پاکستان کشمیر اور پاک فوج

پاکستان کشمیر اور پاک فوج
پاکستان کشمیر اور پاک فوج

  

تحریکیں، عملی تحریکیں، آزادی کی تحریکیں کبھی ناکام نہیں ہوتیں لیکن نتائج کے حصول کے لئے وہ حالات کے مطابق اندازِ فکر و عملی بدل لیتی ہیں۔ مسلمانوں میں آزادی کی تحریکیں تقریباً ایک صدی سے چل رہی ہیں برطانوی یورپی استعماری طاقتوں نے نو آبادیات قائم کیں۔ قوموں کو غلام بنایا۔ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے لیکن بالآخر نو آبادیاتی نظام ختم ہوا۔ جنگِ عظیم اول کے دوران یورپی طاقتوں نے مل کر خلافتِ عثمانیہ ں کے حصے بخرے کر کے بانٹ لئے۔ خلافت عثمانیہ کے بطن سے 62 ممالک بنے جہاں استعماری قوتوں نے اپنے اپنے قدم ایک نئے طریقے سے جمائے مشرق وسطیٰ اور دیگر جگہوں پر جغرافیائی حد بندیاں اس طرح کی گئیں کہ ایک ہی رنگ و نسل اور مذہب کے لوگوں کے درمیان مستقل تصادم کی صورت پیدا ہو گئی تقریباً ایک صدی ہونے کو ہے ایسے ہی استبدادی حکمرانوں کے نمائندہ حکمرانوں کی حکمرانی کے باعث مسلمان، وافر وسائل ہونے کے باوجود غربت و افلاس کا شکار ہیں۔ چین نے اپنی آبادی کے بل بوتے پر اپنی کثرت آبادی کو کمزوری کی بجائے اپنی طاقت میں ڈھالا ہے اور آج وہ دنیا کی اولین معاشی قوت بننے جا رہا ہے۔ ہم افرادی قوت کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کی بہتات کے باوجود قوت بننا تو دور کی بات ہے ایک امت اور ملت بھی نہیں بن سکے ہیں عرب و عجم کے جھگڑے تو سمجھ میں آتے ہیں یہاں تو عرب عرب کا دشمن بنا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی طاقت اور وسائل تباہ و برباد ہو رہی ہے۔

کشمیری مسلمان اور فلسطینی عرب مسلمان 70 سالوں سے ایک آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن کامیابی دور دو رتک کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ، صہیونیوں کی زیادتیاں اور ریاست اسرائیل کی نا انصافیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور سنا جا چکا ہے مسئلہ فلسطین برطانیہ کا پیدا کردہ ہے جس کی ساخت پرداخت امریکی صہیونی عیسائی کر رہے ہیں۔ یہودی، امریکی انتظامیہ کے تحت فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں دوسری طرف مسئلہ کشمیر بھی برطانوی استعمار کا پیدا کردہ ہے ہنود، برطانوی و امریکی صہیونی لابی کی آشیر باد کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کا حقِ خود ارادیت صلب کر کے انہیں مستقل غلام بنانے کی راہ پر گامزن ہیں گزشتہ سال آج ہی کے دن یعنی 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے اسے انڈین یونین میں ضم کر لیا ہے کشمیریوں کے ممکنہ رد عمل سے بچنے کے لئے مودی سرکار نے یہاں سیکیورٹی فورسز کی تعداد 9 لاکھ تک بڑھا دی ہے یہاں ایک سال سے کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ لاک ڈاؤن پوری عسکری ریاستی قوت کے ساتھ نافذ العمل ہے کمیونیکیشن کے ذرائع بھی مفلوج کر دیئے گئے ہیں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کا گلہ گھونٹا جا چکا ہے۔

