آٹے کا بحران،الزامات کی بوچھاڑ؟

آٹے کا بحران،الزامات کی بوچھاڑ؟

  

ملک میں آٹے کی قلت اور مہنگائی دور نہیں ہو رہی، خیبرپختونخوا اور سندھ میں آٹے کے نرخ بڑھ گئے ہیں اور قلت بھی محسوس کی جا رہی ہے، پنجاب میں بھی حالات زیادہ بہتر نہیں ہیں، صوبائی حکومت رعایتی نرخوں پر فلور ملوں کو گندم مہیا کر کے860 روپے(20کلو تھیلا) صارفین کو مہیا کر رہی ہے، تاہم اس کے نہ ملنے کی شکایات ہیں پنجاب اور سندھ میں چکی آٹا 66روپے سے 70روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے، خیبرپختونخوا میں فلور ملز کے آٹے کے نرخ ان کے برابر ہیں،اس پر عوامی سطح پر بے چینی ہے کہ سندھ، وفاق چپقلش یہاں بھی در آئی اور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرایا اور اس سے کہا کہ سرکاری گوداموں سے گندم رعایتی نرخوں پر ریلیز کی جائے تاکہ فلور ملیں سستا آٹا مہیا کر سکیں۔ انہوں نے اس حوالے سے گورنر راج کی طرف بھی اشارہ کیا، جوابی طور پر سندھ کے وزراء نے سارا الزام وفاق پر دھرا اور جواب دیا کہ گندم برآمد کر نے سے بحران پیدا ہوا،جو  اب تک سنبھالا نہیں گیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ سندھ میں آٹے کی قلت اور مہنگائی نہیں،چکی آٹا بھی پنجاب کے نرخوں کے برابر ہی ہے۔یہ آٹا بازار سے خریدی گئی گندم کاہے، قومی اقتصادی کونسل نے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔اس کا انتظام ابھی نہیں ہو پایا، یہ عجیب بات ہے کہ گندم کے ذخائر ہدف سے زیادہ ہونے کے دعوے اور فلور ملوں کو رعایتی نرخوں پر گندم مہیا کرنے کے علاوہ اب درآمد کی اجازت کے باوجود حالات قابو میں نہیں رہے۔ وفاق کی طرف سے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کے اعلان بھی کام نہیں آئے۔ بحران موجود اور اس کے بڑھنے کے امکانات ہیں، نہ تو چینی سستی ہوئی، نہ آٹے کے نرخ کم ہوئے اور نہ قلت دور ہوئی۔اس حوالے سے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -