فوج کی آمد اگلی بارش سے پہلے حالات کی بہتری ممکن؟

فوج کی آمد اگلی بارش سے پہلے حالات کی بہتری ممکن؟

  

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

گذشتہ بارشوں کی وجہ سے کراچی میں جس انداز سے تباہی دیکھی گئی اس پر پورے ملک سے بالعموم اور کراچی کے شہریوں کی جانب سے بالخصوص حکومت سندھ کو سخت تنقید کا سامنا رہا، اس کے وزراء میڈیا اور عوامی سطح پر عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے اور ہر سطح پر یہ آواز اٹھائی گئی کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کم از کم کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو بالخصوص ہدف تنقید بنایا گیا جبکہ تحریک انصاف سے عوامی مطالبہ تھا کہ آپ نے اس شہر سے ووٹ لیا تھا،لہذا اگر آپ اس پر کوئی مثبت طرز عمل اختیار نہیں کریں گے تو آپ کو بھی اسی طرح قصور وار سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی سیاسی رسہ کشی کے علاوہ بھی کراچی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے ناتے اس طرح کے سلوک کا سزا وار نہیں جس طرح گذشتہ بارہ برس سے کیا جارہا ہے۔

پہلے یہ بات تھی کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کی وجہ سے ہر کوئی یہاں کام کرنے سے گریزاں تھا، اب کراچی آپریشن کے بعد سندھ حکومت، صوبائی فنڈز سے وہ رقم ادا نہیں کررہی جس کا یہ شہر حقدار ہے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، بالاخر وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے لئے خصوصی احکامات جاری کردیے اور افواج پاکستان کے اداروں نے کراچی میں صفائی ستھرائی کے عمل کا آغاز کردیا۔

کور کمانڈر کراچی کی موجودگی میں این ڈی ایم اے کے سربراہ کی وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی ٹیم کے ساتھ ملاقات ہوئی تو سید مراد علی شاہ نے اربن فنڈنگ کا سارا ملبہ گرین لائن منصوبہ پر ڈال دیا۔ گرین لائن منصوبہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا، مسلم لیگ ن کی حکومت سے پیپلز پارٹی کے اچھے تعلقات تھے، اس وقت ان معاملات پر گفتگو نہیں کی گئی۔ ویسے وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی نگرانی میں شاہراہ فیصل اور یونیورسٹی روڈ کی تزین و آرائش کروائی تھی، بارش کے وقت ان دونوں شاہراہوں پر بھی صورتحال انتہائی وگرگوں دکھائی دی گئی، اس کا جواب شاید سندھ حکومت کے پاس نہیں ہے۔

عوام کی جانب سے ایف ڈبلیو او اور این ڈی ایم اے کے ساتھ افواج پاکستان کا کراچی کے شہریوں کی مدد کیلئے آنا خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ ان کے کام شروع کرنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی بھی بہت متحرک دکھائی دے رہے ہیں، اسے بھی خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے۔ کم از کم مون سون کے تیسرے مرحلے سے پہلے اگر کچھ کام ہوگیا تو صورتحال پہلے کی طرح ابتر نہیں ہوگی۔۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم عمران خان سے خاص طور پر اسی ایجنڈے پر ملاقات کی تھی اور وزیراعظم نے اس کے مستقل حل کیلئے بلدیاتی نظام کے مؤثر ہونے کی بات کی تھی، بڑی حیران کن بات ہے کہ پاکستان کے مسائل اور اس کے حل کا ہم سب کو علم ہے، تمام سیاسی پارٹیاں اور رہنما اس کا ادراک رکھتے ہیں کہ میونسپل مسائل صرف اور صرف بلدیاتی نظام سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن ان کو ایک انجانا خوف لاحق ہے کہ ایک وقت آئے گا جب بلدیاتی نمائندے ان کی جگہ لے لیں گے۔

یہ بات تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو سمجھ لینی چاہیے کہ جمہوریت کا مستقبل اگر محفوظ بنانا ہے تو مقامی حکومتوں کے نظام کو نافذ کرنا پڑے گا، یہ بات درست ہے کہ ایک بااختیار اور فعال بلدیاتی نظام ملک کو نئی قیادت دے گا، لوگ اپنے کام کی بنیاد پر سیاست میں قدم جماسکیں گے، کئی روایتی سیاستدانوں کی سیاست مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی، خاص طور پر اس وقت جب بلدیاتی نظام کو غیرجماعتی بنیادوں پر استوار کردیا گیا، دنیا کے کئی ممالک میں بلدیاتی نظام نے اپنے ملک کو اعلیٰ قیادت فراہم کی ہے۔

