ہیلتھ پروفیشنلز کی سول ایوارڈز کیلئے  نامزد گیاں، طبی حلقوں میں نئی بحث شروع

ہیلتھ پروفیشنلز کی سول ایوارڈز کیلئے  نامزد گیاں، طبی حلقوں میں نئی بحث شروع

  

 ملتان (وقا ئع نگار) محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے کورونا وائرس کے کیخلاف خدمات(بقیہ نمبر26صفحہ6پر)

 انجام دینے والے ہیلتھ پروفیشنلز کی'سول ایوارڈ 'کیلئے نامزدگیوں کو طبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے کورونا وائرس کے سبب شہید وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا سمیت 12 ہیلتھ پروفیشنلز کو سول ایوارڈز کے لئے نامزد کیا ہے۔اسمیں دیگر 11 ہیلتھ پروفیشنلز زندہ ہیں۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کی ایک ٹیکنیشن کائنات نایاب بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کو نشان امتیاز،جبکہ کائنات نایاب کو تمغہ امتیاز دیا جائے گا۔طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب شہید ہونے والی نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی سینیئر ڈیمانسٹریٹر ڈاکٹر غزالہ شاہین سمیت اس وباء  کیخلاف جنگ میں شہید ہونے والے دیگر ڈاکٹروں و ہیلتھ پروفیشنلز کو سول ایوارڈز کے لئے نامزد نہیں کیا گیا ہے۔طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کے علاوہ اس فہرست میں سفارشی شامل کئے گئے ہیں۔اسکے علاوہ ایسے زندہ لوگوں کو نامزد کیا گیا جو حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔جبکہ کورونا کی وبا میں فرنٹ لائن پہ لڑنے والے ینگ ڈاکٹرز،ہاؤس آفیسرز،پوسٹ گریجویٹ ٹرینی،میڈیکل آفیسرز، سینئر رجسٹرارز کا نام تک بھی نہیں شامل نہیں ہے۔پہلے رسک الاؤنس کے نام پر ڈاکٹروں،نرسوں،پیرا میڈیکل سٹاف،ہیلتھ پروفیشنلز کو بیوقوف بنایا گیا اور ہر محکمے کو کورونا کی آڑ میں اضافی تنخواہ دی گئی جبکہ ہیلتھ پروفیشنلز کو کچھ نہیں دیا گیا اور اب ' سول ایوارڈ ' کے نام پہ پروفیسرز اور سفارشی لوگوں کو چنا گیا ہے۔

بحث

مزید :

ملتان صفحہ آخر -