کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی

کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی

  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم دشمن کے ان عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں،جن کا مقصد پاکستان اور اس خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے، پاک فوج ایسی کسی بھی کھلی یا خفیہ کوشش کو  ناکام بنانے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے اور مکمل تیار  ہے،اُن کاکہنا تھا عیدالاضحی غیر مشروط قربانی کا درس دیتی ہے ایک سپاہی سے زیادہ قربانی کے اس سبق کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، ہم ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،جو جرأت و بہادری سے بھارتی ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں۔ کشمیری تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنے حق ِ خود ارادیت کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار کنٹرول لائن پر دفاعی خدمات انجام دینے والے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے عیدالاضحی کا پہلا دن اُن کے درمیان گذارا اور دفاعِ وطن کے لئے فوج کی تیاریوں کو  سراہا، اور افسروں اور جوانوں کے حوصلوں کی تعریف کی۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ریاست کو ضم کرنے کی جو کارروائیاں گذشتہ برس 5اگست کو شروع کی تھیں،اُن کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے اس عرصے میں کشمیریوں پر ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی گئی، تین سال کے معصوم بچے کے سامنے اُس کے نانا کو گولی مار دی گئی،جو گھر سے دودھ لینے نکلا تھا، کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے یا اُنہیں ان کے گھر سے ہزاروں میل دور دوسری جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے،گمشدہ نوجوانوں کی لاشیں بھی ملتی ہیں،اس کے باوجود کشمیری نوجوان اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر حق ِ خود ارادیت کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں اور مشکل حالات کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا، بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کی اپیل پر منگل کو پورے کشمیر میں ہڑتال کی گئی اور تمام تر دباؤ کے باوجود موثر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، پاکستان میں بھی اس دن کو یوم استحصال کے طور پر منایاگیا، پاکستان پوسٹ نے یادگاری ٹکٹ جاری کیا،جس کا مقصد دُنیا کو کشمیر کے حالات سے آگاہ کرنا ہے۔

عالمی رہنماؤں نے بھی پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے اقدامات کا اعادہ کیا ہے، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو فون کر کے ترکی کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت جاری رکھی جائے گی،عالم ِ اسلام کے رہنماؤں میں ترک صدر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے دورہئ بھارت کے دوران بھی کشمیر پر کھل کا اظہارِ خیال کیا تھا اور اس سلسلے میں بھارتی رہنماؤں کی ناراضی کی پروا نہیں کی تھی، اُن کے دورے کے دوران ہی بھارتی میڈیا نے ان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا اور حکومت نے سفارتی سطح پر احتجاج بھی کیا تھا،لیکن انہوں نے جس موقف کو درست سمجھا اس کا نہ صرف برملا اظہار ہی کیا،بلکہ بھارتی احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مبنی برحق موقف کو جاری رکھنے کا اعلان کیا، اس کے برعکس عالم ِ اسلام کی کئی نامور شخصیات نے کشمیریوں کے ناگفتہ بہ حالات سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ایک دوست مُلک تو اس سلسلے میں اس حد تک آگے جا چکا ہے کہ بھارت کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا رکن بنانے کے لئے بھی کوشاں ہے اور اس کی دعوت پر بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی اور اس موقع پر کہا گیا کہ او آئی سی کی رکنیت بھارت کا حق ہے، جو اسے مل کر رہے گا، بھارت اس بنیاد پر رکنیت کا دعویدار ہے کہ وہاں 20کروڑ بھارتی مسلمان بھی رہتے ہیں،لیکن ان مسلمانوں کے ساتھ اس کا جو سلوک ہے اور مودی کے عہد ِ ستم میں اس بُرے سلوک نے  تو  ہر حد عبور کر لی ہے۔ یہ مسلمان اس وقت بھی بھارت میں رہ رہے تھے جب او آئی سی تشکیلی دور سے گزر رہی تھی،اِس سلسلے میں رباط (مراکش) کے اجلاس کی مثال دی جا سکتی ہے، جب پاکستانی وفد کے سربراہ نے بھارتی سفیر کو اجلاس میں دیکھ کر بائیکاٹ کر دیا تھا اور اس وقت تک اجلاس میں نہیں گئے جب تک بھارتی نمائندے کو نکال نہیں دیا گیا،اس کے بعد بھی بھارت رکنیت کی کوششیں کرتا  رہا، لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ کہ بھارت کشمیر پر متنازع اقدامات کرتا چلا جا رہا ہے اور اِس سلسلے میں اقوام متحدہ سمیت کسی بھی فورم سے اٹھنے والی احتجاجی صدا پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ رویہ اسرائیل کے مماثل معلوم ہوتا ہے جس نے عالمی احتجاج کی پروا کئے بغیر فلسطین میں یہودی بستیوں کی آباد کاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور عالمی ادارے کی قراردادوں کی کوئی پروا نہیں کی۔بھارتی حکومت کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے وہی حربے آزما رہی ہے، جو اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان میں ”یوم استحصال“ منایا تو جا رہا ہے، لیکن حکومت نے اِس ضمن میں اپوزیشن جماعتوں سے اعلیٰ ترین سطح پر کوئی رابطہ نہیں کیا،جمعیت علمائے اسلام نے احتجاجی ریلیوں کا اعلان کر رکھا ہے اور جماعت اسلامی بھی کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے ایسا کر رہی ہے،حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتیں بھی اپنے اپنے پروگرام کر  رہی ہیں،لیکن کسی جگہ کوئی ایسی عوامی تقریب نہیں ہو رہی جہاں حکومت اور اپوزیشن اکٹھے نظر آئیں یا قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف شانہ بشانہ ہوں۔ وزیر خارجہ کی دعوت پر مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی نمائندے ایک ساتھ مل بیٹھتے اور کشمیر کی تحریک آزادی سے اپنی وابستگی کے اظہار کے لیے یک آواز ہوتے،کیا ہی بہتر  ہوتا کہ وزیراعظم اس اجلاس کے خود میزبان ہوتے اور تمام پارلیمانی جماعتوں کی اعلیٰ ترین قیادت یک جا نظر آتی۔

مزید :

رائے -اداریہ -