عید الاضحیٰ پر عید کے اجتماعات کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ موجود رہا ہے، آئندہ چند روز کے نتائج سے اس پر حتمی رائے قائم ہوسکے گی، لیکن بقرعید کے بعد آلائشوں نے جو پورے شہر میں تعفن پھیلا رکھا ہے، وہ دیگر بیماریوں کا باعث ضرور بنے گا۔ موجودہ بلدیاتی نظام غیر موثر ہونے کی وجہ سے ا ور صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے الائشوں کو ٹھکانے لگانے کا انتظام زیادہ اچھا نہیں تھا۔ اگر ذبیحہ کیلئے شہر کے مضافاتی علاقوں کا استعمال کیا جاتا تو گندگی کے ڈھیر جو جگہ جگہ نظر آرہے ہیں، ان سے بچا جاسکتا تھا۔

کورونا کے کیسز عید کے ایام میں بہت کم رپورٹ ہونے کی اطلاعات ہیں اور اموات بھی دن بدن کم ہوتی جارہی ہیں۔ اگر عیدالاضحیٰ کے بعد محرم الحرام میں بھی صورتحال کنٹرول میں رہی تو پاکستان جلد اس موذی وباء کے شدید دباؤ سے باہر نکل آئے گا جس سے اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ سے شروع ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ اس وقت انڈسٹری اور درآمدات و برآمدات کے نظام کو دھچکا لگا ہے، لیکن پھر بھی برآمدات کا گراف بہتر ہورہا ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زیر بھی پہلے سے زیادہ موصول ہونے کی اطلاعات ہیں، پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار بھی بہتر ہورہی ہے۔ عید قربان اور اس کے علاوہ بھی گوشت اور دودھ کی ضروریات بھی پاکستان اپنے ہاں سے ہی پورا کررہا ہے گویا فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے پاکستان کو مستقبل قریب میں کوئی بڑا خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ انرجی سیکورٹی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی ضروریات، بجلی اور گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہورہی ہیں۔ شہر کراچی میں بجلی کی قیمتوں پر عوامی احتجاج کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، وفاقی حکومت نئی کمپنی آنے سے پہلے ہی بجلی کی قیمتیں بڑھا دے گی تاکہ اس کیلئے پرکشش سرمایہ کاری ماحول بنایا جائے تو یہ گرمی کی اس شدت میں عوام کے ساتھ صریحاً ناانصافی اور ظلم ہوگا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے یہ عندیہ دیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی بہتری کا سفر شروع ہوچکا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ بھی گذشتہ ہفتے بہتر پرفارم کرتی رہی۔ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے مزید قرض لینے کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کورونا وباء کے اثرات کے باوجود اقتصادی اعشاریئے اگر بہتری کی طرف بڑھتے نظر آئیں گے تو ممکن ہے کہ انڈسٹری دوبارہ اپنے ردھم میں آجائے اور بیروزگاری کا اژدھا جو منہ کھولے کھڑا ہے، زیادہ نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے بہتر خبریں آنا بھی خوش آئند ہیں، صوبہ سندھ میں سکھر سے حیدرآباد موٹر وے سیکشن کے آغاز کی نوید چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے سنائی ہے۔ یقینا یہ ایک بڑی خوشخبری ہے اور سندھ کے عوام کے لیے باعث اطمینان بھی کہ موٹر وے کے مکمل ہونے سے سندھ ترقی کے نئے دور میں داخل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی،بارش نے مسائل بڑھائے،سندھ حکومت سے عوام نالاں،فوج کی آمد اگلی بارش سے پہلے حالات کی بہتری ممکن؟

شہر میں قربانی کے باعث آلائشیں جمع، اٹھائی نہ جا سکیں،تعفن پھیل گیا،امراض پھیلنے کا خدشہ

سی پیک منصوبے مکمل ہونے سے معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی،سکھر حیدرآباد موٹر وے کی تکمیل خوش آئند ہو گی

مزید :

ایڈیشن 1 -