غیر ملکی صحافیوں کو تو یہاں آنے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا حد تو یہ ہے کہ لوکل میڈیا کی بھی زبان بندی کی جا چکی ہے۔ بھارت سرکار کے نظریاتی حامی کشمیری لیڈروں پر بھی عرصہ حیات بند کیا جا چکا ہے محبوبہ مفتی اور شیخ عبدالللہ خاندان بھی بھارت کا ہمنوا نہیں رہا۔ مودی سرکار کی مسلمان کش پالیسی ہی نہیں بلکہ اقدامات کے باعث کشمیری مسلمان یک زبان ہو چکے ہیں اور ان کا ایک ہی نعرہ ہے آزادی اور پاکستان، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ویسے تو طویل عرصہ ہو چکا ہے لیکن تحریک الحاق پاکستان کی جدوجہد کو 72 سال گزر چکے ہیں۔ تقریباً اتنا ہی عرصہ فلسطینی مسلمانوں کی تحریک آزادی کو ہو چکا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تحریکیں کامیاب کیوں نہیں ہو سکی ہیں؟ جبکہ اس عرصے کے دوران افغان مسلمان 2 سپر طاقتوں کو شکست دے کر اپنی آزادی حاصل کر کے ان کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دے چکے ہیں دسمبر 1979ء میں اشتراکی روس نے افغانستان پر قبضہ کر کے اسے اشتراکی سلطنت میں شامل کرنے کی کاوش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ہو سکی  اور وہ 1988ء میں بے نیل و نرام یہاں سے لوٹ گئے۔ جبکہ افغانستان کی آزادی پر 9/11 کے بعد 2000ء میں حملہ کیا گیا لیکن افغانوں نے  19 سال جدوجہد کر کے امریکی اتحادی افواج کو شکست د ے کر یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانوں کی جدوجہد آزادی دو مرتبہ کامیابی سے ہمکنار کیوں ہوئی اور کشمیری و فلسطینی تحاریک آزادی 72 سالوں میں بھی کامیاب کیوں نہ ہو سکیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے تاریخ کے ایک ادنیٰ طالبعلم کے طور پر مجھے اس معاملے پر مکمل شرح صدر حاصل ہے کہ افغانوں کی تحریک آزادی کی دو مرتبہ کامیابی میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج شامل ہیں۔ طالبعلم یہ بات کسی جذباتی کیفیت میں نہیں کہہ رہا ہے بلکہ یہ مطالعہ کا نچوڑ ہے اس سے پہلے میں افغان تحریک مزاحمت بلکہ تحاریک، مزاحمت کے ایک اساطیری کردار گلبدین حکمت یار کی گفتگو کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ ایک ملاقات میں انہوں نے وسط ایشیائی مسلمانوں کی اشراکیوں کے خلاف تحریک آزادی کی ناکامیوں کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ایک تاریخی بات کہی کہ وسط ایشیائی ریاستوں میں بسنے والے افغانوں سے شاید زیادہ جری سخت کوش اور غیرت مند ہوں گے لیکن انہیں ان کی تحریک آزادی کو، کوئی ”پاکستان“ دستیاب نہیں تھا اس لئے وہ ناکام ہو گئے۔ یہ بات کوئی جذباتی یا واگوئی نہیں ہے بلکہ تاریخی شواہد سے ثابت شدہ ہے کہ گوریلا جنگ، جدوجہد کے لئے ایک ”محفوظ پناہ گاہ“ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں گوریلا جنگجو کے بیوی بچے محفوظ ہوں اور وہ خود بھی اپنا جنگی کردار ادا کرنے کے بعد سستانے کے لئے آ سکے۔

افغانوں کو یہ ”محفوظ پناہ گاہ“ پاکستان کی شکل میں دستیاب تھی لاکھوں افغان اور ان کی فیملیاں یہاں حالتِ امن میں زندگیاں گزارتی رہی ہیں اشتراکی روس اور امریکی اتحادیوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں مصروف افغان مجاہدین و طالبان کو اپنے خاندانوں کی سلامتی کی فکر نہیں ہوتی تھی ان کے خاندان یا تو آزاد کردہ افغانستان کے علاقوں میں رہائش رکھتے تھے یا پاکستان جیسی محفوظ پناہ گاہ میں۔ طالبان کی مشہور زمانہ ”کوئٹہ شوریٰ“ کیا تھی۔ یہی طالبان لیڈروں کا کوئٹہ میں پناہ گزین ہونا۔ حقانی نیٹ ورک کے بانی مولانا جلال الدین حقانی پاکستان میں محفوظ زندگی گزارتے رہے ہیں۔ انجینئر گلبدین حکمتیار، عبدالرب الرسول سیاف، پیر جلانی اور صبغت اللہ مجددی جیسے افغان گوریلا لیڈر یہاں پاکستان میں اپنے دفاتر چلاتے تھے۔ ان کے پاس اعلیٰ درجے کی گاڑیاں اور وسیع رینج کے ٹیلی کمیونیکشن نیٹ ورکس ہوتے تھے۔ گاڑیاں بھی ہائی پاور وائرلیس سسٹم کے ذریعے افغانستان میں پھیلے ہوئے جنگجو اپنے گروپوں کے ساتھ منسلک رہتے تھے۔ پاکستان ان کی تحاریک آزادی کے لئے بیس کیمپ اور محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا گلبدین حکمت یار نے پاکستان کے بارے میں تاریخی حوالہ دیا۔

تحریک آزادی نے 5 اگست 2019ء میں ایک نیا ٹرن لیا ہے بلکہ یوں کہئے کہ مودی سرکار نے بھارتی سیکیولر ازم کا نقاب الٹ کر دنیا کو اسکا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ ہندوستان کبھی بھی جمہوری اور سیکیولر ریاست نہیں تھا وہ ایک ہندو، بلکہ معتصب ہندو ریاست تھا اور مودی نے آکر اس کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے کشمیری مسلمان تو 1947ء میں تقسیم ہند سے پہلے بھی غلامی کی زندگی ختم کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔

ڈوگرہ حکمرانوں کے جبر و ستم کا نشانہ تھے۔ قیامِ پاکستان کی تحریک نے انہیں کامیابی و کامرنی کی جدوجہد کا یقین دلایا۔ حتیٰ کہ 1947ء میں تقسیم ہند پلان کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ بننے جا رہا ہے لیکن کانگریسی حکمرانوں نے سازش کے تحت مسئلہ کشمیر پیدا کیا۔ آزادی کشمیر کی تحریک تحریک الحاق پاکستان میں بدل گئی۔ 2019ء میں اس تحریک میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے اب تو ہندوستان میں بھی عدل پسند اور لبرل عناصر مسلمانوں کے ساتھ ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ایٹمی پاکستان اور ہماری عظیم مسلح افواج تحریک الحاق پاکستان کی ضامن ہیں۔ ان شاء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

مزید :

رائے -کالم -