تبلیغی جماعت کے رکن کی  ضمانت بعد از گرفتاری منظور

   تبلیغی جماعت کے رکن کی  ضمانت بعد از گرفتاری منظور

  

 ملتان (خصو صی ر پو رٹر) ہائیکورٹ ملتان ڈویڑن بنچ کے ججز جسٹس(بقیہ نمبر10صفحہ6پر)

 چوہدری مشتاق احمد اور جسٹس اسجد جاوید گھرال نے قرنطینہ سینٹر سے فرار ہوکر ایس ایچ او پر حملہ کرنے کے مقدمہ میں ملوث تبلیغی جماعت کے رکن کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ (7) لگانے اور خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی میں مقدمہ چلانا بلاجواز ہے ایس ایچ او کو زخمی کرنا قاتلانہ حملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ملزم عبدالرحمان نے وکیل سید اطہر شاہ بخاری کے ذریعے درخواست ضمانت بعد از گرفتاری دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والا تبلیغی جماعت کا رکن ہے۔کورونا وائرس کی سنگینی کا معلوم نہیں تھا۔کوٹ ادو کے تبلیغی مرکز کو جب قرنطینہ قرار دیا گیا تو وہ وہاں سے بھاگ کر ایک گھر میں چھپ گیا جب پولیس پارٹی نے گھر سے نکالنا چاہا تو انہوں نے بلیڈ سے تھانیدار پر حملہ کر دیا جس پر  میڈیکل رپورٹ میں  ضربات کو خفیف قرار دیا گیا جس کی سزا زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے ملزمان 29 مارچ سے جیل میں قید ہے اس کا دماغی توازن بھی نارمل نہیں اس کے علاوہ یہ مقدمہ قاتلانہ حملے اور دہشت گردی کا نہیں بنتا۔تاہم عدالت عالیہ نے کونسل کے دلائل سے اتفاق کیا اور ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

گرفتاری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -