نے اس خطے میں پیدا ہونے والی کپاس اور آم کی فصل کو خاص طور پر نشانہ بنا کر اس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے پہلے بہترین کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں شوگر ملیں قائم کروا دی گئیں اور کاشتکاروں کو ہر طرح کا لالچ دے کر گنا کاشت کروایا گیا حالانکہ پہلے ہی پانی کی کمی کے شکار اس علاقے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا جس سے کاشتکاروں نے نقد آور فصل کپاس کو چھوڑ کر ادھار والی فصل گنے کی کاشت شروع کر دی نتیجہ یہ ہوا کہ کاشتکار شوگر ملز کا ٹیل کی طرف سے بر وقت ادائیگیاں نہ کرنے کے خلاف آج بھی برسر احتجاج ہیں اور کپاس کی فصل کاشت اوسطاً کم ہوئی لیکن اس کے باوجود کاٹن بروکر مافیا نے حکومتی عہدیداروں کے ساتھ مل کر درآمدی کپاس پر محاصل ختم یا پھر کم کروا لئے تو دوسری طرف سے فصل کے اخراجات بڑھا دئیے گئے زرعی ادویات کمپنیوں کے گٹھ جوڑ نے اس تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کاشتکاروں نے گنے کے بعد دھان کی طرف توجہ کر لی اور اب پوزیشن یہ ہے کہ رواں سال صرف ملتان ڈویژن میں تاریخ کی سب سے کم کپاس کاشت کی گئی ہے،جو صرف 10لاکھ 5ہزار ایکڑ رقبہ بنتا ہے، یعنی معمول سے تقریباً 26فیصد کم کاشت ہوئی،جبکہ پورے پنجاب میں یہ 18فیصد بنتا ہے یوں یہ نقد آور وائٹ گولڈ مزید انحطاط کا شکار ہو رہا ہے وفاقی اور صوبائی حکومت سے توقع تھی کہ وہ ملکی معاشی اور سیاسی سمیت کرونا وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے زراعت پر توجہ کرتی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باقی کافی سارے معاملات کی طرح ملک کا یہ اہم ترین مسئلہ بھی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنوبی پنجاب میں بھی یوم استحصال کشمیر پورے جذبے سے منایا گیا،

سنت ابراہیمی کی ادائیگی عقیدت و احترام سے ادا کی گئی،لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی خیریت رہی

حکومتی عدم توجہگی کے باعث نقد ٓاور سفید چاندی (کپاس) والی فصل کا رقبہ بہت کم ہو گیا،کسانوں نے شوگر مافیا کی عدم ادائیگی سے تنگ آ کر چاول کی کاشت شروع کر دی

مزید :

ایڈیشن 1 -