مقبوضہ کشمیر میں سخت، امتیازی پابندیاں عائد، بے گناہ افراد گرفتار

مقبوضہ کشمیر میں سخت، امتیازی پابندیاں عائد، بے گناہ افراد گرفتار

  

 نیویارک(آن لائن) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم  ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکام آئینی حیثیت کی منسوخی کے صرف ایک سال بعد ہی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں پر سخت اور امتیازی پابندیاں عائد کرنا شروع ہو گئے ہیں۔  نیویارک میں ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیاء کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے جاری بیان میں کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے آزادانہ تقریر، معلومات تک رسائی، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کے حقوق پر غیرضروری پابندیاں سخت کردی گئی ہیں۔بھارتی حکام نے نقل و حرکت کی آزادی پر وسیع پابندیاں عائد کیں، عوامی جلسوں پر پابندی عائد کی، ٹیلی مواصلات کی خدمات اور تعلیمی اداروں کو بند کردیا اور ہزاروں افراد کو نظربند کیا گیا جنھیں گرفتاری کی دھمکی دی جارہی ہے جبکہ انٹرنیٹ تک رسائی بھی نہیں ہے۔احتجاج کو روکنے کے لئے حراست میں لئے گئے ہزاروں افراد میں تین سابق وزرائے اعلیٰ سمیت ممتاز سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ پولیس نے عدالتوں کو بتایا کہ 144 بچوں کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔ حکومت نے پر امن نقادوں کو روکنے کے لئے انسداد دہشت گردی اور بغاوت کے سخت قوانین کا استعمال کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 جون 2020 کو حکام نے مبینہ طور پر ایک تاجر مبین شاہ پر بغاوت کا الزام عائد کیا۔ جب انہوں نے رہائش گاہ کی پابندیاں ختم کرکے جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپریل میں  پولیس نے گوہر گیلانی اور پیرزادہ عاشق، دونوں صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کے خلاف فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس یا رپورٹنگ ملک مخالف ہیں۔ 31 جولائی کو ایڈیٹر قاضی شبلی جو پہلے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت تھے، سے پوچھ گچھ کی گئی اور انھیں حراست میں لیا گیا۔عالمی حقوق کے ادارہ نے جموں و کشمیر کے لئے بھارت کی نئی میڈیا پالیسی پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کے تحت حکام صحافیوں اور ایڈیٹرز کے خلاف تعزیری کارروائی کریں۔حکام نے جنوری میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بنیادی حق سمجھنے کے لئے بمشکل ہی سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کی ہے، جس میں صرف سست رفتار 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات کی اجازت دی گئی۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، مشیل بیچلیٹ نے بھی جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے حقوق کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کریں۔ 

ہیومن رائٹس واچ

ا

مزید :

صفحہ آخر -