مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ، نیا نقشہ جاری،نیا نقشہ کشمیریوں کے اصولی موقف کی تائید، بھارت کے غاصبانہ قبضے کی نفی اور پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے، اقوام متحدہ میں یہی پیش کیا جائے گا: عمرا ن خان

مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ، نیا نقشہ جاری،نیا نقشہ کشمیریوں کے اصولی موقف ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے قوم کی امنگوں کی درست ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان کا  نیاپولیٹیکل نقشہ جاری کر دیا ہے۔ نقشے کی رونمائی وزیراعظم کے زیر صدارت ایک تقریب میں کی گئی۔اس تاریخی موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نقشہ پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ کابینہ، تمام اپوزیشن اور کشمیری لیڈرشپ نے نقشے کی تائید کی ہے۔ آج سے سارے پاکستان میں یہ آفیشل نقشہ ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھائیں گے، عالمی برادری اپنا وعدہ پورا کرے۔ کشمیریوں کو ان کا حق ابھی تک نہیں ملا۔مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اپنی منزل پر ضرور پہنچیں گے۔ جب تک زندہ ہوں، کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، انشاء  اللہ جلد منزل پر پہنچیں گے۔ میرا تجربہ ہے کہ پہلے تصور، پھر منزل تک پہنچا جاتا ہوں۔ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا، یہ نقشہ پہلا قدم ہے۔نیانقشہ پاکستان کی جغرافیائی ؔحدود کا تعین کرے گا  نئے نقشے میں مقبوضہ کشمیر بھی پاکستان کا حصہ ہے۔۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیا نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائیگا اور کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں آئیگا۔ وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اعلان کیا کہ ہماری منزل سری نگر ہے اور یہ نیا نقشہ دنیا بھر میں استعمال کیا جائیگا۔ پاکستان کا نیا سرکاری نقشہ کشمیریوں کے اصولی مؤقف کی تائید جبکہ ہندوستان کے غاصبانہ اقدام کی نفی کرتا ہے، عمران خان نے کہا کہ نیا نقشہ ملک بھر کے دفاتر، سکولوں، کالجزمیں بھی لگایا جائے گا،۔پچھلے سال 5اگست کوجو ہندوستان نے غاصبانہ اور غیرقانونی قدم اٹھایا تھا اس کی نفی کرتا ہے۔آج سے ہمارا سرکاری پولیٹیکل نقشہ یہ ہوگا۔ یہی نقشہ جامعات، کالجز اور سکولوں میں آیا کرے گا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پوری قوم اور حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں یہ اعزاز اس حکومت کو ملا ہے، انتظامی نقشے تو پہلے بھی آتے تھے،لیکن پہلی بارقوم کے سامنے ایک ایسا نقشہ رکھا گیا ہے، جو قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔آج حکومت پہلی بار کھلم کھلا اپنا مؤقف پیش کررہی ہے، اس سے پہلے بندکمروں میں کشمیریوں کی ترجمانی کی جاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر،آزادکشمیر، گلگت بلتستان، کے علاقوں کا  مسئلہ حل کررہے ہیں۔لیکن ہندوستان نے پانچ اگست کو غیرقانونی اقدام سے ایک نقشہ جاری کیا اور دنیا کے ساتھ مذاق کیا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان کو اپنے علاقے میں سمو دیا، جو سلامتی کونسل کے  فیصلوں کیخلاف ہے۔ہمارا مؤقف ہے کہ یہ سارا علاقہ متنازع اور حل طلب ہے، اس علاقے کا حل سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکلے گا۔پہلے نقشے میں جموں کشمیر میں ابہام دکھایا گیاجاتا تھا، لیکن آج ہم نے اس کو شامل کرلیا ہے، موجودہ نقشے میں ایل اوسی پر ریڈ لائن کو چین کے ساتھ ملا دیا ہے۔نقشے میں واضح کیا گیا کہ سیاچن کل بھی ہمارا تھا آج بھی ہمارا ہے۔ہماری منزل سری نگر ہے جو ہمارا خواب ہے۔ اس سے قبل  وفاقی کابینہ نے  پاکستان کے نئے پولیٹیکل نقشے کی منظوری سمیت متعدد ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دیدی ،ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک اور پاکستان کے آفیشل نقشہ کی تیاری اور اجراء کی منظوری دیدی گئی ہے۔منگل کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وباء کیخلاف حکومتی اقدامات، ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی زیر بحث رہی۔شرکاء نے کورونا وباء کیخلاف حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کابینہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک پاکستان کی منظوری دے دی گئی،پاکستان کے آفیشل نقشہ کی تیاری اور اجراء  کی منظوری بھی دی گئی ہے،نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی کارگردگی پر بریفنگ دی۔میڈیا ہاؤسز کے واجبات کی ادائیگیوں پر کابینہ کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا، گیس کی تقسیم کے منصوبوں پر کابینہ کے شرکاء کو اعتماد میں لیا گیا۔کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کے بورڈ کی تشکیل نوبھی کردی گئی۔کابینہ کو اقتصادی ترقی اور معاشی اعشاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق پیشرفت رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی۔وزارت آئی ٹی کے ماتحت یوایس ایف کمپنی کیسی ای اوکی تعیناتی کی منظوری  دی گئی۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے چئیرمین کی تقرری  بھی کر دی گئی ہے، پی آئی اے کے آر پی ٹی، ایریل ورک اور چارٹر لائسنس کی تجدید کردی گئی۔ کابینہ پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ روات کے چارٹر کی منظوری دی گئی ہے۔ ایف بی آر حکام نے  شہریوں کے ٹیکس ریکارڈ پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے  ہوئے کہا کہکا تمام پاکستانیوں کا ٹیکس ریکارڈ پورٹل پر ڈالنے کا فیصلہ  کیا گیا ہے  وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ  ایف بی  آر حکام  فوری طور پر  پورٹل بنائے  پورٹل پر  کابینہ اراکین، اراکین پارلیمنٹ، بزنس کمیونٹی کا ٹیکس ریکارڈ  ڈالا جائے  ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم  نے  حکام کو کہا ہے کہ  پورٹل پر عام ٹیکس دہندگان  کی بھی ٹیکس تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ وفاقی کابینہ نے  پاکستان کے سرکاری نقشے کی بھی منظوری دے دی ہے  جس میں مقبوضہ کشمیر کو  پاکستان کا حصہ ظاہر کیاگیا ہے  ۔ دریں اثناء  وفاقی کابینہ اجلاس میں  ملکی معاشی صورتحال پر  وفاقی وزیر اسد عمر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ   کہ کرونا کی مشکل صورتحال میں بھی پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوامشکل صورتحال کے باوجود ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ ہوا بھارت کی برآمدات اور ترسیلات زر دونوں میں کمی آئی  انہوں نے کہا کہ درست معاشی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت تیزی سے اوپر جا رہی ہے اقتصادی صورتحال پر بریفنگ پر  وزیراعظم نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ  خوشی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ملک سے رشتہ اور مظبوط ہوا کابینہ اراکین نے  ترسیلات زر  میں اضافہ پر وزیراعظم  عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں  وزیراعظم کو مقبوضہ  کشمیر کے حوالے سے اب تک  کئے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ  دی گئی  ذرائع کے مطابق  کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کا ہے اور پاکستان کا رہے گا  ذرائع نے مزید بتایا کہ لداخ کے معاملے پر بھی کابینہ کے اجلاس میں کھل کر گفتگوکی گئی  لداخ کے معاملے پر 1963 کے معاہدے کو زیر بحث لایا گیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں   مشیر برائے اصلاحات ڈاکٹر  عشرف حسین پر شدید تنقید کی گئی   کابینہ اراکین  کا کہنا تھا کہ  تحریک انصاف ریفارمز  کی حکومت ہے  اب تک کیا پیش رفت ہوئی جواب دیں  

نیا نقشہ

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) حکومت کی اپیل پر بھارتی جبر اور جارحیت کے خلاف (آج) بدھ پانچ اگست کو یوم استحصال کشمیر منایا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منایا جائیگا،وزیر اعظم مظفرآباد میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریں گے، ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائیگی،عالمی لیڈرز کو خطوط لکھے جائیں گے، سوشل میڈیا پر مہم چلائی جائیگی، پاکستانی سفارتکار دنیا بھر میں میڈیا پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق 5 اگست کو بھارتی اقدام کا ایک سال مکمل ہونے پر ہم نے ایکشن پلان مرتب کیا ہے،وزیر اعظم مظفرآباد میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریں گے، 5 اگست کو پاکستان میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی جائیگی،۔دوسری طرف احتجاجی  مظاہروں کے ڈر سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے مزید پابندیاں عائد کر دیں، سری نگر میں کرفیو لگا دیا گیا۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کو ایک سال ہونے پر بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں، سری نگر کو فوجی محاصرے میں لے لیا گیا ہے، کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ بھارتی فوج جگہ جگہ ناکے لگا کر بیٹھ گئی ہے، غاصب فورسز نے چھاپے مار کر مختلف شہروں سے متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔مقبوضہ وادی میں گزشتہ ایک برس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، بھارتی فوج نے اس تمام عرصہ کے دوران کشمیری عوام کو حبس بے جا جیسی صورتحال میں رکھا ہوا ہے۔ عیدالاضحی کے دوران کشمیری مسلمانوں کو نماز عید تک ادا کرنے نہیں دی گئی،

یوم استحصال

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے  ملکی سیاسی قیادت کو  مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ  پاکستانی قوم، تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی اور عسکری قیادت کشمیر کے معاملے پر یکساں موقفرکھتی ہیں، جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق، حق خودارادیت مل نہیں جاتا پاکستان اس وقت تک اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا  تفصیلات کے مطابق منگل کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس  منعقد ہوئی آل پارٹیز کانفرنس میں  میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیرمین سینٹ صادق سنجرانی،وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور، چیرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی،وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی  رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سینیٹر مشاہد حسین سید، فرخ حبیب،  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفر الحق،  سینیٹر مرتضی جاوید عباسی، خواجہ آصف، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، سینیٹر شیریں رحمان،  جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، مولانا عبدالاکبر چترالی، ایمل ولی خان، سینیٹر ستارہ ایاز، سینیٹر انوار الحق کاکڑ کابینہ کے ارکان اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت  دیگر رہنماؤں نے شرکت کی وزیر خارجہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ  دی  اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام کشمیری گذشتہ سال، 5اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں، پاکستان نے بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر بین الاقوامی فورم پر بے نقاب کیا، بھارت سرکار کی ہندتوا پالیسی نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے خطے کے امن و امان کیلئے خطرات کا باعث ہے،بھارت، مقبوضہ کشمیر  میں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں، آر ایس ایس کی سوچ پر گامزن بی جے پی کی سرکار نے اپنی ہندتوا سوچ کے سبب  نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے، بھارت جبر و استبداد اور قید و بند کی اذیتوں کے باوجود نہتے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا، آج پوری دنیا کے سامنے بھارت سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے، دنیا بھارت کی منافرت پسند پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، پاکستان کی پوری قوم، تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی اور عسکری قیادت کشمیر کے معاملے پر یکساں موقف کی حامل ہیں، جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق، حق خودارادیت، مل نہیں جاتا پاکستان اس وقت تک اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

کشمیر کانفرنس

 

 

 

 

مزید :

صفحہ اول -